اب کہ میری ہڈیاں بھی نچوڑ لینا تم۔۔۔ تحریر : کائنات اقبال

اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں میری طرف بڑھاتے ہوئے خوبصورتی کی دُھائی دیتی ہوئی اُس کی سمندر کے پانی سے لبریز آنکھیں مجھ سے اُن ہاتھوں کا جائزہ لینے کی گزارِش کر رہی تھیں.میں نے اُس کے ہاتھوں کو دیکھا ۔۔۔” دعا تم جانتی ہو کتنی بار اُس نے اِن ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے وعدے کیے تھے کہ وہ زندگی میں کسی موڑ پہ مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا۔دیکھو دعا وہ یہ ہاتھ کیسے چُھڑا کر جا رہا ہے” بات کرتے کرتے وہ آنسوؤں کی لڑی حلق میں اتارنے کے لیے رک جاتی اور لمبے سانس بھرتی۔۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کسی نے اس کی نبض کاٹ دی تھی جس کا لہو رِستے ہوئے بہت زیادہ دیر ہو چکی تھی اور اب وہ بے ہوش ہو جائے گی ۔۔۔ “دُعا وہ میرے اندر ایک خنجر اُتار کر گیا ہے جو میں نکال نہیں پا

رہی” ۔۔۔میری مدد کرو دُعا۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز کھ کرو۔۔۔۔ اُسے روک لو کسی طرح ” اچانک اُسے کچھ یاد آیا اور میری دہلیز پہ بیٹھتے ہوئے اُس نے امید لگائی اور فقیرانہ انداز میں کہا : “دیکھو تم تو جانتی ہو نا کتنا مشکل ہوتا ہے کسی کی ذات میں فنا ہو کر اُس سے جدا ہونے کے تصّور سے بھی گزرنا۔۔ دعا میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، میری دوا کرو اُسے کہو نا وہ تمہاری سن لے گا تم تو نیک لڑکی ہو نا تمہاری تو رب بھی سن لیتا ہے تم اپنے رب سے میری سفارش کر دو گی پلیز کہ وہ رایان کا دل موڑ دیں اُسے پھر سے میری طرف لوٹا دیں ۔۔۔ کہو تم ایسا کرو گی نا ۔۔۔۔۔ ہے نا دعا ۔۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی دعا …… پلیز میرے لیے “دُعا” کرو پلیز ۔۔۔۔۔۔” یہ کہتے ہوئے اُس نے میری گود میں اپنا سر رکھ دیا وہ بلک بلک کر روتے ہوئے میرے سامنے مِنّت سماجت کر رہی تھی۔نہ جانے کس مجبوری کے تحت آج وہ لڑکی میرے سامنے گڑگڑا رہی تھی جو کبھی اپنے پاس ہونے والی تمام نعمتوں میں سے اپنی خوبصورتی کی نعمت پہ سب سے زیادہ اِترایا کرتی تھی اور اُسی خوبصورتی کو ٹھوکر مار کر “رایان امین علی” اُسے محبت کی زنجیروں میں باندھ کر تکلیف کی کال کوٹھری میں مرنے کے لیے تنہا چھوڑ گیا تھا ۔۔۔اب ذوفشاں کے آنسو آواز میں اُلجھ کر حلق میں پھنس گئے تھے وہ رایان کی جدائی برداشت نہیں کر پا رہی تھی اور سسکیاں اُس کے سینے میں کہیں اٹک گئی تھیں۔وہ دائیں جانب کی کھڑکی پہ ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی اور سسکتے سسکتے اب چپ ہو گئی تھی ۔۔ وہ ذوفشاں عدنان جو کچھ دیر پہلے مجھ سے التجائیں کر رہی تھی اب اُسکی آنکھوں میں اُداسی کی رات کے ایک پہر نے قبضہ کر لیا تھا ۔۔۔میں اُسکی

دوست ہونے کے ناتے اُسکی مدد کرنا چاہتی تھی اُسکے درد کو سمجھ سکتی تھی لیکن میں اُس کے لیے کچھ کر نہیں سکتی تھی کیونکہ جس چیز کی مانگ وہ مجھ سے کر رہی تھی وہ تو میرے بس میں ہی نہ تھا۔۔ لیکن میرے ہاتھ میں جو تھا وہ میں نے کِیا ، اُسے دلاسہ، حوصلہ اور ہمت دی۔ اس کے گھنے سیاہ بال جو کمرے کی مدھم روشنی میں چاندی کی طرح چمک رہے تھے، سہلاتے ہوئے میں نے اُس سے کہا : “ذوفشاں میری جاں !…… زندگی تو نام ہی امتحانوں کا ہے …… امتحان نہ ہوں تو ہم رب کے قُرب کو کبھی حاصل نہ کر پائیں ، اور نہ اُس کی رحمتوں کے شکر گزار ہوں …… ہم بھی تو حد کرتے ہیں نا !!!! اُسے یاد بھی کرتے ہیں تو غم میں، دُکھ میں، تکلیف میں ۔۔۔ تو وہ کہتا ہے کہ ایسے تو

ایسے ہی صحیح ، وہ ہمیں اپنا احساس دلاتا ہے ، ذوفشاں جیسے تم رایان کے دور جانے سے تکلیف میں ہو سوچو تمہارے دور جانے سے اللّٰہ پاک کو کتنی تکلیف ہوتی ہو گی جب کہ وہ تو تمہیں اُس سے زیادہ پیار کرتا ہے جتنا تم رایان سے کرتی ہو ۔۔۔ وہ رب ہے ہمارے دلوں کے حال جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کتنی تکلیف میں تم ہو اور یقین جانو اُس کے علاوہ اور کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا کہ کس طوفان کا تم سامنا کر رہی ہو ۔۔۔ اُس کے علاوہ کوئی نہیں جو رایان کا دل پھیر دے اور اُس کے علاوہ کوئی اور نہیں جو تمہارے دل کو صبر نواز دے ۔۔۔ میں تمہارے لیے اللّٰہ سے دعا کروں گی کہ وہ تمہارے دل کو قرار سے کوشاں کر دیں۔”پھر کچھ کہے بغیر اُس نے آنکھیں بند کر لیں اور اب اُس کے دل کی حالت کا بس ایک

واحد گواہ رہ گیا تھا اور وہ تھی ربّ ذوالجلال کی عظیم ذات ۔۔۔اِس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللّہ ربُ العزت ہمیں ہماری طاقت اور برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا بلکہ وہ تو بس اُس شخص کی رسی کھینچتا ہے جسے اپنے قُرب سے نوازنا چاہتا ہو ذوفشاں نے عشقِ مجازی میں ٹھوکر کھائی تو اُسے احساس ہوا کہ اُس کے خالق نے اُس کے نصیب میں عشقِ حقیقی کی معرفت کا حصول لکھا ہے۔یہ بات اُسے شاید کے بغیر ٹھوکر لگے سمجھ نہ آتی لیکن اب وہ سمجھ چکی تھی کہ انسانوں کا ساتھ وقتی طور پر ہوتا ہے جب راستے جدا ہو جاتے ہیں تو انسان بھی جدا ہو جاتے ہیں اور یہ کہ ان کو اپنا مستقل سہارا نہیں بنا لینا چاہیے کیونکہ مستقل اللّہ کی پاک ذات کے علاوہ اور کچھ نہیں۔میری باتوں کا اُس پر کچھ اثر تو ہوا تھا کہ اُس نے

پھر مجھ سے اِلتجا نہیں کی تھی خود کو چار ہفتے گھر میں بند رکھنے کے بعد وہ اپنے امتحان میں کامیابی کا راستہ ڈھونڈ چکی تھی۔ اب وہ ٹوٹنے کے بعد سے دوبارہ کِھل اٹھنے کے تمام مراحل طے کر چکی تھی اور اِس سب میں اُسے بہت زیادہ وقت بھی نہیں لگا تھا کہ وہ خود کو اب پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے میں کافی حد تک کامیاب ہوگئی تھی۔ اب اُسے اِس بات کا اندازا ہو چکا تھا کہ وہ کبھی اُس انسان کو حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کے بنانے والے کا قُرب نہ پا لے لیکن جب بنانے والے کا قُرب نصیب ہو جائے تو کہاں کسی اور کی ضرورت باقی رہتی ہے۔۔۔ یہ امتحان جس سے ذوفشاں گزری ہے ایک بار اُس کی ہڈیوں تک سے ہمت نچوڑ کر لے گیا تھا لیکن جب اللّہ پاک اپنے بندے کی امداد کرتے ہیں تو وہ چاہے جتنے بھی اونچے پہاڑ سے گرا ہو وہ پھر اپنے پیروں پہ کھڑا ہو کر نہ صرف اُس پہاڑ کو عبور کرتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے مثال قائم کر جاتا ہے۔ ذوفشاں کی زندگی میں مجھے ایسی ہی مثال نظر آتی ہے۔ پھر میں لکھتی ہوں کہ : ۔۔۔” اب کہ میری ہڈیاں بھی نچوڑ لینا تم ۔۔۔میں پھر سے کِھل اُٹھوں گی دیکھ لینا تم”