بعض دھمکیاں آپکے اور آپکے بچے کے لئے نقصان دہ ثابت بھی ہوسکتی ہیں

آج کا ہر نوعمر بچہ اور بچی، لڑکا اور لڑکی کے درمیان ہونے والی محبت کا شکار ہیں۔ ان میں بہت ہی کم تعداد میں ایسے بچے ہیں جن کی نظر میں ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن زیادہ تر کا یہی حال ہے ۔ بہت سے ریلیشن شپ محض ٹائم پاس اور تفریح کے لیے بنے ہوتے ہیں مگر بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں مخلصی ، وفاداری واقعی شامل ہوتی ہے۔ لیکن ریلیشن شپ کی اگر بات کی جائے تو کچھ کا اختتام ہوجاتا ہے اور کچھ ریلیشن شپ نکاح کا روپ اختیار کر لیتے ہیں جن میں دو خاندانوں کی رضامندی اور خوشیوں کے ساتھ دو دل ایک خوبصورت رشتے میں جڑ جاتے ہیں۔ اور کچھ بھاگ کر شادی کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ بچے جو بھاگ کر شادی کرتے ہیں ان میں کیا صرف وہ بچے ہی اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں؟ اس کے آدھے ذمہ دار تو والدین بھی ہوتے ہیں مگر وہ یہ بات تسلیم نہیں کرتے اور نہ کوئی اور۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اولاد کی اس حرکت کے ذمہ دار والدین کیسے؟ تو جواب یہ ہے کہ بہت سی لڑکیوں کی پسند اگر کوئی دوسرا لڑکا ہو اور والدین اس رشتے کے حق میں نہ ہوں تو بہت سی لڑکیاں والدین کی مرضی میں ہی خوش ہو جاتی ہیں مگر بہت سی ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنی ضد پر اڑ جاتی ہیں اور اگر والدین ان کے ساتھ کوئی زور زبردستی کریں تو وہ کوئی غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ہر والدین کو اپنی اولاد کے رویے اور مزاج کا بخوبی علم ہوتا ہے کہ ان کا بچہ کس مزاج کا مالک ہے۔ لہذا اگر بچہ ضد کی انتہا کو پہنچ جائے تو بعد میں کسی نقصان کو برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ بچے کی اس کی پسند کی جگہ شادی کرادی جائے۔ دوسری طرف اگر بچے کو کوئی پسند آیا ہوتا ہے خواہ وہ پندرہ، سولہ سال کی عمر کا ہی کیوں نہ ہو اور بچہ اگر ماں باپ سے وہ بات شیئر کرے تو ماں باپ اس کو بہت سی دھمکیاں دینا شروع کردیتے ہیں کہ میں اسکول سے اٹھوا لوں گی/ گا، دوستوں سے ملنا بند کر دوں گی/گا وغیرہ وغیرہوہ دراصل اپنی اولاد کی بھلائی کے لیے ہی کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس کا فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور نقصان بھی۔ نقصان یہ کہ بچہ آئندہ اپنی کوئی بھی پرسنل بات شیئر کرنے سے گریز کرے گا اور اللہ نہ کرے اگر بچہ کوئی غلط کام کرلیتا ہے تو اس کا ذمہ دار صرف وہ بچہ نہیں ماں باپ بھی ہونگے کیونکہ اس بچے نے دھمکیوں سے ڈر کر اپنی ہر بات کو راز رکھنا شروع کردیا تھا۔یہ باتیں زندگی

کی حقیقتیں ہیں۔ میں بحثیت استاد یہ بات کہہ سکتی ہو کہ آج کل کے گیارہ بارہ سال کے بچے، بچیاں ان باتوں میں ملوث ہیں اور یہ صرف وہ بچے ہیں جن کے ہاں سینیما میں جاکر فلمیں دیکھی جاتی ہیں یا گھر والے، گھر میں ہی فلمیں لگا کر دیکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو ان چیزوں سے دور رکھنے کے لیے گھر والوں کو خود بھی ایسی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے گریز کرنا ہوگا۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو بچے کے اندر ان چیزوں کو دیکھنے کا تجسس بڑھتا چلا جائے گا اور نتیجے میں وہ اپنے دوست احباب کے گھر یا اپنے کزنز کے گھر جا کر ایسی باتیں اور چیزیں نہ صرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ سیکھ بھی سکتے ہیں۔

ہمارے وقتوں میں چھوٹے کھلونے والے موبائل ہوا کرتے تھے۔ مگر آج کل کے بچوں کو اصلی موبائل فون دے دیے جاتے ہیں جو کہ نقصان دہ ہیں۔ چونکہ آج کل ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے تو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اس میں معلوماتی چیزیں تلاش کرنا سکھائیں اور سنائیں بھی لیکن اس کے علاوہ ان کو موبائل دینے سے گریز کریں۔سولہ سترہ سال کی عمر میں بہت سی لڑکیوں کی شادی ہوجاتی ہے کیونکہ والدین کی سوچ ہوتی ہے کہ اگر لڑکی کا رشتہ اچھا آجائے تو شادی میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہ بھی سنا جاتا ہے کہ بہت سی محبتیں اسکول لائف سے شروع ہوتی ہیں جو بلاخر نکاح جیسے پاکیزہ رشتے میں بندھ جاتی ہیں یہ تو اور بھی خوبصورت بات ہوتی ہے۔ لیکن آجکل کہ دور میں بچوں کو دھمکیوں سے ڈرانا، بےجا سختی کرنا، شک کرنا بچے کو غلط راہ پر بھی لے کر جاسکتا ہے۔ اس لئے بچوں سے دوستانہ رویہ اختیار کرکے انھیں غلط راستوں پر جانے سے بچائیے۔ (تحریر: افراح عمران،کراچی )