سکڑتی ہوئی معیشت اور بڑھتی ہوئی سماجی اور سیاسی بحرانی کیفیات۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت اس وقت کئی محاذوں پر نبر آزما ہے سیاسی معاملات ہوں ، نیب ،اینٹی کرپشن ، یا معاشی میدان ، پی ٹی آئی کی قیادت اپنی انتظامی سیاسی اور معاشی نظریاتی تناظر میں مسائل کو حل کرنے میں مصروف ہے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے سیاسی اور معاشی میدان میں صورتحال بہتر نہیں ہو سکی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں ۔چاروں صوبوں میں جہاں ایک طرف ترقیاتی کاموں کی رفتار سست روی کا شکار ہے وہیں صنعتوں کا برا حال ہے جن میں آٹو، ٹیکسٹائل، سیمنٹ ، کھاد ، شوگر ، زراعت اور دیگر دوسرے شعبے بحران سے دو چار ہیں ۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہو رہا ہے 1سو روپے فی کلو سے 1پائو

تک مختلف سبزیاں فروخت ہو رہی ہیں غریب آدمی اپنے بچوں کو گوشت کھیلانے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا ہے دودھ اور دہی انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں ، لوگ بمشکل اب ایک کپ چائے کا پی سکتے ہیں کئی گھرانوں نے کھانے کو دو وقت تک محدود کر دیا ہے ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نجی اداروں نے کھلی لوٹ مار مچا رکھی ہے فیسوں اور دوائوں اور علاج معالجے کے معاوضوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے حکومت نے ہائیر ایجو کیشن کے بجٹ میں کمی کر دی ہے جس سے پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں مالیاتی بحرانوں سے دو چار ہیں ۔ اس ساری صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے ، ہماری ریاست بالخصوص عمران خان کی حکومت نے اشرافیہ کے مفادات کی خاطر نیو لبرل معاشی ایجنڈے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونا شروع کر دیا ہے اور زیادہ انحصار نجی شعبے پر کر رہی ہے ۔ اس کے پاس کوئی ایسی منصوبہ بندی یا روڈ میپ نہیں ہے جس سے وہ عوام کو ریلیف دے سکے وہ بے گھر لوگوں کیلئے شیلٹر ہوم اور لنگر خانے قائم کر کے سستی شہرت حاصل کرنے کے چکر میں ہے اس سے پہلے اس نے مرغیوں اور بکریوں کی تقسیم کے ذریعے غربت کو کم کرنے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صرف پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلے دور میں غریب طبقات کیلئے قانون سازی کی تھی۔ بے گھروں کو پلاٹ دیئے ۔ مزدروں کیلئے لیبر کالونیاں تعمیر کیں، پیپلز ورکس پروگرام کے تحت لوگوں کو معاشی سر گرمیوں میں شامل کیا، پڑھے لکھے نوجوانوں کو وظائف دیئے محنت کش طبقات کیلئے EOBIاور سوشل سیکیورٹی کے محکمے قائم کئے۔ جبکہ عمران خان کی حکومت کے پاس فلائی ریاست کے حوالے سے کوئی

روڈ میپ موجود نہیں ہے پی ٹی آئی کی پنجاب صوبہ میں قائم حکومت بیڈ گورننس سے دو چار ہے صوبے کی انتظامیہ مشینری اور اس کے درمیان بے اعتمادی کی فضا قائم ہے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بیورو کریٹس کی تنخواہوں میں 120%تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے، یاد رہے کہ حکومت نے چند ماہ پہلے پنجاب اسمبلی کے اراکین کیلئے مراعات میں اضافے کا اعلان کیا تھا جس پر عمران خان نے بر ہمی کا اظہار کیا تھا ۔ عمران خان کی حکومت 90%غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے بس صبر کی تلقین کر رہی ہے ۔ چھوٹا طبقہ اور تیس سے چالیس ہزار آمدنی والے طبقات کی قوت خرید انتہائی کم ہو چکی ہے ایک آدمی جو کہ 2017میں ایک کلو سیب خرید سکتا تھا اب وہ محض آدھا کلو ہی بمشکل حاصل

کر سکتا ہے اس ساری صورتحال میں غریب طبقات انتہائی پریشان ہے اور تیزی سے غربت کی سطح سے نیچے جا رہے ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت انتخابات سے قبل کیے جانے والے اپنے وعدوں سے خود ہی انحراف کر رہی ہے بنیادی وجہ یہ ہے کہ نعرے وعدے اور دعوئے حقائق پر مبنی نہیں تھے بلکہ جھوٹے اور گمراہ کن ثابت ہوئے ہیں ۔چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ بیرون ملک گئی ہوئی رقم واپس نہیں لا سکتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ پاکستانیوں کے100ارب ڈالر ملک سے باہر ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے باہر جانے والا پندرہ سے بیس فیصد روپیہ کرپشن کا ہوتا ہے 50%دولت قانونی طریقہ سے بھجوائی گئی ہے گزشتہ 20برسوں سے پاکستان سے سالانہ چھ ارب ڈالر بیرون

ملک بھیجے گئے تھے پاکستان کے ہر دولت مند کی جائیدادیں اکائونٹس اور کاروبار بیرون ممالک میں ہے جس کی وجہ وہاں پر ان کا سرمایہ محفوظ رکھنے کی گنجائش موجود ہے ملک میں ڈاکٹر اور انجینئر اور وکلاء ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں ۔ نہ ہی زراعت پر ٹیکس دیا جاتا ہے ۔ صرف3%دکاندار ٹیکس دیتے ہیں جبکہ70%مینو فیکچر شعبہ سے آتا ہے یا عوام سے بلاواسطہ وصول کیا جاتا ہے یہاں امن عامہ کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں مختلف کاروباری طبقات کے نمائندوں اور ماہرین معیشت کے مطابق 1990کے بعد بہت زیادہ دولت باہر گئی ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کی وجہ سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہے ۔ جس میں امن عامہ کی بگڑی صورتحال ، کراچی میں لاثانی گروہ کی

طرف سے جگا ٹیکس اور بلیک ملینگ کی دھمکیاں وغیرہ شامل ہیں ۔ حالیہ صورتھال میں نیب اور ایف بی
آر کی طرف سے مختلف کاروباری شخصیات اور اداروں کو ٹیکس اور کرپشن کے الزامات میں سخت دھمکیاں شامل ہیں ، اس کے علاوہ سیاسی وجوہات بھی ہیں ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں تاجر برادری اور علاقائی اجارہ داریوں اور قبضہ گروپوں اور بیورو کریسی سابقہ حکمرانوں کی حامی ہے جس کی وجہ سے وہ پی ٹی آئی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی ہیں جبکہ کاروباری اور صنعتکارو ں نے اپنا سرمایہ کاروبار سے نکال لیا ہے مسلم لیگ کی قیادت کرپشن کے الزامات میں جیل میں ہے جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔مسلم لیگی حکومت نے براہ راست ملک کی اکثریتی آبادی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں

لہذا اس کو عوامی سٹریٹ پاور کی حمایت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ طبقات ایجی ٹیشن کیلئے سڑکوں پر آنے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ کاروباری طبقات نے کبھی بھی کسی احتجاجی عمل میں حصہ نہیں لیا ہے کیونکہ وہ اپنے مفادات کیلئے ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات بگڑانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کیونکہ انہیں ہر صورت میں پاکستان میں ہی رہنا اور کاروبار کرنا ہے۔یہی صورتحال تحریک انصاف کے حامیوں کی ہے جو کہ موجودہ مالیاتی اور معاشی نظام کے حامی ہیں وہ بھی کسی احتجاجی تحریک میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سڑکوں پر نہیں آسکتے ہیں دوسرے پی ٹی آئی کے حامی طبقات میں سرمایہ دار اور جاگیر دار شامل ہیں جو کہ پرانی اجارہ داریوں کی جگہ لینا چاہتے ہیں ۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں بلدیاتی ادارے اپنے

مالیاتی امور پراپرٹی ٹیکس کی ریکوری سے چلاتے ہیں ہندوستان کے سب سے بڑے شہر ممبئی کی میٹرو پولیٹن کارپوریشن اپنے آخراجات رئیل ٹیکس کی وصولی سے پورے کرتی ہے جبکہ پاکستان کے شہروں میں اس کی شرح بہت کم ہے ۔پاکستان میں معیشت کو بڑھتی ہوئی آبادی اور سکڑتی ہوئی معیشت کا سامنا ہے ، دفاع اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بعد صرف 30%بچ جاتا ہے جس میں سے تعلیم اور صحت کیلئے بہت کم خرچ کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے ان شعبوں کو تقریباً نجی شعبے کے سپرد کر دیا گیا ہے ریونیوں کے اہداف کو پورا کرنے کیلئے تمام شعبہ زندگی کو نیٹ ورکس میں شامل کرنا ضروری ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے کبھی کاروباری طبقات سے ٹیکس وصول کرنے کی کوشش نہیں کی ہے کیونکہ وہ اپنے ووٹ

بینک کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی موجودہ حکومت نے جب ٹیکس کی وصولی کیلئے سخت اقدامات کرنے کی کوشش کی ہے تو تاجر برادری کو اپنے مفادات خطرے میں نظر آئے ہیں مثلاً اس نے اپنے گاہکوں سے شناختی کارڈ لینے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کیلئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے جنہوں نے فرمایا ہے کہ کاروباری حلقے اپوزیشن کے ساتھ تعاون نہ کریں تو ان کے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہیں ۔تاجروں کا شکوہ ہے کہ حکومتوں کو اپنی جاری مالیاتی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسا فریم ورک بنانا چاہیے جس میں تمام اسٹیک ہولڈر بالخصوص تاجروں اور صنعتکاروں کو شامل کیا جائے، یہ خیال میں تمام اسٹیک ہولڈر میں محنت کشوں اور کسانوں کے نمائندوں کو

بھی شامل کرنا چاہیے کیونکہ وہ بھی حکومتی اقتصادی پالیسیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اس وقت سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بلند شح سود اور انڈسٹری کیلئے مہنگی بجلی اور گیس کے مسائل ہیں جس کی وجہ سے پیدا واری لاگت میں اضافہ ہوا ہے سندھ میں پنجاب کی نسبت صنعتکاروں کو سستی بجلی مل رہی ہے حکومت سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو ریلیف دینے کے بارے میں یقین دلایا ہے جبکہ چیئر مین نیب جاوید اقبال نے صنعت کاروں اور تاجروں کے خلاف کیسوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے معاملات ایف بی آر طے کرے گا جس سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ نیب قوانین کا مقصدصرف حکومت مخالف سیاستدانوں ڈرانا تھا۔ پرویز مشرف کے عہد اقتدار میں ٹریکل ڈائون اکانومی کا تاثر ابھارا گیا تھا جس

سے مراد یہ تھا کہ جب ملک کے دولت مند افراد کے حزانے بھر جائیں گیں تو ان کے تجوریاں over flowہونے سے ٹپک ٹپک کر نیچے گرنا شروع ہو جائیں گے جس سے عوام فیض یاب ہونگے ۔مگر یاد رہے سرمایہ داری نظام میں ایسی کوئی گجائش موجود نہیں ہے کہ آمیر طبقات اپنے منافوں کو غریبوں یا ریاست کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کریں ایک دفاع ساز ادارے کے مالک کا کہنا ہے کہ ہم نے منافع کمانا ہے نہ کہ غریب عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچنا ہے ایک حالیہ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے ٹریکل ڈائون اکانومی کو ایک فریب قرار دیا ہے یاد رہے کہ پہلے سوشلسٹ نظام اور اب سوشل ڈیمو کریسی میں قانون سازی کے ذریعے سرمایہ داروں سے زیادہ ٹیکس وصول کر کے اس کو عوام کی فلاح و بہبود پر

خرچ کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں فلاحی ریاست کا کوئی تصور موجو د نہیں ہے ہمارے ہاں مہنگائی سے جہاں قوت خرید میں کمی ہوئی ہے وہاں بچتے نہ ہونے کے برابر ہیں اور دوسری طرف آئی ایم ایف جیسے ادارے حکومت کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مانیٹرنگ ڈسپلن قائم کرے شرح سود شرح مہنگائی سے کم ہوتا ہے اور اس میں اضافے سے قرضوں کے ڈیفالٹ میں اضافہ ہوتا ہے ، قصہ مختصر یہ کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ جہاں ایک طرف قوت خرید کم کر دیتا ہے تو دوسری طرف صنعتی سر گرمیاں شرح سود میں اضافے سے کم ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں قومی پیدا وار کم ہوتی ہے مہنگائی ایسا فیکٹر ہے جس سے معیشت دانوں کو بھی پریشانی ہو جاتی ہے ۔حکومت اگر یوٹیلٹی بل میں اضافے کا بل عوام پر نہ ڈالے تو مہنگائی

کی شرح میں اتنا اضافہ نہ ہوا پچھلے ماہ گیس کی قیمتوں میں 115%پیٹرول22%اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں12%اضافہ ہوا ہے جس سے مہنگائی تیزی سے بڑھی ہے یاد رہے حکومت تیل اور گیس کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مطابق طے نہیں کر رہی ہے اور اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنا ہے ، حکومت کو سمجھنا چاہیے موجودہ زبوں حال معیشت میں اس کی پالیسیز سارے میکرو اکنامک سٹکچر کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکومت کو بہتر اقدامات کرنے ہونگے ورنہ ساری معیشت دھڑم سے نیچے آ گرے گی۔