’’ہم مل کر کر سکتے ہیں‘‘ ۔۔۔ تحریر: طیبہ جبین

پاکستان کو پچھلی دو دہائیوں سے جن قومی کرائسز کا سامنا رہا ہے اُن تمام حالات کے پیش نظر حکومت پاکستان اور عوام کا حوصلہ قابل دید ہے۔جہاں دنیاایک طرف اس بات پر بضد تھی کہ پاکستان کا منفی روپ ہی اجاگر کیا جائے اور درحقیقت سی پیک جیسے شاندار بین الاقوامی ترقی کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ وہیں دوسری طرف 2011 میں شہر آفاق منظر عام پر آتی ہے Pakistan: a Hard Country کتاب جس میں مصنف ایناٹول لیون پاکستان کے تلخ ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں کے عوام کی با ہمتی اور سخت جانی کی تعریف کرتے ہیں۔ ماضی کے جھروکوں سے واقعات کا تانا بانا بُن کر ایسے موتی بکھیرتے ہیں جیسے وہ اس قوم کا حصہ ہوں ۔ معاملہ طالبان کا ہو، دہشتگردی کے خلاف مہم جنگ، یا پھر قدرتی آفات، سب بِنا کسی اختلاف کے بڑھ چڑھ کے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ خاص کر 2013 کے بعد آنے والی حکومتوں کی پہلی ترجیح ملکی استحکام اورمعیشت کو مضبوط کرنا رہا ہے۔ اس بات کی گواہی اب ہر انٹرنیشنل میڈیا کی زبان پر ہے۔
2019 وہ سال تھا جس میں ہزاروں غیر ملکی صحافی، سفارت کار خاص کر Martin Kobler، یوٹیوبرز، ٹریول وی لاگر سرِ فہرست ہیں جنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کا یہ ٹیررزم سے ٹورازم تک کا سفر ان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی ہے۔ ورلڈ انڈکس سروے کے مطابق پاکستان 2020 کے اختتام تک سیر و تفریح کیلئے دنیا کی دلچسپی والا پہلا سرفہرست ملک ہوگا۔ امسال 2020 میں PSL-5 کیلئے لیے سوسے زائد کھلاڑیوں نے اس لیگ کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جو کہ انتہائی خوش آئند بات ہے۔ یہ تو معاملات کھیلوں کےہیں اور اگر ریاستی اور سفارتکاری روابط اور اہم شخصیات کے پاکستان آنے اور کئی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کے ساتھ یادداشتوں پر عملدرآمد کی بات کی جاے تو چینی صدر، سعودی فرمانروا، ترک صدر، ملائشین صدر، کوئین آف نیدرلینڈز اور برطانوی شاہی جوڑے کا پاکستان آنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ ملکی حالات سازگار اورر خوشگوار ہیں۔ خطے اور عالمی امن کے استحکام کیلئے حکومت پاکستان کاکرتارپور راہداری کا کھولنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
2020 کا آغاز اگرچہ مثبت رہا اور پاکستان عالمی سطح پر مختلف کامیابیاں سمیٹنے میں مصروف عمل تھا ۔ یکا یک دنیا کو ایک بھیانک وبا نے اپنی لپیٹ میں لیا اور پاکستان بھی اس کا نشانہ بن گیا۔ ہمیں ایک قوم بن کر ان ہنگامی حالات میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کی غرض سے پاکستان بھر میں اس بار 23 مارچ کو خاموشی سے منایا گیا جو ایک اور اچھا حکومتی فیصلہ تھا۔ مگر حکومت کے اس فیصلے کی سنگینی کو جانچے بغیر بیشتر حضرات نے سیروتفریح کیلئے مختلف مقامات کا رخ کر لیا حالانکہ انہیں ایسے حالات میں حکومتی ہدایات پر من و عن عمل کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر آئے روز نوجوان حضرات کی بنائی گی میمز عوام کی اجتماعی غیرسنجیدگی کا کھلم کھلا ثبوت ہیں۔پچھلے دو دن کے دوران اقبال کے بگڑے شاہینوں کو ڈنڈے کے زور پر مرغا بناکر حالات کی سنگینی کا سبق دینے پر مجبور پولیس حضرات کو وائرل وڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ 23 مارچ 1940 کے دن ایک قوم کو ملک کی ضرورت تھی اور ٹھیک 80 سال کے بعد 23 مارچ 2020 کو ملک کو ایک قوم کی ضرورت ہے۔
نوجوان جو ملک کا60 فیصد سے زیادہ ہیں ان کی یہ تعداد قوم کی قوت اور مضبوطی بننی چاہئے ۔ پاکستان میں نہ صرف تعلیم کی کمی ہے بلکہ یہاں ہم جہالت کی ریل پیل اور تربیت کا فقدان بھی دیکھ سکتے ہیں۔ صرف حکومت نہیں بحیثیت فرد، بالخصوص والدین کے طور پر ہم ناکام ہوگے ہیں۔ کوشش تھی کہ ذیادہ سے ذیادہ اچھی مثالوں کا سہارا لوں مگر حقیقت سے منہ موڑنا عقلمندی نہیں، اسلئے تصویر کے دونوں رخ آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔پاکستان جو اس سال کے آغاز سے ہی آگے بڑھ رہا تھا موجودہ حالات میں کرونا وائرس جیسی آفت نے پوری دنیا کی طرح اسے بھی بریک لگا دی ہے۔ ہمیں اس بریک کو توڑنا ہے اور پاکستان کو پھر سے آگے لے کر جانا ہے۔ اس کالم کا اختتام ایک خوبصورت قول پر کروںگی کہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں، دانشمند کی خاموشی سے اور جاہل کی شعلہ بیانی سے۔