تین دن میں کشمیر کی آزادی۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا

مرنے دو ان کو مکھیوں اور مچھروں کی طرح یہ سزا ہے ان کی جو ایمان رکھتے ہیں ’’ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ‘‘پر ہندوؤں نے یہ نظریہ رکھ کر قیامت برپا کر دی امت ِ محمدیہ کے معصوم مجبور بے بس کشمیریوں پروہ بھی پورے مقبوضہ کشمیر کو کرفیو کے حصار میں رکھ کر ! بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے فرمایا تھا ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ‘‘ 72 سالوں سے ہم آزادی منا رہے ہیں ، ہماری بہادری کی دنیا میں اگر کوئی مثال نہیں ۔ کوئی ایسی قوم نہیں جس کی شہ رگ دشمن کے شکنجہ میں جھکڑی ہو اور وہ قوم آن بان اور شان سے آزادی مناتی ہو یہ اعزاز صرف پاکستانی قوم کو میسر ہے۔ آج بھارتی جابرانہ قبضے کے 72 برس، دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔کشمیر یوم

سیان منانے کا مقصد بھارتی قبضے اور کشمیریوں کے قتل عام کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارت کی جانب سے قبضے کے 72 برس پورے ہونے کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں۔72برس قبل 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے پہلی بار مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتاری تھیں جس کے بعد سے بھارت نے آج تک کشمیر کے ایک بڑے حصے پر جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پر آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے، جلسے اور ریلیاں منعقد کی جارہی ہیں جن کا مقصد کشمیر پر بھارتی قبضے اور کشمیریوں کے قتل عام کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔کنٹرول لائن کے دونوں طرف مقیم کشمیری بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ۔1989 سے مقبوضہ وادی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیں جب کہ 11ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی اور 22 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں، اس کے علاوہ بھارتی ریاستی دہشت گردی سے لاکھوں بچے یتیم بھی ہوئے۔ تین ماہ قبل بھارت کی انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے جموں و کشمیر اور لداخ کو زبردستی بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا۔اس کے بعد سے وادی میں اب تک کرفیو نافذ ہے، ٹیلیفون سروس اور انٹرنیٹ بند ہے جب کہ کھانے پینے اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ہم کشمیریوں کیساتھ کھڑے ہیں:صدر مملکت صدر مملکت عارف علوی نے یوم سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا

مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ اٹھاتے رہیں گے اور ہم کشمیریوں کیساتھ کھڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری دنیا میں کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتا ہے مقبوضہ کشمیر میں جونہی کرفیو اٹھیگا تو کشمیری پھر سے اپنے جذبات کی عکاسی کریں گے۔پاکستان حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی، سفارتی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم عمران خان۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پیغام دیا کہ 27اکتوبر1947کو بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئیکشمیرپرقبضہ کیا۔ 5 اگست 2019 سے بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کئی گُنا اضافہ ہوا۔پاکستان کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر

کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوگیا ہے، وہاں ادویات اور اشیائے خورد نوش کی شدیدقلت ہے، ہزاروں افراد جابرانہ حراست میں لیے گئے، ہزاروں نوجوانوں کو اغواء کر کے نامعلوم مقام پر قیدکیا گیا جب کہ قید اور اغواء کیے گئے افراد کے ساتھ غیر انسانی اور تضحیک آمیز سلوک کیاجارہاہے۔وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب، کشمیر میں مظالم اور بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیابھارتی جارحیت کو واضح کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشتگردی آج پہلے سے کہیں زیادہ سفاکانہ رخ اختیار کرگئی ہے جس سے نام نہاد” بڑی جمیوریت” ہونے کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور بھارتی غیر قانونی، یکطرفہ اقدامات کی منسوخی کا مطالبہ کرتاہے لہذا

عالمی برادری مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کیاحترام اور آزادی کو یقینی بنائے۔کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں کشمیری بھائیوں، بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی، سفارتی حمایت جاری رکھیں گے ۔ عملی مدد کے بغیر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا ایسا ہی جیسے ہم ان کی موت کے منتظر ہیں .افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کی اگر ورق گردانی کی جائے تو کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی ظالموں جابروں منافقوں نے معصوم نہتے لوگوں کو حقوق دینا درکنار بے بسوں کی آواز پر دھیان دیا ہو؟ ہم اپنے

کشمیری بھائیوں کے ساتھ گزشتہ 72 سالوں سے کھڑے ہیں زبانی کلامی مدد کرتے ہیں مگر عملی طور پر تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔حالانکہ جس محسنِ انسانیت فخرالانبیاء نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا کلمہ پڑتے ہیں ۔آپ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے کیا ہمارا جسم کا ایک حصہ کاٹا جا رہا ہو تو ہم سکون سے زندہ رہ سکتے ہیں؟شہ رگ کاٹی جا رہی ہو اور ہم پرسکون رہ سکتے ہیں ؟ نہیں یقینا نہیں ۔تو پھر کیا بات ہے کشمیر کے معاملے میں ہم زندہ اور پرسکون کیوں ہے؟اگر دنیا اور آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں تو ہم کو بتانا ہوگا کہ ہم زندہ ہے اگر ہم کشمیری بھائیوں کے لئے حکومتی سطح پر اعلانِ جہاد کریں تو ایک گھنٹہ میں کرفیو اٹھا لیا جائے گا اور اگر جہا د کریں تو صرف

تین دن میں کشمیر آزاد ہو جائے گا انشااللہ یہ خواب نہیں ایک حقیقت ہے کہ ہم وہ قوم ہے جو ایٹمی اور ایمانی قوم ہے۔