اللہ والوں کی مجلس۔۔۔ تحریر: آصف اقبال انصاری

جمرات کی شب بندہ ” مدنی مسجد” کراچی تبلیغی مرکز حاضر ہوا۔ شب جمعہ کی بابرکت مجلس میں شرکت کے لیے کراچی کے اطراف سے آئے ہوئے حضرات کا ایک جم غفیر تھا۔ مجلسیں تو بہت ہوتی ہیں، بیٹھک بھی بہت ہوتے ہیں، لیکن جو نورانیت، قلبی سکون، طمانیت، راحت، فرحت و سرور اللہ والوں کی مجلسوں سے حاصل ہوتی ہے وہ کہیں اور تشریف رکھنے سے نہیں۔ آخر ان مجلسوں میں کیا ہوتا ہے؟؟؟ بس اللہ اور اسے محبوب کا مبارک تذکرہ۔ بعد از مغرب ایک بزرگ شخصیت ” ڈاکٹر نوشاد صاحب” نے حاضرین کو کئی قیمتی ملفوظات سے نوازا۔ فرمانے لگے: انسان اگر نیک اعمال کرے تو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اور حقیقی آنکھ سے مشاہدہ بھی ہوتا۔ اسی طرح اگر برے اعمال کا ارتکاب کرے تو اس کے برے اثرات بھی ضرور

بالضرور مرتب ہوتے ہیں۔ پچھلی قوموں کے احوال، حرکات و سکنات سے کون واقف نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا قوم عاد، قوم ثمود، قوم نوح، قوم لوط اور دیگر وہ قومیں جنہیں گناہوں کے پاداش میں قسم قسم کے عذاب میں مبتلا کیا گیا۔ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو تہ تیغ کروادیا۔ وہ یہی نافرمانی تو تھی، رب سے تعلق کا ٹوٹنا تو تھا، رب کے دیے گئے احکامات کی بجاآوری کے بجائے ان سے روگردانی تو تھی۔ اس کے برعکس انہی میں سے وہ جو رب کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے تھے ان کو رب تعالیٰ نے کیسی کیسی مشقتوں سے نکالا۔ان کی دلجوئی کی۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا۔ فرشتوں میں ہلچل مچ گئی۔ حضرت جبرائیل امین حاضر ہوئے، مدد کی درخواست کی۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے ہوچھا ” کیا اللہ نے بھیجا ہے؟؟ نہیں تو پھر اجازت لے کر آؤ” بالآخر رب تعالیٰ نے اس آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والا بنادیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قوم بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی طوفان سے حفاظت فرمائی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بحفاظت آسمان پر اٹھالیا۔ یہ سب کیوں کر ممکن ہوا۔ محض اس لیے کہ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ یہ ہر آن ہر گھڑی، ہمہ وقت اور ہمہ تن رب تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتے تھے۔ آج اس امت میں بھی بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئیں ہیں۔ نافرمانی اور معصیت کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ” اب گناہ اس قدر عام ہوگئے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عمومی عذاب نہ آجائے” ایک حدیث کا مفہوم ہے حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ “جب گناہ عام ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو ایسی ایسی بیماریوں میں مبتلا

کردیتے ہیں، جن کے نام ان کے باپ داداؤں نے بھی نہیں سنی ہوگی۔”موجودہ دور فتنوں کا دور ہے۔ امت بہت پریشانی کے عالم میں ہے۔ اندرونی بیرونی ہر طرف سے خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ یہ وقت ہے اجتماعی توبہ و تائب کا۔ یہ وقت ہے رب کی طرف رجوع ہونے کا، یہ وقت ہے رب کو منانے کا۔ کیوں کہ توبہ مؤمن کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں”۔ فرمانے لگے: ٹھیک ہے ہم کوتاہیاں کرتے ہیں لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اب بھی وقت ہے۔ سورج کے مغرب سے نکلنے سے پہلے تک وقت ہے۔ حالت غرغرہ میں جانے سے پہلے تک وقت ہے۔ اب بھی اللہ کی طرف دوڑ لگاؤ تو اللہ اب بھی قریب کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کریم رب کی شان کریمی تو یہ ہے کہ وہ فرماتا ہے: ” میرا بندہ تو معافی مانگ مانگ کر تھک جائے گا۔ مگر میں معاف کر کر کے نہیں تھکوں گا۔”