قدرتی طوفانوں کو ایٹم بم سے روکنے کی تجویز، ماہرین ٹرمپ کی حیران کن تجویز پر سرپکڑ کربیٹھ گئے

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں حال ہی میں یورپی ملک ڈنمارک کے ماتحت آزاد ریاست کا درجہ رکھنے والے جزیرے نما ملک گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی‘اب وہیں انہوں نے قدرتی طوفانوں کو بھی طاقت کے زور پر روکنے کی خواہش کا اظہار کرکے سب کو حیران کردیا.ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ امریکا کو نقصان پہنچانے والے سمندری طوفانوں کو جوہری بم سے ختم کردیا جائے‘ امریکی صدر نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران امریکی ہوم سیکورٹی اور دفاع کے ماہرین سے تجویز مانگی کہ کیا امریکا کی جانب آنے والے سمندری

طوفانوں کو جوہری بم سے روکا جا سکتا ہے؟امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ہریکین سمندری طوفان سمیت قدرتی آفات پر بریفنگ دی جا رہی تھی کہ انہوں نے سب کو حیران کردینے والا سوال کرڈالا‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی اور داخلہ سیکورٹی ماہرین سے سوال کیا کہ قدرتی طوفان کو جوہری بم سے روکا یا ختم کیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا کیا جائے تو کیا ہوگا؟ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طوفان کو جوہری بم سے روکنے کے سوال پر اجلاس میں شامل تمام ماہرین اور اعلیٰ عہدیدار حیران رہ گئے اور انہوں نے چند منٹوں کی خاموشی کے بعد صدر کو بتایا کہ وہ ان کی تجویز پر سوچیں گے.ڈونلڈ ٹرمپ نے دوران اجلاس کہا کہ متعدد ہریکین طوفان امریکا کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں اور اگر انہیں امریکی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی جوہری بم سے ختم یا روکا جائے تو اس کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں؟رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہی تجویز صدر منتخب ہونے کے ایک سال بعد 2017 میں بھی دی تھی اور ماہرین سے پوچھا تھا کہ قدرتی طوفانوں کو نیوکلیئر بم یا دیگر ہتھیاروں سے روکا جا سکتا ہے؟ دوسری جانب ایک رپورٹ میں بتایا کہ قدرتی طوفانوں کو روکنے یا ختم کرنے کے لیے ان پر جوہری بم گرانے کا آئیڈیا نیا نہیں ہے، ڈونلڈ ٹرمپ سے قبل بھی امریکی حکومت ایسی تجویز دی چکی ہے.رپورٹ کے مطابق 1950 کی دہائی میں امریکی حکومت کے ایک سائنسدان نے صدر ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور کے دور حکومت میں ایسی ہی تجویز دی تھی. سمندری طوفان ہریکین کو جوہری ہتھیاروں سے ختم کرنے یا روکنے کے حکومتی سوالات پوچھے جانے

کے بعد قدرتی طوفانوں پر تحقیق کرنے والے ادارے نیشنل اوشین اینڈ ایٹموسفیر ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کی جانب سے اس معاملے پر ایک تحقیقی رپورٹ بھی بنائی گئی ہے اور وہ اس معاملے پر پوچھے جانے والے اکثر سوالوں کے جوابات بھی دیتے ہیں‘اسی ادارے کے ایک مضمون کے مطابق ہریکین کو جوہری ہتھیاروں یا بم سے روکا نہیں جا سکتا، یہ ایک بے وقوفانہ تجویز ہے‘مضمون کے مطابق سمندری طوفان کے اوپر جوہری بم یا ہتھیار گرانے سے تابکار مادہ طوفان میں شامل ہوکر زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے.نیشنل جیوگرافک کی جانب سے بھی ہریکین پر جوہری ہتھیاروں یا بم کے استعمال کے حوالے سے اپنے تحقیق

مضمون میں ایسی تجویز کو بے وقوفانہ قرار دیا ہے‘چینل کے مضمون میں این او اے اے کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ہریکین عام طور پر انتہائی تیز رفتار اور خطرناک قدرتی طوفان ہوتا ہے جس پر جوہری بم گرانا یا دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرنا اسے مزید خطرناک بنا سکتا ہے اور سوچ سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.خیال رہے کہ امریکا کو تقریبا سالانہ متعدد قدرتی طوفانوں کا سامنا رہتا ہے اور وہاں ہریکین سمندری طوفان کا سیزن جولائی سے لے کر نومبر تک رہتا ہے‘عام طور پر اس طوفان سے امریکا کی تین سے زائد ریاستوں کے کئی بڑے شہر متاثر ہوتے ہیں اور لوگ کئی ہفتوں تک گھروں کو چھوڑنے پر مجبور بن جاتے ہیں.