کشمیرکسی نشانے پر تو نہیں؟ تحریر: عطاء الرحمن چوہان

جموں و کشمیر میں محاصرے کو آج چھیاسی دن ہو چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک تقریر کے علاوہ کوئی سیاسی اور عملی اقدام نہیں اٹھایا۔جماعت اسلامی کے علاوہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے کشمیر پر سرگرمی نہیں کی۔ ایسے میں مقتدرہ نے اپنے گھوڑے دوڑائے اور ایک جمعہ کے دن ملک میں سرکاری اداروں اور ملازمین کے ذریعے احتجاج کروایا گیا، نوجوانوں کے مختلف گروہوں کو ٹاسک دئیے گئے اور معاشرے میں مقتدرہ کے لیے کام کرنے والی کچھ مذہبی اور سماجی تنظیموں اور شخصیات نے خاموشی توڑنے کی کوشش کی۔ کنٹرول لائن کے قریب کی جانے والی سرگرمیاں بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھیں۔ذرائع ابلاغ نے کشمیر پر کوئی قابل ذکر توجہ نہیں دی، باالخصوص کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت

کا بلیک آوٹ کیا جاتا رہا ہے۔اہلیان جموں وکشمیر کے صبر و استقامت نے مسئلہ کشمیر کو عالمی منظرنامے میں مرکزی نکتہ بنا دیا۔اقوام متحدہ کے بعد برطانوی، یورپی یونین اور امریکہ کی سینٹ میں بھی کشمیر زیر بحث رہا۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی کشمیر پر توجہ دی لیکن پاکستانی میڈیا حکومتی ہدایات کے مطابق کشمیر میں جاری قیامت خیز انسانی المیے سے نظریں چرا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جہادی سرگرمیوں، کنٹرول لائن پر احتجاج یا کنٹرول لائن توڑنے اور فوج بھیجنے جیسے آپشنز کو خارج از امکان قراردیا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے طویل محاصرے کے باوجود حکومت پاکستان نے قومی قائدین، آل پارٹیز حیریت کانفرنس کے نمائندگا ن اور آزادکشمیر کی سیاسی قیادت سے بھی مشاورت کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ عالمی رائے عامہ کو متوجہ کرنے کے بجائے پاکستانی عوام کو بھی کشمیر کی صورتحال سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سفارتی محاذ پر بھی کوئی قابل ذکر سرگرمی دکھائی نہیں دیتی۔ مسلم اور دوست ممالک کو کشمیر میں جاری مظالم اور محاصرے کے خاتمے کے لیے کسی حل پر متوجہ کرنے کا اہتمام نہیں کیاگیا۔ الغرض اب تک وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے جاندار تقریر کے سوا کوئی اقدام نہیں اٹھا یا گیا۔کشمیر ی تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں اور پاکستان کشمیریوں کی آواز بننے کے بجائے ان سے آنکھیں پھیر رہا ہے۔ یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ کشمیر میں لگی آگ سے صرفِ نظر کیا جارہا ہے اور مقامی طور پر ایسے ایشوز کو ہوا دی جائے کہ عوام کی توجہ کشمیر کے بجائے نواز شریف کی رہائی اور آزادی مارچ پر مرکوز رہے۔ ان خدشات کا اظہار بھی کیا جارہا

ہے کہ اسی دوران بھارت کشمیر میں اپنی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر کو تین الگ انتظامی کائیوں میں تقسیم کرتے ہوئے انتظامی ڈھانچے کو عملی شکل دے گا۔ اس دوران نوازشریف کے ساتھ خفیہ ڈیل اور آزادی مارچ میں عوام کو الجھا کر حکومت کشمیر میں ہونے والی تبدیلیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہوگی۔ حیران کن پہلو یہ بھی ہے کہ ستائیس اکتوبر یوم سیاہ کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کو سرحد پار دہشت گردی سے جوڑ کر پاکستان کے دیرینہ موقف کی نفی کردی۔ اسی دوران کرتار پور راہداری پر پاکستانی فوجیوں کی بھارتی ادارکارہ کے ساتھ ڈانس نے بھی کئی ایک پیغامات دینے کی کوشش کی ہے۔ آزادکشمیر میں وزیراعظم نے تمام

سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے اور کشمیر کی صورت حال پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کی کوشش کی لیکن آخری مرحلے پرانہیں بھی کوئی کردار ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ کشمیر کی طویل ترین اور قربانیوں سے لدی ہوئی جدوجہد کو پاکستان کی طرف سے غیرموثر کرنے کے اشارے مل رہے ہیں۔حکومت کی یہ پالیسی پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمان تو نہیں لیکن ذرائع ابلاغ پر غیر اعلانیہ سنسرشپ اور مقامی مسائل کو اس موقع پر پوری منصوبہ بندی سے ابھارکر بھارت کو کشمیر میں من پسند تبدیلیوں کے لیے فری ہینڈ دیا جارہا ہے۔ ماضی میں جنرل پرویز مشرف نے کنٹرول لائن پر بھارت کی طرف سے باڑ لگانے کی ڈھیل دے کر جن خدشات کو جنم دیا تھا، آج ان کی تصدیق ہوتی جارہی ہے۔ قائداعظم ؒ نے تو کشمیر کو

پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور وقت نے قائد کے ویژن کو سو فیصد درست ثابت کیا۔ اس کے باوجود پاکستان کے حکمرانوں نے اپنی شہ رگ کی آزادی کے لیے کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام کے صبر و استقامت کا اندازہ لگائیں کہ جس دیوی سے وہ محبت کرتے ہیں اس کی روز افزوں بدلتی پالیسیوں کے باوجود انہوں نے کبھی مایوسی کو قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ وہ عزم و ہمت کے کوہ گراں ہیں۔ کتنی نسلیں پاکستان سے محبت اور آزادی کی خاطر اپنا سب کچھ لوٹا چکی ہیں، بھارت پوری سیاسی، فوجی اور اخلاقی قوت لگانے کے باوجود کشمیریوں کو اپنی طرف مائل نہیں کرسکا ۔پاکستانی عوام کشمیر سے جتنی محبت رکھتے ہیں حکمران کشمیر سے اتنے ہی گریز کرتے چلے آرہے ہیں۔ایسے میں عوام نے اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہیں کہ مفاد پرست ذہنیت کہیں قائداعظم کے پاکستان کی شہ رگ پر بھی سودا نہ کردیں۔