بدبخت بیٹے نے 3سال تک اپنی والدہ کی لاش کو گھر میں چھپائے رکھا

کولکتہ (نیوز ڈیسک)انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے اپنی والدہ کی لاش کو تین سال تک فریزر میں رکھا۔کولکتہ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص سوبھابراتا مجمدار نے بظاہر لاش کو حنوط کیا اور کیمیکل کے ذریعے محفوظ رکھا۔اب پولیس اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ کیا اس مشتبہ شخص نے اپنی والدہ کی لاش کو اس لیے رکھا تاکہ وہ ان کی موت کے بعد بھی ان کی پینشن حاصل کرتا رہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس شخص کا ماننا تھا کہ اس کی والدہ کا دوبارہ جنم ہوگا اگر وہ ان کی لاش کو محفوظ رکھے گا۔پولیس اہلکار نے بی بی سی کے امیتابھ بھٹشالی کو بتایا: ’ہم نے

لاشوں کو محفوظ رکھنے سے متعلق کئی جریدے اور دوبارہ جنم کے حوالے سے کتابیں بھی برآمد کی ہیں۔‘حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے بدھ کو ایک فون کال کے ذریعے اطلاع ملنے کے بعد اس شخص کے گھر پر چھاپہ مارا۔انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں ایک بڑے فریزر میں خاتون کی لاش ملی جسے کیمیکل کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا۔ ہمیں ایسے برتن بھی ملے جس میں جسم کے مختلف اعضا پڑے تھے۔‘پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ مشتبہ شخص ایک لیدر ٹیکنالوجسٹ ہے لہذا اس کے لیے ایسے کمیکلز تک رسائی حاصل کرنا آسان تھا جن کے ذریعے لاش کو ’حنوط‘ کیا جا سکے۔بعض رپورٹس کے مطابق سوبھابراتا مجمدار کی والدہ کی اپریل 2015 میں موت کے بعد خاندان والوں نے ان کی آخری رسومات ادا کرنے کی بجائے ان کی لاش کو فریزر میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔اہلکار نلنجن بسواس نے بتایا کہ ’سوبھابراتا مجومدار کے والدین ریٹائر ہو چکے تھے اور ماہانہ پینشن لیتے تھے جو کہ کسی بھی شخص کی موت کے بعد وصول نہیں کی جا سکتی۔‘’لیکن ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان کی موت کے بعد بھی پینشن کی رقم مسلسل وصول کی جاتی رہی ہے۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ مشتبہ شخص پیسے وصول کرنے کے لیے ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کرتا تھا۔سوبھابراتا مجومدار کے والد سے بھی اس بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔