کاش سبھی نواز شریف ہوتے۔۔۔ تحریر: روہیل اکبر

شریف شہریوں کو چور ،ڈاکو اور قاتل بنانے والی پولیس ہر بار بچ جاتی ہے اگر نہیں یقین تو بینظیر بھٹو پارک میں نوجوان سرفرازکے قاتل پولیس والے بری ہوکردندنا رہے ہیں صلاح الدین کو منہ چڑانے پر وحشیوں نے مار مار کر مار دیا اور پھر جلاد نما پولیس ملازمین بچ نکلے ،ماڈل ٹائون میں 14بے گناہ افراد کو دن دیہاڑے گولیوںسے بھون دیا گیا انکے قاتل آج بھی حکومتی چھتری کے نیچے سکون کی نیند سو رہے ہیں ،ساہیوال کے قریب گاڑی میں سفر کرتی ہوئی ایک نہتی فیملی پر پولیس وردی میں ملبوس قاتلوں نے ننے منے معصوم بچوں کے سامنے گولیوں کی بارش کردی جس پر کمیٹی بنی جنہوں نے مقتول خلیل کی فیملی کو بے گناہ قرار دیکر پولیس کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیدیا اور جب اس کیس کا فیصلہ آیا تو پولیس والے

قاتل پھر بچ گئے یہ وہ تازہ تازہ واقعات ہیں جو ہمیں ابھی تک یاد ہیں اگر اس پہلے کے واقعات بھی لکھنے شروع کردوں تو پھر باقی کی سب باتیں رہ جائیں گی مگر موقعہ کی مناسبت سے اتنا ضرور لکھوں گا پولیس کو اتنی ڈھیل دیکر قاتل ،غنڈے اور دہشت گرد بنانے والے کوئی اور نہیں ہمارے اپنے سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لیے پولیس کو استعمال کیا اگر نہیں یقین تو عابد باکسر کے حلفیابیان پڑھ لیں جس میں وہ قسمیں اٹھا اٹھا کر شہباز شریف کو انسانیت کا قاتل قرار دے رہا ہے جی وہی شہباز شریف جو اپنے آپ کو خادم اعلی کہلاتا تھا جس نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ملکر نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا انہی کے حکم پر بھرتی ہونے والے پولیس سمیت دوسرے تمام محکموں کے ملازمین جو ترقیاں کرتے کرتے اب اہم عہدوں پر پہنچ گئے ہیں وہ کسی بھی صورت اپنی آجارہ داری ختم نہیں ہونے دے رہے پولیس کی سرپرستی کرنے والے کچھ سیاستدان آج اپنے انجام کے قریب ہیں تو کچھ جلد پکڑ میں آجائیں گے ابھی کل کی بات ہے ایک سزا یافتہ مجرم کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال لایا گیا اسے وہاں کیا کیا سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اسکا تذکرہ بعد میں مگر پہلے صرف اتنا لکھنا چاہوں گا کہ جو لوگ انہیں اپنا ووٹ دیکر عزت کے اس اعلی مقام تک پہنچاتے ہیں جہاں وہ پورے ملک کے مالک بن جاتے ہیں مگر انکا ووٹر اور ورکر آج بھی سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک بیڈ پر دو اور مریضوں کے ساتھ لیٹا ہوا ہے جسے ایک ٹیسٹ کے لیے کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے اور جسے 50روپے کی دوائی کے لیے کئی جگہوں سے بے عزت ہونا پڑتا ہے مگر ایک مجرم قیدی کے لیے میڈیکل بورڈ بنا دیا جاتا

ے جومجموعی طور 18 سے زائد سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل ہے اور دو شفٹوں میں کام کررہا ہے ویسے تو اتنے سینئر ڈاکٹرز 11 بجے سے قبل ہسپتال میں ڈیوٹی کیلئے نہیں پہنچتے، ہسپتال آنے کے بعد پھر دو گھنٹے تک اپنے کمرے میں بند کافی چائے اور کولیگز سے خوش گپیوں میں مشغول رہتے ہیں لیکن نوازشریف کیلئے بنائے گئے بورڈ میں شامل ڈاکٹرز صبح 8 بجے ہسپتال پہنچتے ہیں، ساڑھے 8 بجے ان کی آپس میں میٹنگ ہوتی ہے جس میں نوازشریف کی گزشتہ روز کی رپورٹس کا جائزہ لے کر اگلا لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا ہے پھر اس کے بعد ٹھیک 9 بجے نوازشریف کا پہلا معائنہ شروع ہوتا ہے جو 30 منٹ جاری رہتا ہے وہاں سے نوٹس وغیرہ لے کر میڈِکل بورڈ اپنے ماتحت ڈاکٹرز کو ہدایات جاری کردیتا ہے ٹھیک 11 بجے یہ بورڈ

دوسرا معائنہ کرتا ہے اور 9 بجے کے معائنے کے بعد جاری کی گئی ہدایات کی پراگریس کا جائزہ لیتا ہے پھر میاں صاحب کو لنچ کیلئے وقفہ دیا جاتا ہے، اس دوران وہ اپنی جماعت کے لیڈران اور اتحادیوں سے سیاسی لائحہ عمل وغیرہ بھی ڈسکس کرلیتے ہیں، آلو قیمہ اور بریانی وغیرہ بھی چکھ لیتے ہیں، چائے شائے اور بسکٹ شسکٹ بھی معدے میں اتار لیتے ہیں پھر تین سے چار بجے تک میاں صاحب سنت نبوی ﷺ کے مطابق قیلولہ فرماتے ہیں تاہم میڈیکل بورڈ مسلسل کام کررہا ہوتا ہے، وہ میاں صاحب کی رپورٹس کی روشنی میں اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین علاج کا تعین کرنے میں مشغول رہتا ہے پھر ٹھیک چار بجے میڈیکل بورڈ میاں صاحب کا تیسرا معائنہ کرتا ہے جو کہ 30 منٹ جاری رہتا ہے۔پانچ

سے ساڑھے پانچ بجے کے درمیان میاں صاحب کو واک کروائی جاتی ہے۔ساڑھے سات بجے میاں صاحب کا ڈنر کا وقت ہوتا ہے جس میں ان کی فیملی کے اراکین اور قریبی دوست بھی شریک ہوتے ہیں۔رات ساڑھے آٹھ بجے میاں صاحب کا دن کا چوتھا اور فائنل معائنہ کیا جاتا ہے اس کے بعد میاں صاحب کو آرام وغیرہ درکار ہوتا ہے وگرنہ میڈیکل بورڈ تو رات 11 بجے بھی معائنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہوتا۔یہ ہیں وہ سہولیات جو نوازشریف کو پاکستان کے ایک سرکاری ہسپتال میں فراہم کی جارہی ہیں۔ اگریہ تمام معلومات ہمارے اینکر ز حضرات اپنے اپنے شو میں عوام تک پہنچادیں تو امید ہے کہ مہذب دنیا کے لوگ ہم پر حیرت کا اظہار ضرور کرینگے کہ ہمارے سرکاری ہسپتال میں کرپشن کے جرم میں سزا یافتہ شخص کو بھی ایسی سہولیات

میسر ہیں تو یقین مانیں کہ وہ بھی اپنے علاج معالجہ کے لیے پاکستان کا رخ ضرور کرینگے لیکن اگر انہیں یہ پتا چل جائے کہ یہ سہولیات صرف نوازشریف اور زرداری جیسے قومی مجرمان کو ہی ملتی ہیں، عام عوام کیلئے میڈیکل بورڈ تو دور، سپیشلسٹ ڈاکٹر تو درکنار، ینگ ڈاکٹر یا کمپاوئڈر تک نہیں دستیاب ہوتا۔ ایک غریب مریض کی خواری تو ہسپتال کے دروازے سے ہی شروع ہوجاتی ہے جہاں کھڑا چوکیدار اسے دھتکارنا شروع کردیتا ہے پھر کائونٹر پر بیٹھا پرچی دینے والا کلرک اس مریض کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جیسے وہ اس مریض پر احسان کررہا ہو اندر وارڈ میں جاتے جاتے ہسپتال کی نرس اس مریض کی ماں بہن ایک کردیتی ہے اور پھر جب بھی کوئی پولیس تشدد یا ڈاکٹروں کے بے رحمی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے تو پھر اسے لاوارثوں کی طرح کھلے آسمان تلے رکھ دیا جاتا ہے جبکہ قومی مجرموں کو پولیس بھی ہاتھ نہیں لگاتی اور ڈاکٹرز بھی پورا دھیان دیتے ہیں کاش ہمارے ملک میں سبھی نواز شریف ہوتے تاکہ سکون سے زندہ رہتے اور اطمینان سے مرجاتے۔