( ام الخبائث)شراب کا عقلی اور معاشرتی فساد ۔۔۔ تحریر : محمد مظہر رشید چودھری

قرآن مجید میں سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۹۰ اور۹۱میں ارشاد ہوتا ہے “اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تم میں دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکے، سو اب بھی باز آجاؤ”۔ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ” زانی جب زنا کرتا ہے تو زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا اور شراب نوشی کرنے والا جب شراب نوشی کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا اور چوری کرنے ولا جب چوری کرتا

ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور لوگوں سے مال چھیننے والا جب مال چھینتا ہے اور لوگ اسکی طرف آنکھیں اُٹھائے ہوئے ہوتے ہیں وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا ” صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2295 ) ،صحیح مسلم حدیث نمبر ( 86 ) ۔عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے شراب، اور شراب نوشی کرنیوالے، اور شراب پلانے والے، اسے فروخت کرنے والے اور خریدنے والے اسے تیار کرنے والے اور تیار کروانے والے، اسے اٹھا کرلے جانیوالے اور جس کی طرف لیجائی جارہی ہے ان سب پر لعنت فرمائی . سنن ابوداود حدیث نمبر ( 3489 )، شراب ام الخبائث یعنی گندگی کی جڑ ہے، جوشراب نوشی میں پڑ جائے اس میںدیگر حرام کام کرنے کی جرات پیدا ہو جاتی ہے ، اسلامی تاریخ میں شراب نوش کی سزامقرر ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا اس نے شراب پی رکھی تھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس کوڑے لگائے، راوی کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ تعالی نے بھی ایسے ہی کیا اورجب عمر رضی اللہ تعالی کا دور تھا توانہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا تو عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ حدود میں کم از کم اسی ہیں تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی کا حکم دیا ۔سانچ کے قارئین کرام : شراب کو بہت سے مذاہب میں برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے اردو شعراء نے شراب کی تعریف میں مبالغہ سے کام لیا ہے خاص طور ہندی اردو فلموں میں شراب کے سین مختلف جرائم پیشہ افراد کے ہاں دیکھانے کی بجائے غم غلط کرنے کے لئے زیادہ دیکھائے جاتے رہے ہیں جس سے نوجوان نسل میں اسکے بُرے اثرات بھی پڑے ،طبی لحاظ سے اسکے نقصان زیادہ اور فائدے نہ

ہونے کے برابر ہیں ،دنیا بھرمیں تین دہائیاں پہلے تک شراب پینے والوں میں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی تھی لیکن دودہائیوں سے خواتین میں شراب نوشی کا رجحان بڑھا ہے خاص طور پر مغربی ممالک میں خواتین میں شراب نوشی ہمارے خطہ سے کہیں زیادہ ہے کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں 57فیصد خواتین کی موت جگر کی خرابی کے باعث ہوئی جبکہ مردو ں میں یہ تناسب 21فیصد رہا لہذا شعبہ طب پر تحقیق کرنے والوں پر یہ بات آشکار ہوئی ہے کہ خواتین میں شراب کے زیادہ خطرناک اثرات پڑتے ہیں جبکہ مردوں میں شراب کے بُرے اثرات کا تناسب خواتین کے مقابلے کم ہے ،عالمی ادارہ صحت کی ایک

رپورٹ کے مطابق شراب نوشی سے دنیا بھر میں ہر سال تین ملین افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں یہ تعداد ایڈز اور سڑک پر ہونے والے حادثات میں مجموعی طور پر مرنے والے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ ہے ،یہ ہلاکتیں زیادہ تر نشے میں ڈرائیونگ، تشدد اور بدسلوکی کی وجہ سے ہوتی ہیں، سانچ کے قارئین کرام ! شراب نوشی مختلف نفسیاتی اور ذہنی عارضوں کا سبب بھی بنتی ہے،ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ معاشروں کو کمزور کرنے والی اس بری عادت کے خلاف جنگ کی ضرورت ہے اور اقوام عالم پر زور دیا ہے کہ شراب نوشی کے سد باب کے لیے بھر پور کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کا

استعمال میں کم از کم 10 فیصد تک کمی لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں،اگر شراب کی تیاری اور اسکے استعمال کے بارے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سندھ کے کھنڈرات سے ملنے والے شراب کشید کرنے والے آلات 4000 سال پرانے بتائے جاتے ہیں جبکہ ٹیکسلا کے عجائب گھر میں موجود آلات کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی مدد سے تیل اور الکحل مشروبات کشید کیے جاتے تھے،تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ 16ویں صدی میں مغل درباری شراب سے لطف اندوز ہواکرتے تھے زیادہ تر سلاطینِ دہلی (1206—1526) اور ہندوستان میں مغل بادشاہ (1526—1857) مقامی اور غیر ملکی شراب پیتے تھے صرف دوبادشاہوں نے

الکحل مشروبات پر پابندی لگائی جن میں علاوہ الدین خلجی(1296–1316) اور اورنگ زیب (1658–1707) تھے پابندی کے باوجود ملک میں شراب کشید کی جاتی رہی ، اور لوگ اسے خریدتے اور پیتے تھے ،ہندوستان میں مقامی طور پر شراب کشید کی جاتی رہی ، 1860 ء میں انگریزوں نے پہلی مرتبہ شراب کشید کرنے کا جدیدپلانٹ گھوڑا گلی (مری)، اور پھر کوئٹہ میں لگایا گیا یہ پلانٹ “مری بریوری” ( Murree Brewery )کے نام سے تھا ،1930 ء کی دہائی میں کراچی کے علاقے ملیرمیں ایک بارکھولا گیا،جس کے بعد بارز اور کلبوں کا رواج اس خطہ میں پڑ گیا ، کہا جاتا ہے کہ 1940 کی دہائی میں ایک پارسی بزنس

فیملی نے مری بریوری کو خرید لیا۔پاکستان بننے کے بعد اْس خاندان نے یہاں کی شہریت اختیار کر لی۔ مری بریوری پاکستان میں شراب کشید کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔1977 میں مذہبی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ایک الائنس (پی این اے ) کے رہنماؤں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مذاکرات کے دوران جو مطالبات پیش کیے اْن میں سے ایک نائٹ کلبوں ،بارز اور ملک میں الکحل کی مصنوعات پر مکمل پابندی شامل تھی جسکو بھٹو حکومت مان گئی جبکہ 1973میں ذوالفقارعلی بھٹوکی حکومت نے پاکستان بھر میں شراب کی فروخت پر پابندی کی قرار داد مسترد کر دی تھی ،اپریل 1977میں بھٹو نے نائٹ کلب، بارز اور شراب

کی دکانیں بند کرنے کا حکم جاری کیا جس کے تحت الکحل کی ہر قسم کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی لگائی گئی الکحل فروخت کرتے ہوئے پکڑے جانے والوں کے لیے کچھ جرمانہ اور چھ ماہ تک قید کی سزا رکھی گئی تاہم غیر مسلموں کے لیے شراب پر پابندی نہ رکھی گئی ،1979میں جنرل ضیا الحق کی حکومت شراب فروخت کرنے اور پینے کی پاداش میں 80 کوڑوں کی سزا دیتی،تاہم غیر ملکیوں اور پاکستانی غیر مسلموں کے لیے ’’لائسنس یافتہ شراب کی دکانیں‘‘ کھولنے کی اجازت تھی ، ان دکانوں کو حکومت سے خصوصی اجاز ت نامہ حاصل کرنا پڑتا1980کی دہائی میں غیر قانونی طور پر شراب بنانے اور بیچنے والے

مافیا کو بے پناہ ترقی حاصل ہوئی چونکہ پابندی کی وجہ سے غیر ملکی شراب کی قیمت میں بے حد اضافہ ہوا، اور غیر معیاری جعلی شراب تیار او ر استعمال کی جانے لگی جس کے استعمال سے ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا جو آج تک جاری ہے ،اگر ایک ضلع اوکاڑہ کی بات کی جائے تو گزشتہ سال 2018میں منشیات کے1356مقدمات درج ہوئے،جسمیں شراب کی چالو بھٹیاں112 ، شراب(39552)لیٹر اور لہن (1274) لیٹر برآمدکی گئیں ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اطہر اسماعیل کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لانے کے واضح احکامات پر ضلع بھر کی پولیس نے سال 2019کے پہلے چھ ماہ میں

تین سوسے زائد ولائتی شراب کی بوتلیں ، سینکڑوں لیٹر دیسی شراب اور درجن سے زائد چالو بھٹیوں پر کاروائیاں کرتے ہوئے شراب فروشوں کو گرفتار کیا اور مقدمات درج کئے ، ڈرگ ایکٹ 1979کے تحت پولیس کی کاروائیاں تو جاری رہتی ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اسلامی معاشرے میں منشیات خاص طور پر شراب کا کاروبار کرنے والے افراد معاشرے کے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کا سبب نہیں بن رہے ؟؟؟