بحثیت پاکستانی ہمارا جواب ۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا

دنیا کشمیریوں کے مرنے کا انتظار کیوں کر رہی ہے؟کشمیری وہ بدنصیب قوم ہے۔ جسکی مائیں 72 سالوںسے اپنے بیٹے زبح کروارہی ہیں۔ دلہنیں اپنے سہاگ، باپ اپنے شیرخوار بچے اور جوان بچیوں کو حق خود ارادیت کے لئے موت کی وادیوں میں دھکیل رہی ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ معصوم کشمیریوں کا مقبوضہ کشمیر سے خاتمہ انڈیا کا خواب ہے! کشمیریوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے سیاست کیوں ؟ جموں و کشمیر (کشمیر یا بھارت کے زیر قبضہ کشمیر) بھارت کے زیر قبضہ سب سے شمالی ریاست ہے جس کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ پاکستان میں جموں و کشمیر کو اکثر مقبوضہ کشمیر

کے نام سے پکارا جاتا ہے۔جموں و کشمیر تین حصوں جموں، وادی کشمیر اور لداخ میں منقسم ہے۔ سری نگر اس کا گرمائی اور جموں سرمائی دارالحکومت ہے۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ مندروں کا شہر جموں ہزاروں ہندو زائرین کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ لداخ جسے ”تبت صغیر” بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔جیسا کہ دنیا جانتی ہے ۔کشمیر دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ علاقہ عالمی سطح پر متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جس میں وادی کشمیر میں مسلمان 95 فیصد، جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں۔ جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بدھ 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں۔ بھارت نے 5 اگست 2019 سے کرفیو لگایا ہوا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بد ترین کرفیو کا 106 واں روز ہے لیکن تاحال کشمیریوں پر بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم میں کسی طور کمی نہیں آئی۔ کشمیریوں کو قتل کیا جانا اور کشمیری خواتین کو بھارتی فوجیوں کی جانب سے اپنی ہوس کا نشانہ بنانا ایک عام بات ہے۔ تاہم اب بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری خواتین کے ساتھ ہونے والے گھناؤنے سلوک کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری خواتین سے جنسی زیادتی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی

شرمناک حکمت عملی بھارتی ٹی وی کے ٹاک شو میں بے نقاب ہوگئی۔ اس حکمت عملی کو خود سابق بھارتی جنرل نے بے نقاب کیا۔ بھارتی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں سابق میجر جنرل ایس پی سنہا نے کہا کہ کشمیری خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی حمایت کرتا ہوں۔انتقام لینے کے لیے کشمیر ی عورتوں کا ریپ ہونا چاہئیے۔ پروگرام کے دوران ایس پی سنہا کی دیگر شرکا اور خاتون میزبان کے ساتھ تکراربھی ہوئی۔ بھارتی فوج کے افسر کی اس گفتگو پر انہیں خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صدر مملکت پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے مذکورہ پروگرام کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی جنرل کاکشمیری خواتین کی عصمت دری کابیان شرمناک ہے، سابق بھارتی جنرل ایس پی سنہابی جے پی کا کارکن ہے۔ایس پی سنہا ٹی وی پر بیٹھ کر

کشمیری خواتین کی عصمت دری کی وکالت کر رہا ہے جس سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے ساتھ سلوک کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جہاں اس قسم کے لوگوں کو وسیع اختیارات دے کر انہیں چھوٹ دی گئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں بھی تصدیق کی گئی کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پرسابق بھارتی جنرل کے بیان کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی جارہی ہے اور لوگ اپنے غصے اور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایس پی سنہا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ خواتین سے متعلق اس طرح کے گھناؤنے عمل کی ترغیب دینے والے شخص پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہئیے۔ وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات

فردوس عاشق اعوان نے بھارتی فوجیوں کو ذہنی بیمار قرار دے دیا اور کہا کہ بھارتی ریٹائرڈ جنرل نے ٹی وی پر گھٹیا بیان دیا، اخلاق سیعاری سوچ مودی کے نازی ازم کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کشمیرمیں زندگی معمول پر آنے کے دعوے کی کھلی تردید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی کشمیری ماؤں اور بہنوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ جبکہ فواد چودھری سمیت کئی وزرا نے بھی بھارت کے سابق میجر جنرل کے اس بیان کی شدید مذمت کی تھی سوال پیدا ہوتا ہے؟ اگر پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے تو کیا انڈیا بیٹھا ہوا ہے؟ اگر پاکستان بین الاقوامی طور پر مسلہ کشمیر اجاگر کرتا ہے تو کشمیریوں کو کیا فائدہ ؟اور کیا انڈیا مسلہ کشمیر کو دنیا سے چھپا سکتا ہے؟ اگر مسلہ کشمیر UNO سے ہی حل ہوتا تو 72

سالوں سے کشمیری قربانی کیوں دیتے؟ کیا پاکستان نے کشمیریوں کی مدد اس وقت کرنی ہے جب انڈیا آزاد کشمیر میں چھیڑ چھاڑ کرے گا ؟ کیا ہم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے مرنے مٹنے اور فنا ہونے کے بعد مدد کریں گئے؟ وہ کشمیری جو 106 دن سے کرفیوں کی وجہ سے پانی ، خوراک کو ترستے ترستے اللہ کے پاس چلے گئے کیا وہ جانتے نہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں ؟ بحثیت مسلمان ہمارے پاس کیا جواب ہے؟ بحثیت انسان ہمارے پاس کوئی جواب ہے؟ بحثیت پاکستانی ہمارا کیا جواب ہے؟