بابری مسجد کے فیصلہ پر ہندوستانی مسلمانوں کا صبرمذہب اسلام ہمیشہ امن وامان قائم رکھنے کی تعلیمات دیتا ہے۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی

ہندوستان کے موجودہ حالات میں اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرکے تعلیمی اداروں کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائےبابری مسجد کی شہادت کے ۲۷ سال بعد بابری مسجد کے قضیہ سے متعلق ۱۱ ربیع الاول ۱۴۴۱ھ مطابق ۹ دسمبر ۲۰۱۹ء صبح ۱۱ بجے ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ آتے ہی انصاف پسند لوگوں پر بجلی سی گرگئی کیونکہ اُ ن کو آج بھی یہ یقین ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر کسی مندر کو گراکر نہیں کی گئی جیسا کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلہ میں اس کو تسلیم کیا ہے۔ نیز مسلمان قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ کے گھر کو مندر بنانے کے لئے دینا تو درکنار کسی شخص کی رہائش کے لئے بھی دینا اُن کے اختیار میں نہیں ہے۔ اسی لئے مصالحت کی متعدد کوششیں بھی ہوئیں لیکن

قائدین ملت ہم وطنوں کے ساتھ مکمل خیر سگالی رکھنے کے باوجود اسی بات پر مصر رہے کہ مسجد یعنی اللہ کے گھر کو بت خانہ میں تبدیل کرنے کا انہیں حق حاصل نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے پر انہیں اللہ تعالیٰ کے دربار میں جواب دینا ہوگا۔ ہاں مسجد کی حفاظت کے لئے تمام تر کوششوں کے باوجود اگر ہندوستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے خلاف بھی آتا ہے تو ہم اس کو تسلیم کریں گے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ میں ۵۰۰ سالہ بابری مسجد کی مکمل زمین رام مندر بنانے کے لئے دے دی گئی ہے جیسا کہ آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی دیرینہ خواہش تھی، امن پسند لوگ خاص کر مسلمانوں نے اس فیصلہ کو اپنی مرضی کے خلاف ہونے کے باوجود تسلیم کیا، اگرچہ ہندوستان کے ماہرین قانون اور مختلف وکلاء کے بیان کے مطابق اس فیصلہ میں متعدد خامیاں موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کی تاریخ کا اہم قضیہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلہ پر لمبے عرصہ تک بحث ومباحثہ ہوتا رہے گا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیت علماء ہند اور دیگر قومی وملی تنظیموں نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس کیس کو مکمل تیاری کے ساتھ اچھے وکلاء کی سرپرستی میں لڑا۔ امید کی جارہی تھی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آستھا کے بجائے دستاویزوں کی بنیاد پر آئے گا، مگر ججوں کی پانچ رکنی پینل نے آستھا کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنایا، جس پر سیکولر ذہن رکھنے والے طبقہ کو بہت افسوس وقلق ہوا کیونکہ ہندوستان کی تاریخ کے سب سے بڑے قضیہ کا فیصلہ آستھا کے بجائے حقائق پر مبنی ہونا چاہئے تھا۔ مسلم تنظیمیں آئندہ کے لئے لائحہ عمل پر غور وخوض کررہی ہیں، عام مسلمانوں کو اس وقت قائدین ملت پر تنقید کرنے کے بجائے اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرکے مسلم

تنظیموں کے اگلے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے۔ بہت ممکن ہے کہ عدالت کی طرف سے ملے حق کا استعمال کرتے ہوئے قومی وملی تنظیموںکی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کے لے عرضی (ریویو پٹیشن) داخل کی جائے، حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بدلنا اب بظاہر ممکن نہیں ہے، مگر مسلم فریق کو کم از کم اس فیصلہ کی خامیوں کو بیان کرنے کا ایک موقع ضرور مل جائے گا۔ ہندوستان کے بیس کروڑ سے زیادہ مسلمان مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اس اہم اور حساس قضیہ کا فیصلہ اُن کی توقعات کے خلاف آنے کے باوجود انہوں نے ملک میں امن وسکون اور شانتی قائم رکھی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق صبر کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ جب ۱۹۹۲ء میں ہندوستانی قوانین کی دھجیاں اڑاکر کچھ شر پسند لوگوں نے ۵۰۰ سالہ

پرانی بابری مسجد کو شہید کیا تھا تو پورے ملک میں فسادات برپا ہوئے تھے، جس کی وجہ سے ہزاروں خواتین اور بچے بے سہارہ ہوگئے تھے۔ مگر اِس وقت مسلمانوں نے اپنے قائدین کی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو رکھا اور ملک کے حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لئے انتظامیہ کا مکمل تعاون کیا۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد مسمار کرنے کے واقعہ کو غلط تو قرار دیا مگر بابری مسجد گرانے والوں کے خلاف کوئی فیصلہ ابھی تک نہیں سنایا، حالانکہ یہ معاملہ بھی عدالت میں طویل عرصہ سے زیر بحث ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے اس موقع پر ملک میں امن وامان باقی رکھنے کے لئے جو صبر وتحمل کی مثال پیش کی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ جس نبی کا نام لیتے ہیں ان کو سارے جہاں کے لئے رحمت ہی

رحمت بناکر بھیجا گیا ہے، اس نبی کی تعلیمات میں دہشت گردی کے بجائے رواداری اور بھائی چارہ کا پیغام ملتا ہے۔ انسانیت کے نبی ﷺ نے ہمیشہ امن وامان کو قائم کرنے کی ہی تعلیمات دی ہیں۔ چنانچہ اس دنیا پر ایک ہزار سال سے زیادہ مسلمانوں کی حکومت رہی ہے اور مشرق سے مغرب تک توحید کا جھنڈا لہراتا رہا ہے، ہندوستان پر بھی کئی سو سال مسلمانوں نے حکومت کی ہے، لیکن اس دوران کوئی مذہبی انتہا پسندی پروان نہیں چڑھی، کسی دہشت گردی نے جنم نہیں لیا، بلکہ مسلمانوں کی طرح غیر مسلموں کی عزت اور ان کے سازوسامان کو مکمل حفاظت دی گئی۔ یقینا چند سالوں سے ہندوستانی مسلمانوں پر ایسے حالات آئے ہوئے ہیں جو اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئے، لیکن ہمیں ان حالات کا مقابلہ اپنے نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو

سامنے رکھ کر کرنا چاہئے کہ نبی بنائے جانے سے لے کر وفات تک آپ ﷺکو بے شمار تکلیفیں دی گئیں، مگر آپ ﷺ نے کبھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا، آپ ﷺ رسالت کی اہم ذمہ داری کو استقامت کے ساتھ بحسن خوبی انجام دیتے رہے۔ہمیں اپنے نبی کی زندگی کے احوال سے یہ سبق لینا چاہئے کہ گھریلو یا ملکی یا عالمی سطح پر جیسے بھی حالات ہمارے اوپر آئیں، ہم ان پر صبر کریں اور اپنے نبی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔ ہندوستانی قوانین کے مطابق ہمیں پرامن مظاہروں کا حق ضرور حاصل ہے مگر قومی وملی تنظیموں کی سرپرستی میں ہی ہمیں کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔ آخر میں مسلم بھائیوں سے درخواست ہے کہ خود آگے بڑھ کر زیادہ سے زیادہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں جس میں عصری علوم کی اعلیٰ تعلیم کے ساتھ بچوں کی بہترین دینی تربیت کا معقول انتظام ہو تاکہ ہماری نسلیں مرتد ہونے سے بچ سکیں اور اپنے قول وعمل کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کو غیر مسلم بھائیوں تک پہنچائیں تاکہ مذہب اسلام کے متعلق صحیح معلومات اُن کو پہنچ سکے۔