کوروناوائرس کے خوف میں مبتلا دنیا کیلئے خوشخبری

کراچی(نیوز ڈیسک)نہایت مہلک اور نئے وائرس COVID 19 سے جہاں دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے وہاں اب تک اس مرض سے ایک لاکھ سے زائد افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 115,668 مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں، یہ افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج تھے، یا کسی جگہ آئسولیٹ تھے یا قرنطینہ میں رکھے گئے تھے۔عالمی وبا قرار دیے گئے کرونا وائرس نے اب تک ساڑھے 4 لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے، وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 479,744 ہو چکی ہے، جب کہ اس مہلک وائرس نے 198 ممالک اور

علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ایک بین الاقوامی بحری جہاز ڈائمنڈ پرنسز بھی اس کا شکار ہوا، جسے یوکوہاما جاپان میں لنگر انداز کیا گیا ہے۔فلو سے مشابہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اب 21,566 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 14,797 ایسے مریض ہیں جن کی حالت تشویش ناک قرار دی گئی ہے، ان افراد کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ اس وائرس نے چین کے شہر ووہان سے آغاز کیا تھا، چین میں تباہی مچانے کے بعد جب یہ باقی دنیا میں پھیلا تو اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوا۔چین میں اس وائرس سے اب تک 3,287 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم وہاں اب اموات اور نئے کیسز کی رفتار نہایت کم ہو گئی ہے، بتایا جا رہا ہے کہ چین میں وائرس پر قابو پالیا گیا ہے اور 74,051 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ لیکن اب یورپی ملک اٹلی نے چین کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، جہاں وائرس سے 7,503 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب تک 9,362 مریض صحت یاب ہو چکے۔ گزشتہ چند دنوں میں اسپین میں بھی ہلاکتوں کی رفتار اچانک نہایت تیز ہو گئی اور اس نے بھی چین کو ہلاکتوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے، اسپین میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 3,647 ہو چکی ہے جب کہ صحت یاب افراد کی تعداد 5,367 ہے۔ادھر ایران میں بھی کرونا وائرس نہایت ہلاکت خیز ثابت ہوا، اور اب تک اس سے 2,234 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، ایران ہلاکتوں کے حوالے سے چوتھے نمبر پر ہے تاہم 10,457 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ فرانس پانچویں نمبر پر آ چکا ہے جہاں وائرس سے ہلاکتیں بڑھ کر 1,331 ہو چکی ہیں اور صحت یاب افراد کی تعداد 3,900 ہے۔ چھٹے نمبر پر دنیا کا سب سے طاقت ور ملک امریکا ہے جہاں وائرس کی تباہ کاری میں اب تیزی آ چکی ہے اور 1,036 مریض وائرس کا شکار ہو کر دم توڑ چکے ہیں جب کہ صحت یابی کا عمل نہایت سست ہے اور اب تک 428 افراد صحت یاب ہو سکے۔