سحر نو کا آغاز۔۔۔ تحریر : انشال رائو

روسو نے کہا تھا کہ”انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے” کے مطابق آزادی یہ نہیں کہ آدمی کے پاس خوراک ، لباس، اچھی تعلیم، صحت کی سہولیات، سیرو تفریح کی جگہ، بہترین ماحول اور رہنے کے لئے ڈھنگ کی جگہ تک میسر نہ ہو ،اس لئے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اب ایک عام پاکستانی کا انحصار دوسروں پر ہے اور اس کی آزادی محدود ہوکر رہ گئی ہے ہم پچاس سالوں سے قرضوں کی زدمیں چلے آرہے ہیں لیکن بالخصوص گذشتہ دو ادوار میں قرضوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں نتیجتاً ہم آزاد ہو کر بھی اپنے فیصلے اور معاملات طے کرنے میں آزاد نہیں۔ آزادی کے حصول اور اسے باقی رکھنے کے لئے دولت کی ریل پھیل میں توازن ضروری ہے لیکن سوال پھر وہی ہر پاکستانی کے ذہن میں کچوکے مار رہا ہے کہ ہم کیوں سر سے پائوں تک قرضوں میں ڈوبے اور ڈوبتے ہی چلے گئے ، کیوں

ہمارے سابق حکمران اس قابو لانے کیلئے غیر سنجیدہ رہے؟ آخر کیوں مائوں کے پیٹ میں بچوں کو قتل کرنا اس لئے جائز قرار دے دیا گیا کہ بعد میں ان پر خرچ نہ کرنا پڑے۔تھر میں ہزاروں مائوں کی اجڑی ہوئی گودیں ہم سے سوال کرتی ہیں لیکن ہمارے ارباب اقتدار منرل واٹر پی پی کر ائیرکنڈیشنڈز روم میں بیٹھ کر ٹوئیٹ کے ذریعے بیان داغتے رہے ،یہاں بڑی بڑی رپورٹیں بنتی رہیں مگر لوگ فقط دو وقت کی روٹی کے عوض معمولی تنخواہ پر کام کرتے رہے اور اپنے معصوم بچوں کو سردیوں کی یخ بستہ ٹھندی راتوں میں بھیج کرانڈے فروخت کرنے پر مجبور ہوئے۔ہر سال مقدس ایوان میں جھوٹ پر جھوٹ گھڑے جاتے کہ افراط زر کو کافی حد تک کنٹرول کرلیا گیا ہے جبکہ لوگوں کی قوت خرید خطرناک حد تک کم ہوتی رہی۔ مشرف دور میں آٹا13روپے میں تھا جو آج چالیس روپے اور دیگر اشیائے ضرورت بھی چھ سو سے ایک ہزار فیصد مہنگی ہوچکی ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کشش ثقل کو اتنا پیارا ہوا کہ زمین کی آخری پرت میں پہنچ کرآج ہم ایشیا میں نیچے سے ٹاپ پوزیشن پر ہیں یہ اور ان سے متعلق ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب ہر پاکستانی چاہتا ہے اور دوسری طرف خدشات اپنی جگہ موجود ہیں : کہ،کیا ہم کسی بہت بڑے اقتصادی دھماکے کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟جس کے سامنے پچھلے تمام بحران معمولی ثابت ہوں گے! اگر یہ سچ ہے تو کیا ہم اسے روک سکتے ہیں؟یا ہم افراط زر اور قرضوں کے ڈنگ کی پیدا کردہ اس غریبی کو پہنچ کررہیں گے جس سے مزدوریوں اور بچت سے محروم ہوکر رہ جائیں؟ ایسے میں ہم اپنے عزیزوںاور معاشرے کو کیسے بچا سکیں گے؟ یا پھر ہمیں مگر مچھوں کے بیل آئوٹ پیکیج کے ذریعے اپنے ایٹمی اثاثے رول بیک کرنا پڑیںگے جسے ہم نیـ”گھاس کھائیں گے ایٹم بن بنائیں گے”کے عزم

سے بنایا تھا؟ اگر موجودہ بجٹ کا مشاہدہ کریں توحکومت نے ان تمام اور ان سے متعلق دیگر سوالات و خدشات کے پیش نظر ہی یہ بجٹ اور پالیسی تشکیل دی ہے اور روایتی نمبر گیم سے ہٹ کر سامنے آئے ہیں دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز جاننے کی کوشش کریں تو یہ ایک ایسا راز ہے جو سب کو معلوم ہے کہ اس کے پیچھے نیچرل ریسورس اکنامکس پر بھرپور توجہ اور بہترین استعمال ہے جیسا کہ ہم سب واقف ہیں کہ پاکستان کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے اور ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں ہمارے پاس سمندر،پہاڑ،میدان، صحرا، وادیاں، دریا، آبشار، جھیلیں اور ہر قسم کا موسم موجود ہے ۔اسی لئے اقبال کے مصرعے”یونانیوں کو جس نے حیران کردیا تھا”کے عین مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ موجودہ حکومت نے نہ صرف قدرتی وسائل اورزمینی حقائق سے فائدہ اٹھانے میں سنجیدگی دکھائی ہے بلکہ ا

سے عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں بھی ہے۔ اس کے پیچھے عمران خان کی سوچ کارفرما ہے اور اکثر و بیشتر ان کے خطابات میں سیاحت، انڈا مرغی، بھینس کے کٹے، فشریز،بارہ موسم وغیرہ وغیرہ پر پر توجہ دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور موجودہ بجٹ میں “مٹی کہ جس کو حق نے زر کا اثر دیا تھا” کے مصداق زراعت کو صوبوں کے تعاون سے جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کا اعلان کیاہے ۔موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں کہ وہ مختلف منرلز اور معدنیات کے حصول کے لئے کوشاں ہیں اور پائے جانے والے منرلز کے بہترین استعمال کی طرف گامزن ہیں۔ لیکن انہیں نیچرل ریسورس اکنامکس کے فروغ میں اندرونی وبیرونی طور پر شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔موجودہ بجٹ کا کل حجم سات ہزار ارب سے زائد ہے جس کا تقریباً چالیس فیصد قرضوں اور سود کی ادائیگی پر مختص کیا گیا ہے جو سابق

حکمرانوں پر سوال بن کر لٹکتا ہے کہ یہی وہ قرض کی لعنت ہے جو آج تک ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت نے ایف بی آر ٹیکس وصولی کاہدف5550ارب روپے رکھا ہے جس کا حصول بظاہر تو بہت مشکل نظر آتا ہے لیکن اگر کرپشن اور بدعنوانی کو سختی سے روک لیا جائے تو عین ممکن ہے کہ ہم ٹیکس وصولی میں اپنا ہدف عبور کرلیں بصورت دیگر موجودہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا5.5فیصد سے بڑھ کر 7سے8فیصد تک جاسکتا ہے جو کہ ایٹمی دھماکے سے کم نہ ہوگا اس لئے موجودہ حکومت کو کرپشن اور بدعنوانی کو ترجیحی بنیادوں پر روکنا ہوگا۔مغربی ممالک میں ٹیکس کلیکشن GDPکا تقریباً30فیصد تک ہے جبکہ پاکستان 9فیصد ہے اب ایسے میں مشکل صورتحال کی وجہ سے موجودہ حکومت کا ٹیکسو ں میں تھوڑا سا اضافہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں اور دلچسپ بات تویہ ہے کہ وہ لوگ

جن کا سب کچھ باہر ہے عمران خان پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں جب کہ یہ لوگ مغربی ممالک میں بغیر کسی چوں چراں کے ٹیکس ادائیگی وہاں کے ریٹ کے مطابق کرتے ہیں ہمارے سابق حکمرانوں کا اپنا پیسہ تو بیرون ممالک کے بنکوں میں محفوظ رہا اور ایسے میں بھلا دیگر عام پاکستانی اپنے ملک کے بنکوں پر کس طرح اعتماد کر سکتے تھے جو وہ یہاں اپنا سرمایہ منتقل کرتے لیکن موجودہ حکومت کی اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کہ وہ اپنا سرمایہ پاکستانی بنکوں میں منتقل کریں ان کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ عمران خان کا اپنا سرمایہ پاکستان میں موجود ہے۔ اس بجٹ میں حیران کن انکشافات ہوئے کہ تقریباً80فیصد طبقہ ٹیکس کا اہل ہونے کے باجود پچھلی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث ایف بی آر کی پہنچ سے دور رہا لیکن اس بار یہ ٹیکس وصولی بھی یقینی دکھائی دیتی ہے۔ٹیکس کی عدم وصولی ایک پہلو

بدعنوان ملازمین اور ریاستی تحفظ کا نہ ہونا بھی ہے ،اب سے پہلے اندرون ملک ضروریات پوری کرنے کے لئے بے دریغ نوٹ چھاپے جاتے تھے جس سے افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ ہو کر براہ راست تاجروں اور صنعت کاروں کو فائدہ پہنچتا مگر یہ پہلا موقع ہے جب اسٹیٹ بنک کو افراط زر پر کنٹرول کرنے کے لئے مکمل آزاد اور بااختیار بنانے کا اعلان کیاگیا ہے۔ جو مستقبل میں پاکستان کے لئے خوش آئند ثابت ہوگا۔دفاعی بجٹ کو ملک کی مشکل صورتحال کے باعث کم کرنے پر پاک فوج کے لئے یہ ضرور کہوں گا”وطن کی تمہیں سلام کہتی ہیں” !اگر نیچرل ریسورس اکنامکس پر توجہ مرکوز رکھی گئی اور اس کا بہترین استعمال کیا تو انشاء اللہ بہت جلد پاکستان تمام بحرانوں سے نکل کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے گا۔