ہم کس لیے لڑ رہے ہیں؟ تحریر: سعد الرحمٰن ملک

کہتے ہیں دوسری جنگ عظیم میں جب کچھ جرنیلوں نے ونسٹن چرچل سے کہا کہ جنگی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے تعلیم پر خرچ ہونے والے فنڈز روک دیے جائیں تو چر چل نے جواب دیا”ہم کس لیے لڑ رہے ہیں؟”ْ۔یعنی جب عوام کو تعلیم جیسی بنیادی ضرورت نہیں دستیاب ہوگی تو ہماری جدوجہد بے کارہے۔عرصہ دراز سے پاکستان معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہے اس لیے نئی حکومت کے بجٹ سے بھی عوام کو زیادہ امیدیں وابستہ نہیں تھیں۔لیکن اس وقت تعلیمی اور سماجی حلقوں کو شدید جھٹکا لگا جب بجٹ میں سب سے زیادہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں فنڈز کی کٹوتی کی گئی۔رواں مالی سال میں ایچ ای سی کے لیے صرف 29ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ گزشتہ برس اس ادارے کے لیے 46ارب روپے مختص کیے

گئے تھے۔یوں تحریک انصاف کی حکومت نے فنڈز میںچالیس فیصد کمی کرتے ہوئے جی ڈی پی کا محض اعشاریہ دو فیصد اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کیا جو گزشتہ پندرہ سال میں سب سے کم ہے۔یہ عمران خان کے ان دعووں کی نفی کرتا ہے جو انہوں نے انتخابات سے پہلے کیے تھے کہ وہ تعلیمی اور سماجی شعبوں پر سب سے زیادہ خرچ کریں گے۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیاء میں تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے جو جی ڈی پی کا محض 2.14فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دورا ن22 نکاتی تعلیمی ایجنڈا پیش کیا جس میں وعدہ کیا گیا کہ وہ تعلیم کے لیے بجٹ کا 20فیصد مختص کریں گے۔نوجوانوں نے اس وعدے پر ایمان لا کر پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کے ایوانوں تک پہنچایا لیکن اس کا بدلہ انہیں یہ ملا کہ ایچ ای سی کے بجٹ میں کمی کر دی ۔ہزاروں طلباء نے سکالرشپس ملنے کی امید پر ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے لیے لیکن ایک سمسٹر گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ سکالر شپس کے لیے فنڈز روک دیے گئے ہیں۔کئی طلباء نے تو معاشی حالات سے تنگ آکر تعلیم کو خیر باد کہہ دیا اور باقیوں نے یونیورسٹی کی بھاری فیسیں ادا کرنے کے لیے پارٹ ٹائم نوکری کرنا شروع کر دی۔چند روز قبل وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری ہماری یونیورسٹی میں تشریف لائے تو انہوں نے اپنی تقریر میں معیاری ریسرچ پر زور دیا۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب طلباء کو اپنی فیس ادا کرنے کے لالے پڑے ہوں اور یونیورسٹیوں کی لیبارٹریز میں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث تالے لگ رہے ہوں تو معیاری ریسرچ کی امید رکھنا مضحکہ خیز ہے۔ایچ ای سی نے فنڈز میں کمی کے باعث کئی پروگرامز بند

کردیے گئے ہیں جن میں فیکلٹی ڈولپمنٹ پروگرام، نئے پی ایچ ڈی ہولڈرز کے لیے سٹارٹ اپ ریسرچ گرانٹس، سائنسی آلات کی دیکھ بھال و مرمت کے لیے گرانٹس، سائنٹفک انسٹرومیشن پروگرام تک رسائی، یونیورسٹی فیکلٹی اور ریسرچ سکالر کے لیے تحقیقی سفری گرانٹ، ورکشاپس، سیمینارز اور تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کے لیے گرانٹس شامل ہیں۔ان پروگرامز کے بند ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کا ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس کا یونیورسٹیوں پر براہ راست اثر پڑا او ر انہوں نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیسیں دگنا کردیں جس کی وجہ سے طلباء پر معاشی بوجھ میں اضافہ ہوگیا۔مسائل صرف یہیں تک محدود نہیں رہے بلکہ یونیورسٹیوں میں نئی تقرریوں پر پابندی عائد کر دی گئی، نئے کیمپس اور یونیورسٹیوں کی تعمیر کا کام فوری

طور پر روک دیا گیا اور طلباء کے لیے ریسرچ گرانٹس نہ ہونے کے برابر رہ گئیں۔حال ہی میں گلوبل انویشن انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق ریسرچ کے میدان میں 141 ممالک کی فہرست میں پاکستان 113ویں نمبر پر ہے۔فنڈنگ میں کمی کی وجہ سے ریسرچ جرنلز بند ہورہے ہیں یا ان کی اشاعت تاخیر کا شکار ہورہی ہے۔نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ان جرنلز کی اشاعت بحال رکھنے کے لیے ریسرچ سکالرز اپنی جیب سے رقم خرچ کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ تحقیق کے لیے سہولیات کا فقدان ہے جو فنڈز کی کمی کے باعث مزید متاثر ہوں گی۔ایچ ای سی کے مطابق اس وقت سات ہزار چار سو طلباء یورپ، امریکہ، چائنہ اور دیگر ممالک میں سکالر شپس پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو فنڈز میں کمی کے

باعث متاثر ہورہے ہیں۔مالی مسائل سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے یونیورسٹیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چندے اور خیرات پر ادارے چلائیں۔چونکہ ہمارا ملک آزادی کے بعد سے ہی خیرات اور قرضوں پر چلتا آرہا ہے اس لیے ہمارے سیاستدانوں کو تمام مسائل کا حل یہی لگتا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں یونیورسٹیوں کے لیے ڈونیشنز کا رواج نہیں ہے۔بالفرض کاروباری ادارے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں یونیورسٹیوں کو چندہ دینے لگیں تو وہ اپنے مفادات کو ترجیح دیں گے۔اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تعلیمی ادارو ں میں تحقیق کے بجائے ان کاروباری اداروں کے مفادات کی ترویج کی جائے گی اور اعلیٰ تعلیمی نظام محض ایک کاروباری منڈی بن کر رہ جائے گا۔مائیکروسافٹ، گوگل اور ایپل جیسی کمپنیاں کئی دہائیوں سے یہ کھیل کھیلتی

آرہی ہیںکہ یونیورسٹیز کے طلباء کے تحقیقی کاموں کو خرید کر اپنے نام پیٹنٹ کرا لیا جاتا ہے۔یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس میں تعلیمی معیار گرتا چلا جائے گا لیکن کاروباری طبقہ یہاں بھی منافع کما لے گا۔عمران خان اکثر چین کی ترقی اور عظیم لیڈر مائوزے تنگ کی مثالیں دیتے ہیں۔انہیں شاید معلوم نہیں کہ لانگ مارچ میں اپنے ہزاروں ساتھی کھونے اور جنگی حالات کے باوجود بھی مائوزے تنگ نے تعلیم کو اولین ترجیح دی اور چینی قوم کی تعلیم و تربیت پر کام کیا۔اگر آج ہمارا ملک بدحالی کا شکار ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ 195ممالک کی فہرست میں تعلیم پر خرچ کرنے میں ہم 181ویں نمبر پر ہیں۔تعلیم کا شعبہ ہر حکومت کے لیے سب سے کم اہمیت کا حامل رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم ہر شعبہ میں دنیا کے دیگر ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ابھی عمران خان کے پاس وقت ہے کہ وہ گزشتہ سال میں کی جانے والی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور ازسرنو لائحہ عمل تشکیل کریں جس میں تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے۔اگر اب حکومت نے معاشی بدحالی کی آڑ میں تعلیم کے شعبہ کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی تو ہماری آنے والی نسلیں بھی ہم سے پوچھیں گی کہ “ہم کس لیے لڑ رہے ہیں”؟؟؟