سعودی عرب میں اُونٹ سے مشابہہ چٹان سب کی توجہ کا مرکز

مکہ مکرمہ(نیوز ڈیسک) سعودی مملکت میں ثقافتی، تاریخی اور مذہبی مقامات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یہ سرزمین دلفریب صحرائی مناظر، ہرے بھرے نخلستانوں، بلند و بالا پہاڑوں اور سرد ترین مقامات سے بھی مالا مال ہے۔ جبکہ بحیرہ احمر کے خوبصورت ساحلی مقامات بھی سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت میں ہر سال مذہبی سیاحت کی غرض سے اگر ایک کروڑ سے زائد لوگ آتے ہیں تو تاریخی اور ثقافتی مقامات کی سیر کی غرض سے آنے والوں کی گنتی بھی لاکھوں میں ہوتی ہے۔سعودی عرب کے شمال مغربی ضلع الوجہ میں واقع ”اُونٹ والی چٹان“ بھی قدرت کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔

العربیہ نیٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ اُونٹ سے مشابہہ چٹان الوجہ شہر سے پانچ کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔چونے کے پتھر کی یہ قدرتی چٹان کے خد و خال ایسے ہیں جیسے کوئی اُونٹ اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا ہو۔ دراصل کئی برس تک شکست و ریخت کے عوامل سے گزرنے کے بعد یہ قدرتی طور پر ہی ایک بیٹھے ہوئے اُونٹ سے مشابہہ ہو چکی ہے۔جو قدرت کی کاریگری کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا فطری مجسم فن پارہ ہے۔ جس کو دیکھنے کے لیے سیاحوں اور محققین کے علاوہ مناظر فطرت کے دلدادہ افراد کی بھی بڑی گنتی یہاں پر آتی ہے۔ اس مسحور کُن اُونٹ والی چٹان کو جس بھی زاویئے سے دیکھیں، اُونٹ سے ہی مشابہہ نظر آتی ہے۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے فوٹوگرافر کی تصویری رپورٹ میں اس چٹان کے خدوخال نمایاں کیے گئے ہیں۔اُونٹ والی چٹان کے بلند ترین نقطے پر اس کی اونچائی آٹھ میٹر (تقریباً 24 فٹ) تک جا پہنچتی ہے۔واضح رہے کہ مملکت کا الوجہ ضلع اپنے قدرتی اور تاریخی ورثے کے سبب معروف ہے۔ بحر احمر کے ساحل پر پھیلے ہوئے اس ورثے نے الوجہ کو سیاحوں کے لیے پْر کشش علاقوں میں سے ایک اہم مقام بنا دیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ویژن 2030 کے ضمن میں اعلان کردہ بحر احمر اور آمالا کے دو منصوبوں نے اس علاقے کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔