علم اٹھتا جارہا ہے ۔۔۔ مولانا آصف اقبال انصاری

سال 2020 کا سورج نہایت ہی درد و الم کی کیفیت کو اپنے ہمراہ لیے طلوع ہوا۔ رواں سال کئی روشن چراغ گل ہوگئے۔ یکے بعد دیگرے کئی علما و مشائخ اور بزرگان ملت اس دار فانی کو الوداع کہہ چکے ہیں اور امت سے ان کا سایہ عاطفت ہٹ چکا ہے۔ یہ گوہر نایاب بڑی مشقتوں کے بعد امت کو نصیب ہوتے ہیں، مگر کثرت سے ان نایاب موتیوں کا اپنے اصل کی طرف لوٹنا امت کو لمحہ بہ لمحہ علمی و روحانی یتیم کررہا ہے۔ اب تو ہر دن کا سورج کسی نہ کسی اہل علم کی رخصت کا پروانہ لیے طلوع ہوتا ہے اور یہ خوف ہر آن ہر گھڑی کھائے جاتا ہے کہ آج پھرکہیں، کسی کے لیے “انا للہ” نہ کہنا پڑے۔

ایک کی تجہیز و تکفین اور تدفین سے فارغ نہ ہوئے کہ کسی دوسرے کا ساتھ چھوڑ جانا قلب پر غم کے پہاڑ گرادیتا ہے۔ ابھی ایک کی تعزیت و تسلیت میں ہی مصروف ہوتے ہیں کہ کسی دوسرے کی جدائی کا غم لاحق ہوجاتا ہے۔ ہائے افسوس صد افسوس کسے معلوم تھا کہ اچانک یوں غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے؟کسے معلوم تھا کہ یوں غم مسلسل سہنا پڑے گا؟ کون جانتا تھا کہ یوں یتیمی برداشت کرنی پڑے گی؟ کون واقف تھا کہ رحمت الٰہی یوں منہ موڑ لے گی؟ یقیناً موت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، اس کی تلخی کو ہر ایک نے چکھنا ہے۔ ہر ایک نے اپنی اصلیت کا رخ کرنا ہے۔ رہا کوئی بھی نہیں اور نا رہنا کسی نے ہے۔ ہر کوئی جو آیا ہے اس نے جانا ہے۔ لیکن میرے رب! قحط الرجال کے اس دور میں یکے بعد دیگرے امت کا صلحا سے محروم ہونا بھی کوئی نیک شگون نہیں۔ محسوس کچھ یوں ہوتا ہے کہ تو نے ناشکری پر سلب نعمت کا قانون جاری کردیا ہے اور وہ بھی اس نازک وقت میں جب کہ امت مسلمہ صلحا اور اتقیا کا سہارا ڈھونڈ رہی ہے۔ اس وقت میں جب کہ انسان اور نفس و شیطان کی کشمکش جاری ہے۔ جی ہاں! اس وقت میں جب کہ غیروں کا تسلط، کفر کی سازشیں اور طاغوتی قوتوں کی اسلام دشمنی ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ میرے رب! آپ کے فیصلوں کی مصلحت آپ ہی جانتے ہیں! لیکن امت بڑے نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اس کی ناؤ بیچ سمندر میں ہچکولے کھارہی ہے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ چیز بھی قیمتی ہے اور محافظ بھی اٹھتے جارہے ہیں۔ بنا بر موقع بار بار یہ حدیث آنکھوں کے گرد گھوم رہی ہے، “حضرت عمر بن العاص نبی اکرم ص سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے: ” اللہ تعالیٰ علم

کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اس کو لوگوں سے چھین لے، بلکہ وہ ( جید) علما کو موت دے کر اٹھائے گا، حتی کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ( صحیح بخاری ) کیا مذکورہ حدیث حالات حاضرہ کی مکمل عکاسی نہیں کررہی؟ ایک طرف تو پہلے ہی علماء اور عوام کا رشتہ قطع کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔ فی الوقت باطل قوتوں کی تمام کوششوں کا محور یہ ہے کہ کسی طرح امت کو علماء سے متنفر کردیا جائے۔

ان کے کردار و گفتار کو مشکوک بنادیا جائے۔ طاغوتی لشکر اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلمانوں کو قابو کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ عوام کا اعتماد علما سے ختم کردیا جائے۔ جس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ پھر دوسری طرف ان جبال علم کا داعی اجل کو لبیک کہنا کسی دردناک سانحے سے کم نہیں.حدیث نبوی کے مطابق جید علما کے اٹھائے جانے کا نتیجہ بھی ظاہر و باہر ہے۔ لبرلزم اور سیکولر ازم کے متاثرہ مریض دین کے داعی بنے بیٹھے ہیں۔ مغربی کلچر سے متاثر ہوکر اسلام کا وہ نقشہ پیش کررہے ہیں جس کا تصور آج سے پہلے تک بالکل نہ تھا۔ لہذا خود بھی گمراہی کے دلدل میں گر چکے

ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی جانب کھینچ رہے ہیں (معاذ اللہ)ایک دوسری حدیث میں حضور نبی اکرم ص نے فرمایا: ” نیک لوگ یکے بعد دیگرے (دنیا سے) گزر جائیں گے اور ان کے بعد بھوسے اور کھجور کے کچرے کی طرح لوگ دنیا میں رہ جائیں گے، جن کی اللہ پاک کو ذرہ بھی پروا نہ ہوگی۔(صحیح بخاری)ذرا غور کریں! آخر علما کی رحلت کیوں ایک سانحہ ہے؟ اس لیے کہ باعمل عالم کی زندگی سے کئی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں۔ ایک عالم کئی لوگوں کے لیے مربی اور مصلح کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ میں نے امیر المومنین عمر بن عبد العزیز سے

عرض کیا:’’ کہا جاتا ہے کہ اگر تم میں ایک عالم بننے کی صلاحیت ہو تو جہاں تک ممکن ہو، عالم بننے کی کوشش کرو، اور اگر تم عالم نہیں بن سکتے تو پھر ایک طالب علم بنو، اور اگر طالب علم بننے کی بھی صلاحیت نہیں ہے تو پھر ان سے (علماء و طالب علم) سے محبت کرو، اگر تم ان سے محبت کے قابل بھی نہیں ہو تو پھر (کم از کم) ان سے نفرت مت کرو‘‘. روایت کی رو سے مسلمان بندے کو چاہیے کہ یا تو وہ عالم بنے، یا طالبِ علم بنے یا ان سے محبت کرنے والا، اور آخری صورت گنجائش کی یہ دی گئی ہے کہ کم از کم علماء و طلبہ دین سے نفرت نہ رکھے۔ اگر پانچویں قسم بنے گا

تو ہلاک ہوجائے گا۔ ان سنگین حالات میں ایک ذمہ داری ہم سب پر بھی عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ باطل قوتوں کا آلہ کار بن کر علما و مشائخ سے متنفر ہونے کے بجائے ان سے دینی وابستگی پیدا کریں۔ ان سے مضبوط رشتہ قائم کریں۔ رہ جانے والوں کو نعمت عظمیٰ سمجھ کر ان کی قدر کریں، ان کے دست و بازو بنیں۔ ان سے بھر پور استفادہ کی کوشش کریں۔ کچھ نا بھی کریں تو کم از کم ان کی محبت کو اپنی حیات کا جزوِ لاینفک بنائیں۔ کیوں کہ فرمان نبوی ہے: “آدمی کل قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے”۔ کیوں نا یہ محبت ہماری بخشش و مغفرت کا بہانا بن جائے۔