بلا عنوان ۔۔۔ تحریر: محمد ساجد

کچھ دنوں سے مختلف ممالک( امریکہ، جرمنی، آسٹریلیا) میں احتجاج ہورہے ہیں۔ جن میں خڑ کمر، وزیرستان میں فوج اور پی ٹی ایم کے جوانوں کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے ‘معصوم افراد’ کیلئے انصاف کے نعرے لگائے جا رہے ہیں لوگوں کو اسلحہ تک اٹھانے کی تیش دی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ ‘لر او بر یو افغان’ کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان احتجاجوں میں کثیر تعداد افغانستان کے پشتونوں کی ہوتی ہیں۔ جو کہ ان کہ بولنے کے انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہیں۔ جبکہ کچھ فوجی جوان بھی اس واقعے میں رخلعت کر گئے ہیں وہ کسی دم کرنے سے، کوئی جادوئی کلمات پڑھنے سے یا صرف ‘معصوم افراد’ کی لعن طعن والی احتجاج سے اپنی سانسوں پر قابوں نہ رکھ پائے۔ کیا مومن، شہریت اور انسانی حقوق کے اعلی درجوں پر صرف ‘معصوم لوگ” ہی فائز تھےکہ صرف ان کیلئے احتجاج جائز ہیں؟ کیا

اس دوران ‘معصوم افراد’ کے معصومانہ ذہنیت کو تشدد کی ترغیب کی بجائے کتاب یا سپارہ کی تلقین نہیں کی جاسکتی تھی؟ سچائی کے حوالے سے لفظ ‘معصوم’ کی تعریف ‘مخلص’ بنتی ہیں کہ جس نے اپنے اندر کے ڈوئلٹی کو روک رکھا ہو، اسے ختم کر دیا ہو، اندر کے ہر باطل کو مٹا دیا ہو، اندر کا ہر پوشیدہ منکشف کر دیا ہو، ہر باطن ظاہر کر دیا ہو اور اپنے اندر کے ہر پرتشدد اجتماع کو روک رکھا ہو۔ اج کل پشتون پیشہ ور سیاسی لیڈران نوجوان نسل کو تاریخ دیکھنے کی تلقین کرتے کرتے نہیں تھکتے۔اور بیانیہ ہوتا ہیں کہ پشتون کو فلاں جگہ استعمال کیا گیا، فلاں جگہ پشتون کے حقوق چھینے گئے۔ فلاں سن میں پشتونوں کو مذہب اور بہادری کے نام پر استعمال کیا گیا۔ پھر جب نوجوان پشتون نسل نے تاریخ دیکھنا شروع کیا۔ تو ان کو پتہ چلا 1979 سے آگے کی بھی تاریخ خصوصا پاکستان اور افغانستان کی۔ پاکستان میں “پختونستان” کے علبرداروں میں ایک ریڈیکل نشنلسٹ محمود خان اچکزئی آج تک “پختونستان” کے خدوحال اور مستقبل بیان نہیں کر سکا کہ پختونستان کا تصور ایک الگ صوبہ کی ہیں یا ایک الگ خودمختار ریاست کی۔ محمود خان خود پانچ ہزار سال سے پشتون ہیں انہون نے ان پشتونوں کیلئے جو بھارت اور بخارا سمرقند میں رہائش پزیر ہیں، کیلئے کیا اقدامات کیں ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں پشتون جو محنت مزدوری اور تعلیم کی غرض سے دنیا میں پھیلے ہیں ان کے حقوق کیلئے اب تک کیا کامیابیاں حاصل کیں ہیں؟ افغانستان، پاکستان تعلقات پر از سر نو نظر ثانی کی جائے تو علاوہ طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت کے، باوجود دو مسلمان پڑوسی ہونے کے، دونوں ریاستوں کے معاملات کھبی صحیح موڑ پر نہیں آئے ہیں۔ بنیادی طور پر ستر سال سے افغانستان حکمران کے ذہنیت پر اہمیت کے حامل دو وہم سوار ہو

چکے ہیں۔ پہلا یہ کہ پاکستان ایک کمزور ریاست ہیں، جو کھبی مستحکم نہیں ہو سکتی، آج یا کل ٹوٹنے والی ہیں۔ افغان حکمران اس وہم کو سچ سمجھتے آرہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹنے سے پہلے افغانستان کو کچھ متعین کردہ علاقوں پر داواں بول کر اس پر ایک عوامی رائے ہموار کرنی چاہئیے۔ تاکہ بوقت توڑ پھوڑ ان علاقوں پر قابض ہوا جاسکے۔ اسی وہمی سوچ کے تحت ایک تصوراتی نام “پختونستان” تشکیل دیا گیا۔ اس پلان کی تشکیل کے لئے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ثبوت 1947 سے 1979 کی تاریخ کے اوراق پر نمایاں طور پر موجود ہیں۔ کنگ محمد ظاہر شاہ سے لے کر خفیط اللہ آمین تک سب پختونستان کی سیاست کرکے افغانستان پر حکمران رہے ہیں اور ایک دوسرے کا تختہ الٹنے کی بھی یہی وجہ بھی بتاتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کسی فورم پر افغانستان حکمرانوں

کو اس مسئلے پر مدعو کرنے کی کوشش کی گئی ہیں تو افغان حکومت نے ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا ہیں۔ دوسرا یہ کہ برصغیر کی تقیسیم کے دوران جو دو ریاستیں واقع پزیر ہوئی دونوں کے سیاسی نظام کی بنیاد عوامی جمہوری رکھا گیا۔ افغانستان کے سیاسی خدوخال اس کے بالکل برعکس تھے۔ اس وقت افغانستان میں اٹوکریسی(autocracy) تھی۔افغانستان کے ہر اس دور کے آٹوکریٹ کی ذاتی فوج ہوتی تھی ۔وارلاڈزم کا بول بالا ہوتا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور چلی آ رہی تھی۔ ان خاندانوں کی اکثریت پشتون نسل میں ہی رہی ہیں۔ لہذا افغانستان نے، جو کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہی برطانوی ایمپائر کے امداد پر چل رہا تھا، پاکستان کے قیام کو اپنے لئے مسائل میں اضافہ تصور کیا۔ کیونکہ افغانستان میں پشتون حکمران کیلئے جمہوری نظام کسی خطرے سے کم نہیں تھا۔عین وقت جب مسائل اپنی شدت کے باوجود ایک موڑ لے رہے

تھے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات تعلیم، صحت اور رہائش کی بحالی کا کام جاری رہا تھا ایک علاقائی لسانی گروپ نے مظلومیت کا لبادہ اڑ لیا اور بنا کسی معاش کے، بنا کسی سوچ و بچار کے معجزاتی طور پر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جی ہاں انہوں نے اپنا نام پشتون تحفظ تحریک رکھ دیا، اور کہا گیا کہ یہ پشتونوں کے حقوق کی تخفظ کرینگے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پشتون استعمال ہوئے یہ ان کا حق ریاست سے مانگتے ہیں لیکن ریاست کے ساتھ بات چیت کے میز پر آنے کیلئے اپنا اصولی موقف واضح نہیں اور جبر یہ کہ نعرے بازی فوج، اس کے ‘موجودہ’ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے خلاف کرتے ہیں۔ خود کو غیر سیاسی تنظیم بتایا کرتی ہیں لیکن کثیر اوقات کی ملاقاتیں، تعلقات اور لوبینگ بہادر راو انوار کے ابو کے اصلی

بیٹے، ‘جاگ پنجابی جاگ’ کی چہیتی اور ‘لر و بر’ کے ہیروز کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کیا وجہ ہیں کہ افغانستان کے تعلیم ساختہ پشتون بیرون ممالک میں اس تحریک کے حق میں پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوگئے جبکہ اپنے اصل قابض دشمنوں کے سامنے چپ ساد لی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہیں کہ اگر کوئی پشتون فوجی افغان بارڈر پر مارا جاتا ہیں تو ان کے حق کیلئے افغانستان ریاست یا ان کی فوج کے خلاف کسی بھی ملک میں کوئی پشتون ان کے حقوق کیلئے آواز بلند نہیں کرتا۔ افغان حکومت نے آج تک کتنے پشتونوں کو قتل کیا ہیں، اغواء کیا ہیں کوئی پشتون تحریک کا راہنما یا خود افغانستان کے پشتون اپنی حکومت وقت سے سوال کرکے ان کے خلاف کیوں نہیں اٹھتے؟ان سوالوں کے جوابات انتہائی سادہ اور آسان ہیں جوکہ اس تحریک کے ‘پاکستانی راہنماوں’ کو اس وطن کے باقی پشتونوں کو دینے مین دیر ہو رہی ہیں۔