عالمی ویکسین مہم میں رکاوٹ کی بڑی وجہ سوشل میڈیاپر افواہیں ۔۔۔ تحریر: محمد مظہررشید چودھری

گزشتہ دنوں ایک چونکا دینے والی خبر نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ متنازعہ، غریب ترین اور جنگ زدہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بچوں کی بڑی تعداد ویکسین سے محروم رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے ان میں خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیںعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف کے حالیہ اعداد وشمار کے مطابق 2010 کے بعد خناق ، تشنج اور کالی کھانسی اور خسرے کی ویکسین کی شرح 95 فیصد کے بجائے قریباََ86 فیصد رہی ،عام بیماریوں سے بچانے والی ویکسین دینے کا ہدف بھی پورا نہیں ہوسکا ہے،عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو کروڑ بچوں کو ویکسین نہیں دی گئی، یعنی دس میں سے ایک بچہ عام بیماریوں کا شکار

ہوسکتا ہے،ہیڈی لارسن جوکہ ویکسین کانفیڈنس پروجیکٹ کی سربراہ ہیں کا کہنا ہے کہ غریب اور ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین کے خلاف سوشل میڈیا پر مہمات چلائی جارہی ہیں جن میں سیاسی مقاصد بھی شامل ہیں ادارہ یونیسیف کا کہنا ہے کہ دوردراز دیہی علاقوں میں بچوں تک رسائی بڑا اہم مسئلہ ہے،نائجیریا، پاکستان اور بھارت میں 70 لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہ گئے ہیں جبکہ جنگ زدہ ممالک صومالیہ، مالی، افغانستان، جنوبی سوڈان، شام اور یمن میں حالات اور بھی خراب ہیں جہاں سے ڈیٹا ہی حاصل نہیں کیاجا سکا ، عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ 2018 میں خسرے کے واقعات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے یعنی 350,000 کیسز رجسٹر ہوئے ہیں،اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیموں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کی اپنے بچوں کو ویکسین دینے کی جانب توجہ کم ہو رہی ہے یہاں تک کہ یورپ میں بھی ویکسین نہ دینے والے افراد میں اضافہ ہورہا ہے،جس کی وجہ سے ویکسینیشن کی شرح کم ہوئی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں خسرے کے مریض بڑھے ہیںکہا جاتا ہے کہ یہ سب افواہوں نے کام دکھایا ہے،یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرکا کہنا ہے کہ خسرہ ایک چھوت کا مرض ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے اس کے بارے ڈیٹا بھی غائب ہے بچوں کی ویکسین تک رسائی بھی نہیں ہے ،برطانوی ویلکم فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں لوگوں کا ویکسین پر سے اعتبار کم ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے پانچ میں سے ایک فرد ویکسین کی افادیت کا قائل نہیں ہے ،جس میں زیادہ عمل دخل سوشل میڈیا پر افواہوں کا بھی ہے سانچ کے قارئین کرام !پاکستان میں رواں سال (2019)پولیو کیسوں کی تعداد 45 ہوگئی ہے جس میں 35 کیس تو صرف خیبر

پختونخوا میں سامنے آئے ہیں،خیبر پختونخوا میں 35 کیسوں میں سے 17 بنوں، ضم شدہ اضلاع سے آٹھ، تور غر سے پانچ جبکہ لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو اور شانگلہ سے ایک، ایک کیس سامنے آیا ہے،پنجاب سے پانچ، سندھ تین اور بلوچستان سے پولیو کے دو کیس ریکارڈ کیے گئے ہیںیہ تمام ڈیٹاپولیو کے حوالے سے تشکیل کردہ قومی ایمرجنسی سینٹر کا ہے ،ملک بھر میںپولیو کے کیسوں کی اتنی بڑی تعداد سامنے آنے کی چند وجوہات سننے کو مل رہی ہیں جن میں سے ایک بڑی وجہ تو پولیو ویکسین کے بارے پیدا ہونے والی غلط فہمیاں ہیں،جنکے بارے محکمہ صحت اور حکومت پاکستان کے ادارے اِن غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے بھر پور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں ،بعض جگہوں پر خاص طور پر دوردراز کے

علاقوں میں پولیو ورکرز کی غفلت کو بھی زیر بحث لایا جاتا ہے جبکہ ویکیسن کے معیار پر بھی شکوک و شبہات بڑھنے کی وجہ سے بچوں کو ویکسین نہ پلانے سے بھی پولیو کے کیس سامنے آئے ہیں ،گزشتہ سال 2018میں پاکستان سے پولیو کے 12 کیس سامنے آئے تھے، جن میں سندھ سے ایک، خیبرپختونخوا سے دو، فاٹا سے چھ اور بلوچستان سے تین کیس ریکارڈ ہوئے تھے،کہا جاتا ہے کہ دنیا میں تین ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے ان ممالک میں نائیجیریا ،افغانستان ،پاکستان شامل ہیں،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ ممالک پولیو وائرس سے پاک نہ ہو سکے تو یہ وائرس ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتا ہے ، معذوری سے بچانے والی پولیو ویکسین کے بارے میں پاکستانی عوام میں شکوک و شبہات پائے

جاتے ہیں جوکہ لمحہ فکریہ ہے حکومت کے تمام تر اقدامات کے باوجود غلط فہمیوں نے عوام میں خوف پیدا کیا جو کہ بچوں اور نئی نسل کی صحت ومستقبل کے لئے بہتر نہ ہے اس خوف اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے تمام مکاتب فکر کے افراد کو آگے آکر پولیو ویکسین اور دیگر ویکسین کے بارے لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا ،دو لاکھ 62 ہزارسے زائد پولیو ورکرزپاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہیں جو انسدادِ پولیو مہمات کے دوران گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں ، پاکستان کے پولیو ورکرز کی 70 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے ،رواں سال جون میں ڈبلیو ایچ او کی سفارش پر پاکستان کے تمام شہریوں کو ملکی ایئرپورٹس پر پولیو کے قطرے پلائے جانے کا کہا گیا تاکہ

اس مرض کو دنیا میں پھیلنے سے روکا جا سکے،حکومت پاکستان نے اس مرض کے مکمل خاتمے کے لئے ویکیسنیشن ٹیموں کو بہتر سیکورٹی فراہم کی ہے ، خطرناک علاقوں میں کام کرنے والے رضاکاروں کو پولیس سیکورٹی فراہم بھی کی ہے ،اور سینکڑوں والدین کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلا کرصحت عامہ کو خطرے میں ڈالنے کی بنا پر گرفتار کیا گیاہے، پاکستان میں 1978 سے پہلے برس کے بچوں کو 6 متعدی بیماریوں سے بچائو کی ویکسی نیشن دینے کا سلسلہ جارہی ہے،ان بیماریوں میں پیدائش کے فوراََ بعدپہلا ٹیکہ تپ دق یا ٹی بی کا لگانے کے ساتھ پولیوویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں، 6 ہفتے بعددوسرا ٹیکہ خناق کالی کھانسی اورتشنج سے بچائوکا لگایا جاتا ہے اور پولیو سے بچائو کے قطرے بھی پلائے جاتے ہیں، 10 ہفتے بعد پھر خناق کالی کھانسی اورتشنج سے بچانے کا ٹیکہ اورپولیو کے قطرے دئیے جاتے ہیں،چوتھی ویکسی نیشن 14 ہفتے کے بعد کی جاتی ہے اور 9 ماہ کی عمر میں پہنچنے پر خسرہ سے بچائو کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے،اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کو سال میں تین سے چار بار انسداد پولیو مہم کے دوران قطرے پلائے جاتے ہیں ۔