سر پھرے محبان وطن ۔۔۔ تحریر:عرفان صادق

یہ 5 فروری کا دن تھا میں تلہ گنگ پریس کلب کے دفتر میں چوہدری غلام ربانی صاحب اور قاضی عامر وغیرہ کے ساتھ بیٹھا قہوہ پی رہا تھا۔ وہاں ارشاد کاظمی بھی موجود تھے۔ گفتگو چل رہی تھی موضوع 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہی تھا کیونکہ ہماری اس محفل سے ذرا پہلے ہی تحریک آزادی کشمیر جو کہ بہت حد تک جماعت الدعوہ کی ذیلی تنظیم ہے کے زیر اہتمام ایک ریلی جی پی او چوک تلہ گنگ پہ اختتام پذیر ہوئی تھی۔ چوہدری غلام ربانی صاحب نے خدا لگتی کہی کہ دراصل حسینیت یہی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے اور جماعت الدعوہ کے یہ لوگ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اگر یکجہتی کرتے ہوئے نکلے ہیں تو آفرین ہے ان کی قسمت پہ کہ اللہ نے ان کو توفیق دی ہے کہ کشمیر میں انڈین آرمی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے قتیل شفائی کا ایک شعر بھی سنایا کہنے لگے “دنیا میں قتیل

اس سا منافق نہیں کوئی۔۔جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا۔قاضی عامر صاحب نے بھی گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا کہ واقعی اس امر کی ضرورت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عوامی سطح پر اجاگر کیا جائے اور ایک مشورہ پیش کیا کہ آئندہ سال تلہ گنگ میں یوم یکجہتی کشمیر تلہ گنگ پریس کلب کے زیر اہتمام منایا جائے اور تمام جماعتوں کو یہاں اکٹھا کیا جائے۔دریں اثناء￿ ارشاد کاظمی صاحب گویا ہوئے کہ یہ صرف جماعت الدعوہ والے ہی ہیں جنہوں نے 5 فروری کو منانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے اور صرف یہی لوگ ہیں جو تھوڑے سے کارکنان کو لے کر پانچ فروری کو نکلتے اور ریلیاں پروگرام وغیرہ کرتے ہیں تو ان تھوڑے سے لوگوں سے کیا فائدہ۔؟؟ ربانی صاحب کہنے لگے کہ بھئی آپ لوگ بھی نکلو نا ساتھ۔۔ کیوں نہیں نکلتے ؟ کیا مسئلہ کشمیر ہمارا سب کا مسئلہ نہیں ہے؟؟ کیا بقول قائد کشمیر ہماری شہ رگ نہیں ہے؟ تو۔۔۔صاحب خاموش ہو گئے۔۔۔ پھر کہنے لگے یار یہ جماعت الدعوہ والوں کو بھی آرمی کہہ دیتی ہے تو یہ نکل آتے ہیں اور پھر پورا سال اندر بیٹھے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تو ان کا کوئی کام نہیں ہے۔ میں خاموشی سے یہ ساری گفتگو سنتا رہا۔۔ کیونکہ میرے پاس جماعت الدعوہ سے متعلق کوئی زیادہ علم بھی نہیں تھا نا ہی ہم سرکاری ملازم ان تنظیموں اور جماعتوں کے چکر میں پڑتے ہیں۔ بہرحال۔۔۔۔ صاحب کے اس جملے نے مجھے تحقیق پر مجبور کر دیا کہ جماعت الدعوہ فوج کے کہنے پر یہ سب کرتی ہے۔ اور 5 فروری منانے کے علاوہ ان کا کوئی کام نہیں۔مجلس برخاست ہوئی میں اٹھا اور گھر کو چل دیا۔ قاضی عامر بھی میرے ساتھ تھے اور مسئلہ کشمیر سمیت قومی تہواروں کو منانے کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔میں چونکہ وسیع حلقہ احباب رکھتا ہوں اور تقریبا ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات

ہوتی رہتی ہے۔ کل ہی میری ملاقات جماعت الدعوہ کے ایک کارکن سے ہوئی تو میرے ذہن میں۔۔۔۔۔ صاحب کا وہی جملہ آ گیا تو میں نے فوراسے پہلے اعتراضی انداز میں سوال داغا کہ بھائی صاحب آپ لوگ بس 5 فروری کو ہی نکلتے ہو وہ بھی فوج کے کہنے پر پھر پورا سال نظر نہیں آتے۔ تو یہ تو کوئی بڑا کام نہیں ہے۔۔۔ تو میرا وہ دوست کہنے لگا کہ آپ نے سوال تو مختصر کیا لیکن اس کا جواب تھوڑا طویل ہے اگر وقت ہے تو آئیں کہیں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور اس موضوع پر بھی بات کر لیں گے۔ میں اس وقت تھوڑا فارغ تھا لہذا ان کے ساتھ چل دیا۔ ہم بیٹھے تو وہ گویا ہوئے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سندھ اسمبلی نے کچھ عرصہ پہلے ایک قانون پاس کیا تھا کہ کسی فرد کو بغیر حکومتی اجازت اور پھر 21 دن کی تربیت کے اپنا مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے وہ بل کیوں پیش ہوا تھا؟؟ میں نے کہا کہ ہو گا کوئی

این جی اوز کا مسئلہ کہ وہاں تھرپارکر کی طرف بہت سی ہندو آبادی ہے ان کو تحفظات ہونگے کوئی۔۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ جی بالکل درست کہا آپ نے۔ دراصل یہ جماعت الدعوہ ہی تھی جس نے تھر کے باسیوں کو تھاما اور ان کیلئے ہزاروں کنویں کھودے۔ ہمارے حکمراں تو مٹھی شہر تک جا کر اپنے جلسے وغیرہ کرکے آ جاتے ہیں جبکہ اصل تھرپاکر تو مٹھی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جہاں نا سڑکیں ہیں نا پانی۔ وہاں کے لوگ میلوں کا سفر کر کے پانی لاتے تھے۔ اور وہ بھی کوئی صاف اور میٹھا پانی نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑوا گدلا اور چپھڑوں کا پانی جس کو دیکھ کر ہی ہمیں گھن آتی ہے۔ ایسے علاقوں میں جا کر ہم نے مسلم غیر مسلم کی تمیز کیے بغیر بے لوث خدمت کی۔ ہر گوٹھ میں کنویں کھودے۔ اور جب ہم نے ہندوؤں کو جا کر تھاما اور ان کو پینے کا صاف پانی دیا۔ تو وہ ہمیں مسیحا سمجھنے لگے ہم نے ان کو اسلام کی

دعوت دی تو وہ دھڑا دھڑ اسلام قبول کرنے لگے۔ ایک دفعہ ہمارے امیرمحترم حافظ سعید صاحب تھرپارکر گئے تو ان کی ایک مجلس میں سو سے زائد خاندانوں نے اسلام قبول کیا۔ اور جب سندھ میں کام کرنے والی غیر ملکی این جی اوز اور ہندو مقتدر افراد نے دیکھا کہ یہاں تو لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں اور 360 سے زائد خاندان کفر کی تاریکیوں کو چھوڑ اسلام کی روشنیوں سے منور ہو چکے ہیں تو ان کو شدید تکلیف ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ پھر سندھ اسمبلی میں تبدیلی مذہب کے حوالے سے بل پاس ہوا۔اور یہ جو بلاول بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی میں اپنے آقاوں کو خوش کرنے کیلئے بیانات دیے اس کی بھی اصل وجہ یہی تکلیف تھی۔پھر وہ کہنے لگا کہ بلوچستان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کہ جہاں اب تک پاکستانی پرچم لہرانا جرم سمجھا جاتا تھا اور کسی بھی پنجابی کو بلوچ ہرگز برداشت نہیں کرتے تھے۔

وہاں اب ہر قومی دن کو منایا جاتا ہے اور پاکستانی پرچم کی بہاریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔۔ کیوں؟ تو میں نے کہا کہ بھائی وہاں فوج نے کام کیا ہے راء کے بچھائے ہوئے کے نیٹ ورکس کو ختم کیا۔ کلبھوشن بھی وہیں سے گرفتار ہوا تو وہاں امن آ گیا۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ باتیں آپ کی ٹھیک ہیں لیکن عوامی طور پہ اگر کسی نے بلوچ قوم کا ذہن تبدیل کیا ہے اور ان میں حب الوطنی کو اجاگر کیا ہے تو اس میں بھی جماعت الدعوہ کا ہی کردار ہے تو میں نے حیرانی سے پوچھا وہ کیسے بھئی؟ تو اس نے مجھے ایک واقعہ سنایا۔کہنے لگا کہ اواران بلوچستان کا وہ ضلع تھا جسے بلوچ لبریشن آرمی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ وہاں آرمی بھی نہیں جاتی تھی نا کسی پنجابی کو وہاں جانے کی اجازت تھی کیوں کہ وہ پنجابی کو دیکھتے ہی سیدھے گولی مار دیتے تھے۔ اسی اواران میں زلزلہ آیا تو لوگ تباہ حالی کا شکار ہوئے۔امیر محترم نے فیصلہ کیا کہ

اواران جا کر ان لوگوں کی مدد کی جائے۔ آرمی بھی ابھی تک وہاں نہیں پہنچی تھی نا جا پا رہی تھی۔ تو ایسے حالات میں ہمارے کارکنان سیف اللہ منصور رح کی قیادت میں وہاں پہنچے اور اواران جانے کیلئے آرمی سے اجازت چاہی تو آرمی نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ہمارے ساتھی اشیائے خورد و نوش کے کئی ٹرک لے کر کھڑے تھے لیکن آرمی کی طرف سے اجازت نہیں مل رہی تھی۔ دریں اثناء آرمی کی طرف سے یہ پیشکش ہوئی کہ اگر آپ ہمیں تحریری طور پر یہ لکھ دیں کہ آپ اواران میں اپنی ذمہ داری سے جا رہے ہیں اور کسی بھی نقصان کی صورت میں آپ خود ہی ذمہ دار ہونگے تو ہم اجازت دے سکتے ہیں تو سیف اللہ منصور شہید رح نے اس موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے فی الفور تحریر لکھ کر وہاں چوکی پر جمع کروا دی۔۔ اور اپنے قافلے سمیت اواران میں داخل ہوئے۔ وہاں کے لوگ جو بے سر و سامانی کے عالم

میں اس قدرتی آفت کا سامنا کر رہے تھے انہوں نے امدادی قافلے کو اللہ کی مدد سمجھتے ہوئے قبول کیااور پھر ہماری جماعت نے وہاں نا صرف ان کے پیٹ کی بھوک دور کی بلکہ ان کی قومی حمیت کو بھی پاکستان کے ساتھ خالص کر کے ان میں پاکستانیت کو ابھارا۔ سینکڑوں اسلحہ برداروں نے اسلحہ چھوڑ کر پاکستان سے وفاداری کا عہد کیا۔ تو اگر بلوچستان میں انڈین سپورٹڈ بلوچ لبریشن آرمی کی کسی نے کمر توڑی ہے تو وہ ہم جماعت الدعوہ والے تھے۔ اور پھر ہم نے قربانیاں بھی دی ہیں ہمارے ایک کارکن کو بلوچستان میں صرف اس لئے شہید کیا گیا کہ اس نے پاکستانی پرچموں اور بیجز وغیرہ کی دکان بنا رکھی تھی اسے دن دیہاڑے گولیاں مار دی گئی لیکن ہم اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اور آج الحمد للہ ہر قومی دن پہ آپ کو بلوچستان میں پاکستانی پرچموں کی بہار نظر آتی ہے۔میں نے اسے کہا کہ اب تو گورنمنٹ نے

تم لوگوں پر پابندی لگا دی ہے تو اب کیا کرو گے؟ کوئی احتجاج کوئی روڈ بلاک ؟ اور اپنے حق کی آواز؟؟ تو میری بات پہ قہقہہ لگا کر کہنے لگا ہرگز نہیں عرفان صاحب۔۔ ہم اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ تو ضرور کھٹکھٹائیں گے لیکن روڈز بلاک نہیں کریں گے۔۔ ہمارا وجود عالم کفر کیلئے موت کا پیغام ضرور ہے کہ ہم ان کی ہر پراکسی پر کاری ضرب لگاتے ہیں لیکن ہم اپنوں کے نشتر سہہ لینے کے باوجود کبھی اپنوں کو پریشان نہیں کریں گے۔ ہم پاکستان کیلئے کسی صورت پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیں گے۔ اگر پاکستان حکومت ہم پہ پابندی لگا کر ہی خوش ہے تو لگا لے۔ ہم کسی قسم کی بغاوت کی راہ نہیں لیں گے نہ ہی ہمارے امیر محترم نے ہماری ایسی تربیت کی ہے۔۔۔انہیں باتوں پہ ہماری مجلس برخاست ہوئی اور میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ کیسے سرپھرے محبِّ وطن ہیں یہ کہ اپنا سب کچھ لٹا کر بھی صرف اس لیے خاموش ہیں کہ پاکستان پہ کوئی حرف نا آئے۔ تو ایسے لوگوں کو روکنے اور پابند کرنے میں شاید ہمارا ہی نقصان ہو جائے۔۔۔۔