امت مسلمہ کا زوال اورسیرت نبی ؐ۔۔۔تحریر: عائشہ یاسین

”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے، اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں“۔33 اللہ تعالی نے تمام کائنات تخلیق کی۔ کہکشاں اور قوس و قزح کے رنگ بکھیرے۔ چاند، تارے اور سیارے بنائے۔ سورج کو منور کیا، آسمان کو وسعت بخشی، زمین کو ٹھنڈا کیا اور کن فیکون کی گونج نے تخلیق کا عمل جاری رکھا۔ کائنات کے وجود میں آتے ہی اللہ تعالی نے اس کی حدیں مقرر کیں اور ایک نظام کے تحت یہ عالم رواں ہوا۔ فرشتے اور جنات کو پیدا کیا اور آدم کو اس کا خلیفہ مقرر کیا۔ آدم کی تخلیق اور آدم کو زمین پر اتارنے کے بعد تقریبا ایک لاکھ چالیس ہزار پیغمبروں اور انبیاء کا سلسلہ شروع کیا اور اس سلسلے کی آخری کڑی سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھہرایا اور امت مسلمہ کو اپنی پسندیدہ قوم کی ودعیت بخشی۔ ”اللہ اور اس کے رسول پر جو ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، وہ جہنمی ہیں“۔ ( سورہ حدید 19)ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کے بھیجے گئے۔ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل بنایا اور کائنات آپ ﷺ کے لیے آراستہ کیا۔

آپ ﷺکی شخصیت جامع اور مکمل ہے۔اس بات کا اقرار صرف دنیا کے مسلمان ہی نہیں کرتے بلکہ غیر مسلم بھی تصدیق کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب کے سیاسی، مذہبی اور سماجی اسکالر، مفکرین، مورخین اور دانشور متفق ہیں کہ آپﷺ کی ذاتِ اقدس میں وہ تمام خوبیاں، صفات اور صلاحیتیں تھیں جو کسی عالمی رہنما میں ہونی چاہئے۔آپ ﷺ ایک بہترین معلم ، رہنما اور رہبر بھی ہیں تو ساتھ ہی اعلی قیادت اور سیاسی رہنما بھی۔ اس کا اعلی نمونہ ہمیں ریاست مدینہ کی صورت میں ملتی ہے جہاںمتوازن نظام عدل و انصاف مرتب کیا گیا جس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس قوم کو اللہ نے منتخب کیا ہو اور جو قوم سیدالزمان حضرت محمد ﷺکی امتی ہو وہ کیسے زوال پذیر ہو سکتی ہے؟ واقعی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ مسلمان نہ صرف وسطی ایشیاء بلکہ دنیا کے ہر کونے میں اپنی شناخت اور تشخص کھو بیٹھے ہیں۔ جبکہ ہم اب بھی اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید کے امین ہیں۔ ہمارے سینے قرآن کو حرف بہ حرف سموئے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ہم دنیا میں ناکام اور شکست خوردہ ہیں۔ ہم نے اپنا مقام گنوادیا ہے۔ ہم تنزل کا شکار ہیں جبکہ دیگر مذاہب ہم سے زیادہ ترقی یافتہ اور منظم ہے۔ مسلم ممالک کی تعداد 50 سے زائد ہے پر پھر بھی مسلمان اپنی مستحکم جگہ بنانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔جس کی مثال مسلم ممالک پر بے جا پابندی اور جنگیں ہیں۔ دنیا میں ہر خطے میں مسلمانوں کو جنگ و جدل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور نسل کشی کی جارہی ہے لیکن افسوس دنیا کی دوسری بڑی قوم ہونے کے باوجود یہود و نصارا اب بھی ہم پر مسلط ہیں اور ہر طرح کے ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں یہاں تک کہ گستخانہ حرکات و سکنات ہر بھی کوئی سنوائی نہیں؟ ایسا کیوں ہے؟ بحیثیت مسلم ہم اپنی سالمیت منوانے میں کیوں ناکام ہیں؟ کیا ہم میں دوسری قوم کے مقابلے اہلیت نہیں یا ہم اپنی ارتقاءاور احداف کو نظر انداز کر رہے ہیں؟ اس کا صرف ایک جواب ہے کہ ہم نے اپنے دین کو فراموش کرکے سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلا دیا ہے۔ ہم بھول چکے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کامیاب زندگی کے ساتھ ساتھ کامیاب ریاستی نظام کو مرتب کیا۔آ پﷺ بہترین منتظم تھے۔ آپﷺ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ سیاسی، سماجی، سربراہی ہر لحاظ سے اکمل تھے۔ اس کی شہادت ابوطالب سے لے کر مائیکل ہارٹ تک، ہرقل روم سے لے کر جان کیننگ تک، قریشی سردار سہیل سے لے کر روبوزول اسمتھ تک، چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ ڈاکٹر روون ولیمز سے لے کر کیرن آرم اسٹرانگ تک، ایلفرڈکولیم،منٹگمری ، وِل ڈیوراں ، سرو لیمیور،جے ایچ ڈینیسن،جان ڈیون پورٹ، یہ اور ان جیسے بیسیوں یورپین اسکالر اور مستشرقین ہیں جو آپ ﷺکی شان اقدس میں مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ مسولینی سے ملے تو دوران گفتگو علامہؒ نے حضورﷺ کی اس پالیسی کا ذکر کیا کہ شہر کی آبادی میں غیرضروری اضافے کے بجائے دوسرے شہر آباد کیے جائیں۔ تو مسولینی یہ سن بولا کہ شہری آبادی کی منصوبہ بندی کا اس سے بہتر حل دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جوجامع اصول زندگی پیش کرتا ہے۔اگر امت مسلمہ اپنی وجود کی بقاءچاہتی ہے تو اس کو اپنی صف میں متحد ہوکر سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی ہوگی۔

ہر اس قانون کو ماننا ہوگا اور ان کے ہر پہلو ی تقلید کرنی ہوگی جس سے انسانیت کو معراج ملا۔ بلا تفریق اتحاد قائم کرکے ایک طاقت بننا پڑے گا۔ کلمہ حق کو بلند کرنا ہوگا۔ وقت کی ضرورت اور حکمت سے کام لینا ہوگا۔محبت اور اخوت کا دامن تھامنا ہوگا اور علم و فہم سے وقت کی ڈور کو تھامنا ہوگا۔ اپنے اندر سے احساس کمتری کی فضا کو چاک کرنا پڑے گا۔ گوکہ مسلمانوں کے لیے یہ دور بڑا کٹھن ہے۔ ہم کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے کمزور کردیا گیا مگر ہم سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھام کر ایک جگہ متحد پکڑ دوبارہ مضبوط اور طاقتور قوم بن سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے رب نے ہم سے ہماری کامیابی کا وعدہ کررکھا ہے گو کہ ہم اپنے اعمال میں صالح ہوں اور اہ ہم اپنے اعمال میں صالح ہوں اور اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اللہ کی عزیز قوم میں شامل ہوجائیں۔ تو کیوں نہ آج کے دن یہ شور شرابا کرنے کے بجائے سنت نبیﷺ کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ادب و احترام اور خاموشی کو اختیار کرتے ہیں۔ قانون کی بالادستی کرکے اس کے اطلاق میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ امن کا پیغام دے کر بھائی چارہ کی فضا قائم کرتے ہیں۔معاشرے میں انسانیت کا بول بالا کرتے ہیں۔ خود کو ایک صف میں لاکر صرف مسلمان کر چھوڑتے ہیں اور خود کو اپنے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کے دین کا پیروکار بناتے ہیں۔آمین۔