ڈپٹی کمشنر ناروال ظلم کا نوٹس لیں۔۔۔ میاں محمد اشرف عاصمی

آزادی کی سات دہایؤں کے بعد بھی پاکستانی معاشرے میں انصاف ناپید ہے۔ اشرافیہ انصاف کی خریدار ہے اور مزدور طبقہ کی حالت دلت اور شودروں جیسی ہی ہے فرق صر ف یہ ہے کہ تقسیم کی لائن نے علاقوں کے نام بدل دئیے ہیں۔ ہمارئے معاشرئے میں عدالتی نظام اور پولیس کلچر کسی غریب کو انصاف دئے یہ تو دن میں چاند دیکھنے کی خواہش کے مترا د ف ہے۔انصاف دینے والے اداروں کی ترجیحات میں عوام ہیں ہی نہیں۔ پٹواری کلچر نے جس طرح اِس ملک کی عوام کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے اور تھانے دار کی تھانے داری کا زور بھی صرف عوام پر ہے لٹیروں کا تو وہ محافظ ہوتا ہے۔

ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے کچھ گھرانوں کا ذکر کروں گا کہ اللہ اور رسولﷺ کے نام پر بننے والے ملک میں یہ لوگ پاکستان میں ہجرت کرکے آگئے اور کنجروڑ تحصیل شکرھ گڑھ ضلع ناروال کے رہائشی ہیں۔ کرتار پور راہداری کی تعمیرمکمل ہونے کے بعد اِن محنت کشوں کے گھر اُس راہدار ی سے باہر ہیں لیکن اُس علاقے کا پٹواری اور تحصیلدار آکر اُنھوں کا فی عرصہ سے تنگ کر رہا ہے کہ یہ گھر خالی کردو، نہ تو کوئی اُن کو نوٹس دئیے گئے ہیں اور نہ ہی اُن کو اتنی رقم کی آفر کی گئی ہے کہ وہ اُس رقم سے کسی اور مقام پر جاکر گھر بنا لیں اور رہ سکیں۔ دس دس مرلے کے گھروں کو پٹواری اونے پونے داموں خریدنا چاہ رہا ہے اور دھمکیاں دئے رہا ہے کہ اگر تم نے گھر خالی نہ کیے تو ہم بلڈوز کردیں گئے۔ اِن گھر میں سے ایک بیوہ کا گھر بھی ہے۔سرکار کو اگر کوئی بھی جگہ چاہیے ہوتی ہے تو وہ اُسے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت لے سکتی ہے اور اِس کا باقاعدہ نوٹس دیا جاتا ہے لیکن نہ تو اِنھیں کوئی نوٹس دیا گیا ہے اور نہ ہی اِن کی کوئی شکایت سُننے والا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں یہ مزدور لوگ اپنے سر کی چھت بچانے کے لیے مارئے مارئے پھر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک درخواست ڈپٹی کمشنر ناروال کو دی ہے جو کہ درج ذیل ہے۔بخدمت جناب ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع ناروال:جناب عالیٰ:گزارش ہے کہ درخواست گزاران کنجروڑ تحصیل شکرھ گڑھ ضلع ناروال کے رہائشی ہیں۔ حال ہی میں کرتار پور راہدری کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے۔ ہمارئے گھر کرتا ر پور راہداری سے باہر ہیں۔ درخواست گزاران محنت مزوری کرے ہیں۔ہم

پانچوں درخواست گزاران کے گھر دس دس مرلے زمین پر بنے ہوئے ہیں اور یہ درخواست گزاران کی وراثتی زمین ہے۔لیکن جب سے کرتار پور راہداری کا افتتاح ہوا ہے علاقے کا تحصیلدار اور پٹواری در خواست گزاران کو کہہ رہے ہیں کہ یہ زمین خالی کردو ورنہ ہم اِس کو بلڈوز کردیں گے۔ تحصیل دار اور پٹواری انتہائی کم قیمت دئے رہے ہیں جس سے دوبارہ گھر نہیں بن سکتا۔ سرکار کی طرف سے نہ تو درخواست گزاران کو کوئی نوٹس دیا گیا ہے یہ سب کچھ زبانی کلامی کیا جا رہاہے۔ درخواست گزاران کو امن کے ساتھ رہنا دیا جائے اگر حکومت کے لیے یہ ز مین خریدیا ضروری ہے تو ہمیں اتنی رقم

ضرور دی جائے کہ ہم کسی دوسرئے مقام پر جگہ خرید کر گھر تعمیر کر سکیں۔گر سرکار یہ زمین لینا چاہتی ہے تو ہمیں جو مارکیٹ ریٹ ہے اُس حساب سے ادائیگی کرئے تاکہ ہم دوبارہ گھر بنا سکیں۔آپ سے گزارش ہے کہ ہم غریبوں سے چھت کا سایہ نہ چھینا جائے اور اگر حکومت کو یہ جگہ درکار ہے تو ہمیں باقاعدہ نوٹس دیا جائے اور مارکیٹ ریٹ سے ادائیگی کی جائے تاکہ ہم دوبارہ گھر بنا سکیں حضور کی عین نوازش ہوگی۔درخواست گزاران، محمد یوسف ولد عبدالرزاق موبائل فون نمبر، 03314953313، محمد انور ولد عبدالحق، روزدار خان اسماعیل خان، محمد ارشاد چاؤ خان محمد اقبال ولد چاؤ خان، ساکنان کنجروڑ تحصیل شکرھ گڑھ ضلع ناروال۔ انسانی حقوق کا علمبردار ہہونے کے ناطے جناب ڈپٹی کمشنر صاحب میری بھی آپ سے گزار ش ہے کہ اِن غر یبوں کو انصاف دیا جائے اور آپ متعلقہ افراد جو اِن غریبوں کو ہراساں کر رہے ہیں اِن کے خلاف کاروائی کر ئیں اور اگر اِن مزدوروں کے گھروں کی حکومت کو ضرورت ہے تو اِن کو اِس قدر قیمت دلوائی جائے کہ وہ کسی اور مقام پر گھر بنا سکیں۔