تحریک انصاف کی تبدیلی۔۔۔ تحریر: شہباز حیدر کاظمی

حکومت نے جو کہ تبدیلی کی بہت بڑی دعویدار بھی ہے عوام سے اب جینے کا حق بھی چھین لیا ہے پہلے تو عوام سے بجلی کے بلوں میں میں بھیجا ٹیکس وصول کرتی رہی پھر گیس کے بلوں میں خاطرخواہ اضافہ کردیا اور اب عوام سے آٹا دال چینی روٹی جیسی ضروری اشیاءکو بھی عوام کی پہنچ سے دور کر دیا ہےان تمام تر بحرانوں کی وجہ صرف اور صرف وہ عناصر ہیں جو کہ بڑے پیمانے پر انویسٹمنٹ کرکے پہلے تو الیکشن لڑتے ہیں اور پھر بعد میں وزارتوں کی بندر بانٹ میں شامل ہوجاتے ہیں اور یوں وہ پھر اپنی مرضی کی وزارتیں حاصل کرتے ہیں اور الیکشن میں انویسٹ کی ہوئی تمام رقم کرپشن کرکے دوگنا وصول کرتے ہیں اور ان کو اس بات کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہوتی کہ غریب جئے یا مرے یا پھر خودکشی کرلے یا کسی بھی

حال میں اپنی زندگی بسر کرے اب تو بات یہاں تک محدود نہیں رہی یہ مقتدرحلقے کی اشرافیہ نہ صرف خود بہتی گنگا میں ہاتھ دھو دیتی ہے بلکہ اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی خوب مالی فوائد سے نوازا جاتا ہے آجکل وطن عزیز میں ایک نئے بحران نے سر اٹھایا ہے اور اس بحران کے پس پردہ بھی وزیر مشیر اور ان کے دوست احباب ہی ہیں جو کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ہیں اب آٹے کے بعد چینی کا بحران بھی ہمارے سر پر آن پہنچا ہے ہے اور چینی کی قیمتوں میں بھی آئے روز اضافہ ہورہا ہے اور اس کے بعد میں جانے اب کون سا عذاب اس کو پر نازل ہونے والا ہے۔ان تمام تر حالات سے جہاں غریب کا تو جینا ہی محال ہو گیا ہے وہاں مڈل کلاس پر بھی اس کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں ایک مڈل کلاس آدمی جس کی تنخواہ 25 سے 30 ہزار روپے ہے ہے وہ ان حالات میں اب کیسے گزارا کرے گا گھر کا کرایہ دے گا بجلی کا بل دے گا اپنے بچوں کو اسکول بھیجے گا یا گھر کے کھانے پینے کے اخراجات کو کیسے پورا کرے گا جبکہ دوسری طرف ہمارے وزیراعظم اس بات کا خود اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے گھر کے کچن کا خرچہ بھی دو لاکھ میں پورا نہیں ہوتاایسے حالات میں غریب آدمی اپنے دکھ درد کس کو سنائیں یہاں پر تو کوئی سننے والا بھی نہیں ہے حکومت صرف اور صرف لنگرخانے بنانے میں مصروف ہے انڈسٹری پوری طرح بیٹھ چکی ہے اسپتالوں کا برا حال ہے آئے روز چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور ایسے میں حکومت اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ہمارے وزیراعظم نے اقتدار میں آنے سے پہلےیہ دعوی بھی کیا تھا کہ وہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کریں گے پولیس میں ریفارمز لے کر آئیں گے اور حکومت میں

آنے کے بعد ہمارے وزیراعظم کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے بلکہ پولیس میں کرپشن اقرباء پروری اور ہٹ دھرمی میں پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ اضافہ ہوگیا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اب آپ پولیس سٹیشن میں موبائل فون بھی نہیں لے کر جا سکتے پولیس سٹیشن میں اگر صحافی موبائل یا کیمرا لے کر نہیں جائے گا یا تو وہ پولیس کو کس طرح سے مانیٹر کر سکے گا یا لوگوں سے ان کے حالات و واقعات کس طرح پوچھ سکے گا جو کہ ایک بہت بڑا ظلم ہے بات صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتی اب تو پنجاب پولیس نے اپنا سوشل میڈیا سیل بھی بنا لیا ہے جس پر وہ صرف اپنے کارنامے ہیں دکھاتے ہیں کبھی کوئی پتنگ فروش گرفتار کرلیتے ہیں یا پھر کسی چور ڈاکو کو اور پھر فوٹو سیشن ہوتا ہے سب کے سب

ایک دوسرے کی خوب تعریف کرتے ہیں اور پھر اپنی خوب ساری تصویریں بنواتے ہیں اور ان کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم سے شائع کر دیتے ہیں یہ لوگ سوشل میڈیا کو عوام کی آگاہی کے لیے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ کہ اپنے کارناموں کی تشہیر کیلئے استعمال کرتے ہیں جس کا نوٹس حکومت کو ضرور لینا چاہیے اب تو صرف اس حکومت کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ نااہل حکومت کوئی بھی فیصلہ ٹھیک طریقے سے نہیں کر پا رہی چاہے سفارتی محاذ ہو یا اندرونی معاملات عوام کو کسی بھی طرح سے سے کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا اور انکی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام دن بدن پریشانیوں اور مشکلات میں پھنس ہی ہے اس تبدیلی کی دعویدار حکومت سے عوام کی تمام تر امیدیں ختم ہو

چکی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے غریب غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے کیا ریاست مدینہ کے اصول ایسے ہی تھے کیا ریاست مدینہ میں غریب اس حال میں زندگی گزار رہا تھا کیا ریاست مدینہ میں امیر کے لیے انصاف کے تقاضے اور تھے اور غریب کے لیے انصاف کے تقاضے اورکیا ریاست مدینہ میں بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا تھا جو آج ہمارے ملک میں ہو رہا ہے کیا ریاست مدینہ میں غریب عوام سے ناجائز ٹیکس وصول کیا جاتا تھا ان تمام ترسوالوں کے جواب موجودہ حکومت کو دینے پڑیں گے کہاں پر ہیں وہ وہ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کے دعویدار۔حکومت کو عوام کے تمام تر حالات اور مشکلات کا اندازہ ہے لیکن وہ اس طرف سنجیدگی سے غور نہیں کر ان میں اب اس غریب عوام کا صرف اللہ ہی حامی ہے اور اب وہ اللہ ہی سے آخری امید لگا کر بیٹھے ہیں کاش حکومت غریب عوام کے مسائل سمجھ سکے غریب عوام کا دکھ محسوس کرسکے ایسے میں ہم صرف غریب عوام کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں اللہ تعالی ان حکمرانوں کے دلوں میں عوام کے لیے رحم اور محبت پیدا کرے۔