ماہ مبارک ربیع الاول ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ تحریر: محمد عبداللہ

بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے ”لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِہِمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِن کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد ”ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان

کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَن کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الآخِرَ وَذَکَرَ اللَّہَ کَثِیرًا”. بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں ”جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے ”وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ ? أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَیٰ

أَعْقَابِکُمْ ? وَمَن یَنقَلِبْ عَلَیٰ عَقِبَیْہِ فَلَن یَضُرَّ اللَّہَ شَیْئًا ? وَسَیَجْزِی اللَّہُ الشَّاکِرِینَ” ”اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاو? گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”.ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ”اللہ کی قسم! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی،

کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.