دہلی کا سید زادہ رب کے حوالے ۔۔۔ تحریر: خنیس الرحمٰن

دینی جماعتوں کے جلسے ہوئے کرتے تھے, بڑے بڑے کارواں ہوا کرتے تھے لیکن کبھی شریک نہیں ہوا تھا, وجہ یہ تھی کہ ابھی کم عمر تھا لیکن میرے لئے خوشی کی انتہا تھی جب 2012 ء 18 دسمبر کے دن مینار پاکستان میں ایک بہت بڑا محب وطنوں کا میدان سجنے جارہا تھے.یہ وہی دفاع پاکستان کونسل کی پہلی بڑی کانفرنس تھی جس میں میں نے کئی بڑے بڑے چہروں کو ٹی وی اسکرین سے ہٹ کر براہ راست دیکھا تھا. ان میں مرد قلندر سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن صاحب بھی شامل تھے. اس کے بعد سید صاحب کی بہت سی تحریکوں کو دیکھا,گو امریکہ گو تحریک کے اشتہارات, بینرز اور

اسٹیکر بھی دیکھے.اس وقت بھی جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف سینہ سپر تھی. اس وقت میں نے دھرنے کا لفظ بھی پہلی مرتبہ سنا تھا کچھ ایسا ہوا لاہور کی سڑکوں پر بینرز آویزاں تھے جس پر لکھا تھا جینا ہوگا مرنا ہوگا اب دھرنا ہوگا. یہ دھرنا اچھرہ میں ہونا تھا جس سے سید منور حسن صاحب نے خطاب کرنے تھا. جمعہ پڑھ کر موبائل نکالا تو نوٹیفکیشن دیکھا جس پر لکھا نظر آرہا تھا سابق امیر جماعت اسلامی.صرف اتنی ہی پڑھا آگے مجھے یوں محسوس ہوا سید منور حسن صاحب سے متعلق کوئی خبر ہوگی. جب میں نے میسج کھولا تو سید منور حسن صاحب کے انتقال کی خبر تھی. سید منور حسن صاحب سے میرا کوئی ذاتی رشتہ نہیں تھا نا ہی میں جماعت اسلامی کا کارکن ہوں لیکن ایک قلبی لگاؤ تھا اور وہ لگاؤ اسی بنیاد پر تھا جو ایک مسلمان کا اپنے مسلمان ساتھی سے ہوتا ہے.سید منور حسن ملی یکجہتی کی علامت تھے, اتحاد امت کے داعی تھے. پاکستان سے محبت کرنے والے بے باک قائد و رہنما تھے.میں سید منور حسن صاحب سے متعلق یہ جان کر حیران ہوا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو شادی پر ملنے والے تحائف جماعت کے بیت المال میں جمع کرادیے. یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے. یہاں ہر سیاست دان اپنی سوچتا ہے کسی طرح میں عہدے سے برطرف ہونے سے پہلے پہلے کچھ نا کچھ حاصل کرلوں.لیکن اللہ یہ بصیرت اپنے محبوب بندوں کو ہی عطاء کیا کرتے ہیں.سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر تھے۔ وہ اگست 1944 ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ تعلق تقسیم برصغیر سے پہلے کے شرفائے دہلی سے ہے۔ آزادی کے بعد ان کے خاندان نے پاکستان کو اپنے مسکن کے طور پر چنا

اور کراچی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے 1963 ء میں جامعہ کراچی سے سوشیالوجی میں ایم اے کیا۔ پھر1966 ء میں یہیں سے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی منور حسن اپنی برجستگی اور شستہ تقریر میں معروف ہو گئے۔ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔ علاوہ ازیں بیڈ منٹن کے ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے۔طلبہ کی بائیں بازوکی تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن(NSF)میں شامل ہوئے،اور1959 ء میں اس تنظیم کے صدر بن گئے۔ زندگی میں حقیقی تبدیلی اس وقت برپا ہوئی جب آپ نے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے کارکنان کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھااور مولانا سید ابوالاعلٰی

مودودی کی تحریروں کا مطالعہ کیا۔ نتیجتاً آپ 1960 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو گئے اورجلد ہی جامعہ کراچی یونٹ کے صدر اور مرکزی شورٰی کے رکن بنادیے گئے۔ بعد ازاں 1964 ء میں آپ اس کے مرکزی صدر (ناظم اعلٰی) بنے اور مسلسل تین ٹرم کے لیے اس عہدے پرکام کرتے رہے۔ ان کی عرصئہ نظامت میں جمعیت نے طلبہ مسائل، نظام تعلیم اور تعلیم نسواں کو درپیش مسائل کے سلسلے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی خاطر کئی مہمات چلائیں۔1963 ء میں اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی میں اسسٹنٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے اور اس کے سیکرٹری جنرل کے عہدے تک ترقی کی۔ ان کی زیِر

قیادت اس اکیڈمی نے ستر (70) علمی کتابیں شائع کیں۔ ماہنامہ The criterion اور The Universal Message کی ادارت کے فرائض بھی سر انجام دیے۔ سید منورحسن 1967 ء میں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ جماعت اسلامی کراچی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، نائب امیراور پھر امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے۔ کئی فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی جیسے یونائیٹد ڈیموکریٹک فورم اور پاکستان نیشنل الائنس (پاکستان قومی اتحاد) وغیرہ۔ 1977 ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن

لڑا اور پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1992 ء میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور پھر 1993ء میں مرکزی سیکرٹری جنرل بنادیا گیا۔آپ متعدد د بین الاقوامی کانفرنسوں اورسیمینارزمیں شرکت کرچکے ہیں۔ نیز ریاست ہائے متحدہ امریکا،کینیڈا،مشرق وسطٰی،جنوب مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے دورے کرچکے ہیں۔حق گوئی کی مثال، امانت و دیانت کا نمونہ درویش منور حسن کی وفات دیانت، امانت، حق گوئی اور درویشی کی وفات ہے، وہ درویش وحق گو جسے اس کی درویشی اور حق گوئی نے عمر کی طرح تنہا کردیا تھا اس لیے درویش منور کی وفات سے جماعت اسلامی و پاکستان نہیں بلکہ امت یتیم ہوگئی ہے۔