کورونا وائرس عذاب یا آزمائش ۔۔۔ تحریر: شازیہ کاسی

کورونا کے بڑھتےہوئے مریض اور عوام کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے آلات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ادویات کا مارکیٹ سے غائب هو جانا اور پھر بلیک میں من مانی قیمتوں میں دستیاب ہونا، 20 روپے کا ماسک 120 روپے میں فروخت ہونا ۔ اور پھر پبلک ٹرانسپورٹ میں عوام کو ماسک پہنا کے سفر کروانا ۔ پھر سمارٹ سے ہینڈسم لاک داؤن تک کا سفر کرنا ۔ اداروں اور ملوں کو چلنے پر مشتمل SOPs کی دھجیاں اڑا نا ۔ پھر وزرا کا اعلان فرمانا کہ یہ “جاہل قوم ” ہے کسی احتیاط پر عمل نہیں کرتی ہے ۔ جان اللہ کو دینی ہے ۔ لیڈر شپ کا فقدان جو اس وائرس کو فلو کہے ۔

پھر لاک ڈاؤن کی مخالفت کرے ۔ پھر تاجران کو کوئی سبسڈی نہ دے اور 19 مہینے میں پچھلے تیس سالوں کے برابر قرض لے ۔ عوام کو ” گھبرانا ” نہیں کا مشورہ دے اور پھر حکومت کہے عوام جاہل ہے ۔ مگر آپ جس جاہل عوام کی بات کر رہے ہیں وہ ہی آپ کو منتخب کرکے حکومت میں لائی تو جاہلوں نے جاہلوں کو منتخب کر لیا ۔ کاروباری طبقے سے ملاقات کریں آپ اور عوام کی غربت کا رونا بھی آپ خود روئیں۔ کسان،مزدور،موچی ، نائی ، پلمبر سب بیروزگار ۔ ٹیکس میں چھوٹ کاروباری طبقے کو ۔ حقیقت میں حکومت کی کوئی رٹ نظر نہیں آتی ۔ ادویات ، اشا ئے خورد ونوش، سکول فیس ، آن لائن تعلیم سے لے کر ماسک تک ہر چیز میں اضافہ مگر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ۔ عید کی شاپنگ میں مالز ، پاركس کھولنے کا اعلان حکومت کرے ۔ سچ تو یہ ہے حکومت وزیروں سے زیادہ مشیروں کی محتاج ہے جو اس قوم کے مزاج کو نہیں سمجھتے کیوں کہ وہ پاکستان سے کم کم تعلق رکھتے ہیں ۔ انا پرست حکومت نے لاشیں کیش کروانی ہیں اور ڈالر بٹورنے ہیں ۔ پہلے دھماکوں سے لاشیں ہسپتالوں میں جاتی تھی اب یہ خرچہ بھی کم کرو ۔ وائرس سے اسپتالوں میں لاشیں براہ راست وصول کرو اور ڈالر کماؤ ۔اللہ کا شکر ہے کہ اس ملک میں درد دل رکھنے والے لوگ موجود ہیں جن لوگوں نے غریب عوام کو بھوک سے مرنے نہیں دیا ۔ مگر جاہل حکومت نے غربت کے خاتمے کا آسان طریقہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ بالکل امیر لوگ بھی مریں گے اس کو دہشتگردی کی زبان میں Collateral damage والے کھاتے میں ڈال دیں گے ۔ خدارا میری گزارش ہے اس وبا کو صرف ایک آزمائش ہی رہنے دیں،ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ ، مہنگائی کرکے عذاب الہی کو دعوت مت دیں ۔ کیوں کہ جب عذاب آتا ہے تو امیر اور غریب کا فرق نہیں دیکھتا ۔ بستیاں قرہ ارض سے مٹ جاتی ہیں ۔