مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کامعاملہ، بھارتی عوام کی اکثریت مودی کے فیصلے کیخلاف نکلی، عوامی سروے میں کشمیریوں کے حق میں فیصلہ سنادیا گیا

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی عوام نے مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا ، کشمیریوں کی آواز کو خاموش نہیں کرنا چاہئیے، خاص کر بھارت میں آباد اقلیتوں کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی جانے لگیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں ایک عوامی سروے میں عوام کی اکثریت نے مودی حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اورکہاہے کہ کشمیریوں کی آواز کو خاموش نہیں کرنا چاہئیے۔ادھربھارت میں مسیحیوں کے روحانی پیشوا بشپ جوزف ڈی سوزا نے دنیا بھر کے مسیحیوں سے کشمیریوں کیلئے دعا کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب مودی حکومت نے کانگریس کے دو کشمیری رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیاہے لکھنو سے کشمیر پر مظاہرے کے لئے جانے سے پہلے سماجی کارکن کو گھر میں نظر بند کر دیا گیاہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ جموں

وکشمیر میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے، کانگریس پارٹی کے ترجمان رویندر شرما کو پریس کانفرنس کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔جموں و کشمیر کانگریس کمیٹی کے صدر غلام میر کو بھی قابض افواج نے دفتر جاتے ہوئے حراست میں لیاگیا۔لکھنو میں سماجی کارکن سندیپ پانڈے کو اس وقت گھر میں نظر بند کر دیا گیا جب وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف مظاہرے میں شرکت کے لئے جا رہے تھے،انہیں کشمیر کاز پر اٹھانے کے جرم میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار نظر بند کیا گیا۔ایک عوامی سروے میں عوام کی اکثریت نے مودی حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے، بھارتی عوام کا کہنا تھا کشمیریوں کی آواز کو خاموش نہیں کرنا چاہئیے۔بھارت میں مسیحیوں کے روحانی پیشوا بشپ جوزف ڈی سوزا نے دنیا بھر کے مسیحیوں سے کشمیریوں کیلئے دعا کی اپیل کی ہے۔