بھارتی وزیراعظم کوپاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرنا بہت مہنگا پڑگیا، جانتے ہیںہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنیوالےمودی کو کتنے گھنٹےطویل سفر کرناپڑا

کرغزستان(نیوز ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کرغزستان جانے کے لیے پہلے تو پاکستان سے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگی تاہم بعد میں اپنا فیصلہ بدل لیا۔مودی کا طیارہ اومان اور ایران سے ہوتا ہوا مشرق وسطی کے ممالک سے اپنی منزل پر پہنچا۔نریندری مودی نے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی بجائے لمبا روٹ اپنایا۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ اگر نریندر مودی پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے تو ان کو کر غستان پہنچے میں تین گھنٹے لگے۔ تاہم مودی نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لمبا روٹ استعمال کیا جس سے ان کو چھ گھنٹے کا طویل سفر کرنا پڑا۔ بھارت نے اجازت ملنے کے باوجود بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔پاکستان سے اجازت ملنے کے بعد مودی نے پینترا بدل لیا۔مودی کا طیارہ اومان،ایران اور مشرق وسطی کے ممالک سے گزر کر بشکیک جائے گا،تاہم ذرائع دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت اعلان کے باوجود پاکستانی فضائی حدود استعمال

کرے گا۔ مودی کا جہاز کراچی کی فضائی حدود سے ہوتا ہوا اگلی منزل پر جائے گا۔ذرائع دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے دو روٹس کھولے ہیں۔مودی کے جہاز کو تھوڑی دیر کے لیے پاکستانی حدود سے گزرنا ہی پڑے گا۔ مودی کا جہاز کراچی،ہنگول سے ایران، عمان براستہ گوادر فضائی حدود استعمال کرے گا۔خیال رہے پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے طیارے کوپاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 13 اور 14 جون کو کرغیزستان میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک گئے۔یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارت کے لیے بند کر دی تھیں جس کے بعد بھارت نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی فضائی حدود کھول دے اور وزیراعظم نریندر مودی کا طیارے اپنی فضائی حدود سے گزر کر کرغیزستان جانے کی اجازت دے۔