365 امّیدیں۔۔۔ تحریر: مراد علی شاہد

امید،آس ،لگن،سب اچھا ہوگا،اب اچھا ہی ہوگا ،سب ایسی باتیں ہیں جسے سنتے سنتے میں اپنے بچپن سے جوان اور اب بڑھاپے میں قدم رکھ رہا ہوں،مگر غریب کی امیدیں خوابوں تک ہی محدود رہیں جبکہ پاکستان میں ہر راج کرنے والی حکومت نے خواہ آمریت ہو کہ نام نہاد جمہوریت عوام کی امیدوں اور خواہشات کو ہی بنیاد پر اپنی طاقت اور اقتدار کے تاج محل تعمیر کئے ہیں،شائد اسی لئے سقراط نے کہا تھا کہ جمہوریت دنیا کا بدترین نظام حکومت ہے،اسی جمہوریت کے ایک فیصلہ نے سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔لیکن اگر تاریخ کے صفحات کا غیرجانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو ایک بات اظہرمن الشمس ہے کہ آج سقراط کا نام تو زندہ ہے لیکن اس کے خلاف فیصلہ دینے والے چار سو کے قریب ججز اور حکومت کے

چاپلوسوںمیں سے کسی ایک کا نام بھی تاریخ میں محفوظ نہیں ہو سکا شائد تاریخ کے اوراق نے بھی انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ بات ہو رہی تھی کہ عوام ہرآنے والے سال میں اپنی حکومت سے سوطرح کی امیدیں اورخواہشات کو پروان چڑھانا شروع کردیتی ہے کہ یہ سال گزرے تو سال نو کسی طور تو بہتر ہوگا،لیکن ایسا ہوتے میں نے اپنی زندگی میں ابھی تک نہیں دیکھا،ہر آنے والا دن،ہفتہ،ماہ اور سال ،سال گذشتہ سے عوامی امنگوں کا ترجمان نہیں ہوتا۔آس کی ڈوری جو، ہر طلوع ہونے والے سورج کے ساتھ بندھ جاتی ہے اور سراچہ آفتاب کے ساتھ ہی تار تارہوکر گھنجلک کا ایسے شکار ہوتی ہے کہ زندگی بھر اس کا سرا تلاشتے تلاشتے عوام کی زندگی پوری ہو جاتی ہے۔گزرے ہوئے سال کے365دن کا زمام اقتدار سنبھالے ہوئے ایوانوں سے اگر سوال کیا جائے کہ سالِ گذشتہ میں عوام کی فلاح،بہبود،ترقی،معیارِزندگی کے لئے کون سے اقدامات اٹھائے گئے تو اس کے سوا کوئی جواب نہیں آتا کہ سابقہ حکومتوں نے ملک کی بینڈبجا رکھی تھی اس لئے ہمیں ہرکام زیرو سے شروع کرنا پڑا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب سے حالیہ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے آئے روز کی طوائف الملوکی ملک کو اور بھی تنزلی کی طرف دھکیل رہی ہے،جو کسی طور بھی ملکی مفاد میں نہیں،لیکن کیا یہ سب حکومت ِوقت کے علم میں نہیں تھا جو ایک سو چھبیس روز اسلام آباد میں یہ شور مچاتے رہے کہ کرپٹ حکومت کے خلاف ہمارا اعلان جنگ ہے،گیس اور برقی بل کو نذرِ آتش کرتے ہوئے سول نافرمانی کا اعلانِ جنگ کرتے ہوئے کیوں نہ سوچا کہ ؟کل ہم بھی عوام کے کٹہرے میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔وعدوں کا لولی پاپ دے کر عوامی جذبات سے کھیلنے کی کیوں کوشش کی

گئی،شائد اس لئے کہ پی ٹی آئی کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ ۔۔۔ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانوں کی۔۔۔شریک ِ جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے۔۔۔بہت سے دوستوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہوگا کہ ابھی کون سے کرپشن سامنے آئی ہے کہ جس کوبنیاد بنا کرحالیہ حکومت کو عوامی کٹہرے میں لا کھڑا کردیا جائے تو عرض یہ ہے کہ ظلم سہنا بھی تو ظالم کی طرفداری ہے۔پکڑ دھکڑ،کرپشن کا واویلا،ریفرنسز،جیل یاترا اور پھر وہی چالِ بے ڈھنگی کہ’’ زور آورکا ست ویہہ سو‘‘۔مخالفت یہ نہیں کہ کرپٹافراد کو کیوں دانستہ ملک بدر یا گھر واپس بھیج دیا گیا،مسئلہ یہ ہے کہ وعدہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔روائت ہے کہ ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس کی نظر ایک بوڑھے دربان

پر پڑی جو محل کے صدر دروازے پر باریک اور پرانی وردی زیب تن کئے پہرہ دے رہا تھا،بادشاہ نے اس کے قریب جا کر سواری رکوائی اور دربان سے پوچھا کہ تمہیں اس وردی میں سردی تو نہیں لگ رہی ،دربان نے جواب دیا کہ جی حضور سردی تو لگ رہی ہے مگر میرے پاس گرم وردی نہیں ہے،یہ سن کر بادشاہ نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی اندر جا کر تمہارے لئے گرم وردی بھجواتے ہیں۔دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کرتے ہوئے تشکر کا اظہار کیا۔لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا،صبح دروازے پر دربان کی اکڑی ہو ئی لاش ملی اور قریب
ہی مٹی پر اس کی انگلیوں سے لکھی ہوئی یہ تحریر بھی تھی کہ’’عالی جاہ میںکئی سالوں سے سردیوں میں

اسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا،مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدہ نے میری جان لے لی‘‘لہذا بادشاہ حضور کو جب بھی وعدہ کرنا ہو سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے وگرنہ عوام جس حال میں جیسے بھی گزارہ کر رہی ہوانہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔کیونکہ عوام کی بھی یہ عادت پختہ ہو چکی ہے کہ سب بدل جائے گا ماسوا عوامی حالت کے۔حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو اگر سال کے 365 یوم میں روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک عوامی امید یا خواب کو شرمندہ تعبیر کردیا جائے تو سال میں کچھ اور نہیں تو چھوٹی چھوٹی تین سو پینسٹھ امیدیں تو بر لائی جا سکتی ہیں۔لیکن۔۔۔امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہوجاتی۔۔۔وعدہ نہ وفا کرتے،وعدہ تو کیا ہوتا