شہزادہ علی اکبربن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔۔۔ تحریر:حافظ کریم اللہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایااے لوگو!کیامیں تمہیں ان کے بارے میں خبرنہ دوں جو(اپنے )نانا،نانی کے اعتبارسے سب لوگوں سے بہترہیں ؟میںتمہیںان کے بارے میں نہ بتائوں جو(اپنے)چچااورپھوپھی کے لحاظ سے سب لوگو ں سے بہترہیں؟کیامیں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتائوں جو(اپنے)ماموں اورخالہ کے اعتبارسے سب لوگو ں سے بہترہیں؟کیامیں تمہیں ان کے بارے میں خبرنہ دوںجو(اپنے)ماں باپ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہترہیں؟وہ حسن اورحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماہیں ۔ان کے نانااللہ کے رسول،ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد،ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ،ان کے والدعلی ابن ابی طالب،ان کے چچاجعفربن ابی طالب،ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب،ان کے ماموں قاسم بن رسول اللہ اوران کی خالہ

رسول اللہ کی بیٹیاں زینب،رقیہ اورام کلثوم ہیں۔ان کے نانا،والد،والدہ،چچا،پھوپھی،ماموں اورخالہ (سب)جنت میں ہوں گے اوروہ دونوں (حسنین کریمین)بھی جنت میں ہوں گے۔(امام طبرانی،امام ابن عساکر،امام محب طبری)قرآن مجیدمیں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔”اور(وہ وقت یادکرو)جب ابراہیمؑ کوان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایاتوانہوں نے وہ پوری کردیں (اس پر)اللہ پاک نے فرمایا”میں تمہیں لوگوں کاپیشوابنائوں گاانہوں نے عرض کیا(کیا)میری اولادمیں سے بھی ؟ارشادہوا(ہاںمگر)میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا۔(البقرہ ۱۲۴)اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اپنے اولی العزم اوربزرگ پیغمبرحضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کومختلف آزمائشوں میں مبتلاکرنے اوران سے کامیابی سے گزرنے اورپھراس پرانعام کاتذکرہ فرمایاہے جولوگ آزمائش سے بھاگ جاتے ہیں وہ پست رہتے ہیں اورجولوگ آزمائش کوسینے سے لگاتے ہیں وہ عظیم ہوجاتے ہیں آزمائش ہرکسی کونصیب نہیں ہوتی آزمائش میں ڈالابھی اسی کوجاتاہے جس سے اللہ پاک کوپیارہوتاہے اوروہ اپنے محبوب بندوں کوآزمائش میں ڈالتاہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پیارکیااوراس پیارکے نتیجے میں انہیں آزمائش میں ڈالااوروہ ہرآزمائش میں سُرخرو رہے سلسلہ آزمائش جوحضرت سیدناابراہیم علیہ السلام سے شرو ع ہواتھااورسیدالشہداء،راکب دوش مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرآکرختم ہوا۔امام عالی مقام ،سیدالشہداء،راکب دوش مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ،سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے جدامجدفاتح خیبر،امیرالمومنین سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے اس قدروالہانہ لگائواورعشق تھاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تین بیٹوں کے نام اپنے والدگرامی کے مبارک نام پررکھے

اوریہ بات بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے لئے خاص ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے کسی نے اپنے بیٹوں کے نا م’’علی‘‘نہیں رکھے۔قارئین کرام !آج ہم جس عظیم ہستی کاذکرخیرکرنے جارہے ہیں ۔وہ خاندان اہلبیت کے چشم وچراغ ،امت مسلمہ کافخراورسیدالشہداء راکب دوش مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ جن کانام ’’علی‘‘کنیت’’ابومحمد،ابوالحسن‘‘اورلقب’’اکبر‘‘ہے۔شہزادہ حضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ جوسیدناحضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورسیدہ زینب سلام اللہ علیہاکے بھتیجے ،سیدناامام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورشہزادہ سیدناعلی اصغررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی ہیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ماجدہ ’’لیلی بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعودثقفی‘‘ ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 11شعبان المعظم

43ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیم وتربیت والدماجدسیدالشہداء،راکب دوش مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورچچاحضرت عباس علمداررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتہائی اعلیٰ اورشاندازاندازسے فرمائی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انتہائی حسین وجمیل اورہم شکل مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم تھے ۔جس کی وجہ سے اہلبیت اطہارسمیت ہرجگہ انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ۔ سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی زیارت کے اشتیاق اہل محبت شہزادہ علی اکبربن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کرکے لذت دیدارمصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے اشتیاق کی ایک جھلک محسوس کرتے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت باسعادت کے موقع پرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچاسیدناحضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے

اورہمشکل مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کواپنی آغوش میںلیکربوسہ لیا۔اورپھراپنے بھائی سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کی گودمیں شہزادہ سیدناعلی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکرکہاپیارے بھیا!آپ کومبارک ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کوبہت خوبصورت بیٹاعطافرمایاہے ۔اوردعائوں سے نوازا۔شہزادہ حضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ عبادت گزاراورتقوی وطہارت کے پیکرتھے ۔سیدالشہداء راکب دوش مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے تمام شہزادوں سے بہت محبت فرماتے تھے ۔مگرشہزادہ علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خصوصی پیارومحبت فرماتے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے جدامجدفاتح خیبرسیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے علم حدیث حاصل کیا۔علم حدیث کے ساتھ ساتھ سپہ گری،نیزہ بازی اورعرب کی روایات کے مطابق تمام فنون

وکمالات کے ماہرتھے۔(تاریخ اہل بیت ،تاریخ الخمیس ،تاریخ طبری) دس محرم الحرام 61؁ ہجری کومیدان کربلا میںتاریخ اسلام کاانتہائی دردناک اوردلوںکوہلاکررکھ دینے والا سانحہ رونماہوا۔یزیدیوںنے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم لخت جگرسیدۃ النساء العالمین،سیدہ،عابدہ،زاہدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاوفاتح خیبرحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم،نواسہ رسول راکب دوش مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ان کی اولاد،اقرباء اوردیگرساتھیوںکوانتہائی مظلومیت کے عالم میں شہید کیا۔کربلاکے میدان ہمشکل مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم شہزادہ علی اکبربن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے خاندان کے ہمراہ تھے ۔اس وقت شہزادہ علی اکبربن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی عمرمبارک اٹھارہ سال تھی۔میدان کربلامیں اپنے اباجان امام عالی مقام

سیدالشہداء سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضرہوتے ہیں۔اورعرض کرتے ہیں اباجان !مجھے اجازت دیں ۔نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لخت جگرکی پیشانی پرالوداعی بوسہ دیکرسینے سے لگایااورحسرت بھری نظروں سے دیکھااوردعائیں دیکرمقتل کی طرف روانہ کیاکہ بیٹاجائو!اللہ کی راہ میں اپنی جان کانذرانہ پیش کرو۔شجاعت حیدری کے پیکرشہزادہ علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ برق رعدبن کریزیدی عساکرپرحملے کرنے لگے ۔اورصفیں کی صفیں الٹ کررکھ دیں۔یزیدیوں کے لشکرمیں شامل کئی افرادکوواصل جہنم کرکے دس محرم الحرام 61؁ ہجری کوجامِ شہادت نوش کیا۔تاریخ اسلام میں اوربھی بہت سی جانیں اللہ کی بارگاہ میں قربان ہوئی ہیں ہرشہادت کی اہمیت وافادیت مُسلمّ ہے مگرشہادت سیدناامام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ

تعالیٰ عنہ کی دوسری شہادتوں کے مقابلے میں اہمیت وشہرت اس لئے بڑھ کرہے کہ کربلاکے میدان میں شہیدہونے والوں کی آقائے دوجہاں سرورکون ومکان صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے خاص نسبتیں ہیں۔یہ داستانِ شہادت گلشنِ نبوت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے کسی ایک پھول پرمشتمل نہیں۔تاریخ کے کسی دورمیں بھی امت مسلمہ کربلاکی داستان کوبھول نہیں سکتی ۔امام عالی مقام سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی جان تواللہ کے نام پرقربان کردی مگرباطل کے آگے سرنہ جھکایا۔اس معرکہ کے واحدراہنماراکب دوش مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم امام عالی مقام سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ان کے گردایک جماعت تھی جس میں ایک ہی قوم ونسل کے افرادشامل نہیں تھے۔بلکہ اس جماعت کی حیثیت بین الاقوامی تھی ۔ان میں آزاد،غلام ،عربی ،قریشی،غیرقریشی غرض ہرنسل،ہرقبیلے کے

سرفروش شامل تھے ۔آج کے پرفتن دورمیں ہماری نئی نسل فیشن کے نام پربے راہ روی کاشکارہورہے ہیں۔مغرب ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت ہماری نوجوان نسل کوتباہی کے دہانے پرپہنچارہی ہے ۔قرآن وحدیث سے دوری امت مسلمہ کے زوال کاسبب بنتی جارہی ہے ۔نئی نسل کودینی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دیناہوگی ۔علماء حق کی عزت واحترام اوران کی خدمت کرناہوگی۔آج کی نوجوان نسل کومغربیت کی بجائے شہزادہ علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت پرچلنے کی ضرورت ہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاپیغام نوجوانوں کے لئے ایک نمونہ عمل ہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات وفاکی پیکراوراطاعت والدین میں ثانی تھے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان کربلامیں اپنے والدگرامی کے ساتھ اپنی جان کانذرانہ بارگاہ خدامیں قربان کرکے تاقیامت امت مسلمہ کووالدین کی اطاعت وفرماں برداری کاسبق دیا۔اللہ عزوجل کی ان پررحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین