زاہدسموسے والا ۔۔۔ تحریر؛مراد علی شاہد

دس سالہ زاہد روشنیوں کے شہر کراچی کے کوچہ وبازار،گلی محلوں اور خاص کر موٹر سائیکل اسٹینڈ الغرض جہاں کہیں بھی اسے لوگوں کا اجتماع یا ہجوم نظر آتا ہے اپنے سموسوں کی ٹرے اٹھائے اس امید سے وہاں پہنچ جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سموسے جلد از جلدفروخت کرکے حاصل کردہ رقم اپنے گھر لت جا کر اپنی ماں کی ہتھیلی پر رکھوں تاکہ وہ گھر کے اخراجات کے ساتھ آنے والے کل کے سموسوں کے لئے اشیائے ضروریہ بھی خرید کر گھر لے آئیں۔کہانی یہاں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہ آغاز ہے اس کہانی کا جو گھر گھر کی اگر نہیں تو ہر محلہ کی کہانی ضرور ہے کہ ہر محلہ میں ایک زاہد ضرور ہے جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ کی کفالت میں اپنے ماں باپ کا ہاتھ اس امید سے بٹاتا ہے کہ ان کا آنے والا کل

درخشندہ وتاباں ہوگا۔زاہد بھی اسی آس اور امید واثق سے سکول سے فراغت پاتے ہی سموسوں کی ٹرے اٹھاتا ہے اور بازار کا رخ کرلیتا ہے تاکہ اس کے انجینئر بننے کے خواب کو مہمیز ملتی رہی ۔زاہد کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دیکھتے ہی بہت سے مخیر حضرات اور تنظیموں نے اس کی فیملی کے ساتھ پورا پورا دن گزارتے ہوئے فیملی ممبران کی محنت،والدہ کا عزم،زاہد کے عزائم اور خواہشات پر مکمل معلومات پاکستانی عوام تک پہنچایا جو بلاشبہ کار خیر سے کسی طور بھی کم نہیں۔خاندان کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے کہ انہوں نے اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالا،لیکن اصل سفر تو ابھی شروع ہوا ہے کیونکہ شاہراہِ حیات ایام مفلسی میں اور بھی طویل ہو جایا کرتی ہے ایسی شاہراہ بن جاتی ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی بعض اوقات تو منزل ملتی بھی نہیں،اس لئے زاہد کی فیملی کے لئے کوئی مستقل کاروبار کا بندوبست ہی اصل میں اس کے خاندان کے مسائل کا واحد حل ہو سکتا ہے تاکہ زاہد کے والدین اس کاروبار سے مناسب آمدنی حاصل کرکے اپنے بچوں کی پرورش خاص کر تعلیم پر خرچ کر سکیں تاکہ بچے پوری استعداد اور تندہی کے ساتھ اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرکے اپنے خوابوں کو تعبیر کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔میں زاہد کی ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جس نے اس عمر میں اپنے خاندان کی کفالت کے لئے عزم وہمت اور جوان مردی کو ثبوت دیا۔اس نے شائد قلیل عمر میں ہی جان لیا ہے کہ محنت میں ہی عظمت ہے۔ایسی مثال کوئی پہلی نہیں ہے بلکہ تاریخ کا صفحات کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیںکہ ایران اور ترکی کی سرحد پر ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک امیر آدمی کے بچے کو قریبی شر سے ایک استاد محترم

پڑھانے کے لئے روزانہ ایک گھوڑے پر بیٹھ کر آیا کرتے تھے،ماجرا یہ تھا کہ جب وہ استاد اپنے شاگرد کو سبق یاد کروا رہا ہوتا تو کمرے کے باہر ایک بچہ اس سبق کو ساتھ ساتھ دہرا رہا ہوتا جب استاد واپس جانے لگتا تو وہی بچہ گھوڑے کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے استاد محترم کو وہ سبق سنا دیتا۔چونکہ استاد کے پاس وقت کی کمی تھی اس لئے بچہ کے شوق مطالعہ کو دیکھتے ہوئے اس نے کہا کہ کہ اگر تم چاہو تو روزانہ جب میں آتا ہوں تو تم اس وقت بھی میرے ساتھ ساتھ اپنے سبق کا اعادہ کر سکتے ہو،اس طرح تمہیں زیادہ وقت دستیاب ہو سکے گا۔الغرض یہ بچہ روزانہ اپنے استاد کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ کم وبیش سات کلو میٹر کا سفر بھاگتے ہوئے گزارتا اور اپنا سبق یادکرکے نیا سبق استاد سے لے کر واپس گائوں آجاتا،اسی بچے نے

بعدازاں اعلی تعلیم حاصل کر کے اپنے نام اور کام سے دنیا کوحیران کیا،یعنی اس نے دنیا کو پہلی بار بتایا کہ علم دو طرح کا ہوتا ہے،اس نے دنیا کو پہلی بار بجٹ کی اصطلاح سے متعارف کروایا۔آج دنیا اسے امام غزالی کے نام سے جانتی ہے۔زاہد ایک بچہ کا نام نہیں ہے اور نہ ہی سموسے کوئی مرئی یا غیر مرئی شے کا نام ہے بلکہ یہ ایک علامت ہے عزم،ہمت،استقلال،اعلی کردار اور استقامت کی کہ جب کوئی انسان یہ ٹھان لیتا ہے کہ اسے اپنی محنت کے بل بوتے پہ کوئی ارفع مقام حاصل کرنا ہے تو اسے یہ بھی یقین ہو جاتا ہے کہ خدا اس کی مدد ضرور فرمائے گا۔ایسا ہی عزم زاہد کا تھا یہ اس کا قدرت یقین کامل ہی تھا کہ اس نے سموسے کی ٹرے کو اٹھانا مانگنے سے بہتر خیال کیا کہ اسی میں اس کی اور خاندان کی فلاح مضمر

ہے اور اسی میں ہی اللہ برکت ڈال دے گا۔ایسا ہی ہوا،اللہ نے اہل ثروت،مخیر حضرات کی مدد سے اس کے یقین کو واثق اور کامل بنا دیا۔ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے اردگرد ایسے کرداروں کوتلاش کریں اور ان کاہر ممکن ساتھ دیں۔اسی میں ہی پاکستان اور ہماری بقا وسلامتی ہے۔ہمارا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایسے کردار ہمیں اپنے ارد گرد نظر کیوں آتے ہیں ،حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے بلکہ ہم میں ایسی بے حسی پیدا ہوتی جا رہی ہے کہ اپنے گھر کے باہرپڑے ہوئے کچرے کے لئے بھی سویپر اور وزیراعظم کا انتظار کرتے ہیں کہ وہی اس مسئلہ کا حل اور سدباب کرے۔ہم کچھ اور نہیں اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اپنے گھر کے کچرے کو کسی مناسب جگہ پھینک آئیں یا زمین میں دبا دیں تاکہ کم از کم فضائی آلودگی سے ہی بچا جاسکے۔بالکل اسی

طرح ہم محنت،مزدوری کرنے والے بچے کے والدین اورحکومت کو کوستے ہیں کہ وہ ان کے لئے کوئی پلان مرتب نہیں کر رہے لیکن ہم خود ان کی دلجوئی اور اشک شوئی کے لئے کبھی بھی نہ ہاتھ اور نہ ہی قدم آگے بڑھائیں گے۔کیونکہ ہمارا المیہ بن چکا ہے کہ ہم نے مسئلہ کے حل میں اپنا کردار ادا نہیں کرنا مسئلہ پیدا کرنے میں اول آنا ہے۔جب تک ہم اپنے تئیں ذمہ داریوں اور فرائض کو نہیں نبھائیں گے عمران خان کیا کوئی بھی وزیراعظم آجائے ملک سدھرنے والا نہیں،ہمیں زاہد سموسے والے کے ہاتھ میں اس کی ٹرے چھین کر اس کے ہاتھ میں قلم تھمانا ہے تاکہ زاہد کسی مسیحا کا منتظر نہ ہو بلکہ اپنی عزت نفس کو مجروح کئے بنا اپنی محنت اور عزمِ صمیم کے بل بوتے پر ملک میں اپنا نام اور پہچان بنائے۔