ضمیر کا قیدی نوازشریف ۔۔۔ تحریر: رائو عمران سلیمان

میاں نوازشریف 1990سے1993اور 1997سے لیکر 1999اور2013 سے لیکر2017تک تین بار اس ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں ان تینوں ادوار میں انہیں عوام نے ہی منتخب کیا ۔ممکن ہے کہ ان کو پہلی بار کے وزیراعظم کے عہدے سے لیکر تیسری بار تک میں کسی اور قوت نے وزیراعظم بنایاہومگر سوال صرف ایک ہے کہ اگر عوام نے انہیں منتخب کیاہے تو کیااس ملک کی عوام اس قدر بے وقوف ہے کہ انہیں اپنے اچھے اور برے کی تمیزنہیں ہے؟ یاپھر اس ملک میں ایک بھی مومن آدمی نہیں ہے جوباربار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جارہا ہے دوسری جانب وہ قوت جو انہیں اقتدار میں لے کر آئی ہو ؟ کیونکہ میاں نوازشریف پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار ہیں مگر اس کا جواب تو بہت آسان ہے وہ یہ کہ کون ہے

جواس ملک میں بغیر اسٹینلشمنٹ کی سپورٹ کے اس عہدے تک پہنچاہو ۔یعنی موجودہ وزیراعظم عمران خان ؟ اس کا جواب تو پھر عمران خان ہی بہتر انداز میں دے سکتے ہیں ۔جہاں تک کرپشن کی بات ہے تو زرا س پر بھی بات کرلیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نوازشریف کے والد میاں شریف ایک دولت مند صنعتکار ہونے کے ساتھ خاندانی رئیس آدمی تھے قیام پاکستان سے کئی سال قبل میاں شریف کی دولت ان لوگوں میں صف اول تھی جو معاشرے میں دھن دولت کے لحاظ سے امیر اور سرمایہ دار گھرانے کہلاتے تھے میاں نوازشریف کے والد کا اسٹیل کا کاروبارتھا جسے بہت عروج حاصل تھا اور ایک منافع بخش کاروبار ہونے کی وجہ سے شریف فیملی کا نام قیام پاکستان سے قبل ہی بہت مشہور ہوچکاتھا 25دسمبر1949کو لاہور میں پیدا ہونے والے نواز شریف کو خاندان میں سب سے بڑے بیٹا ہونے کا اعزاز حاصل تھا،یعنی اس قدر دولت مند گھرانے میں آنکھ کھولنے والے کسی بھی شخص کو یہ شوق تو ہوسکتاہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں اسے سلام کریں اسے اپنا لیڈر تسلیم کریں مگر یہ لالچ نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے لیے دولت کے انبار لگائے یا پھر قومی خزانے کو نقصان پہنچائے کیونکہ جدی پشتی رئیس ہونے کے بعد کم ازکم یہ حرص توکسی انسان میں باقی نہیں رہ جاتی دوسری جانب اس بات کو تسلیم کیا جاسکتاہے کہ وہ کم عقل ہو، یا پھر انکے فیصلے ملکی مفاد میں نہ ہو یا پھر وہ غریبوں کے ہمدرد نہ ہو یا پھر وہ عیاش ہو۔ مگر کسی خاندانی رئیس پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ شخص چور ہو اور لٹیرا ہو۔اس پر بات کرنے کے لیے پہلے ہم چلتے ہیں کہ انہیں کیوں اور کس وجہ اپنی حکومتوں سے ہاتھ دھونا پڑیں تاکہ معلوم ہوسکے وہ چور ہیں بھی

یا نہیں؟ ۔نوازشریف نے اپنی سیاست کا آغاز1976میں کیا ، سیاسی نشیب وفراز کو عبور کرتے ہوئے نوازشریف1991 میں پہلی بار اس ملک کے وزیراعظم بنے لیکن اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان سے ان کی نہ نبھ سکی غلام اسحاق خان نے اپریل 1993 میں قومی اسمبلی کو تحلیل کردیامگر ایک مہینے کے بعد ہی نوازشریف دوبارہ اقتدرا میں واپس آگئے تھے کیونکہ اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے قومی اسمبلی کوتحلیل کرنے کا صدارتی حکم غیر آئینی قراردیدیا تھا۔ان تمام باتوں میں نوازشریف کے جانے کا مسئلہ صرف اور صرف اختیارات کی جنگ تھی اس واقعہ میں یہ کہیں نہیں آیا کہ انہوں نے اپنی زات کے لیے مال بنایا ہو مگر اس میں یہ بات شرط نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کے لوگوںنے بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھویں ہو یعنی ان

کے وزرا کی کرپشن ایک الگ معاملہ ہے ،نوازشریف پر ایون فیلڈ کے اثاثے ،حدیبیہ ،شریف ٹرسٹ ،ایف آئی میں غیر قانونی بھرتیوں سے لیکر بے شمار کیسوں میں انکوائریاں بٹھائی جاتی رہے جن میں سے کچھ کیسز کو جواز بناکر انہیں جیل میں ڈالا جاتارہاہے مگر اسی ملک کی عدالتیں ماضی میں ان کو ان تمام معاملات میں بے گناہ بھی قراردیتی رہی ہیں ، نواز شریف کی دوسری حکومت میں طیار ہ ہائی جیکنگ کیس میںمیں احتساب عدالت نے بائیس جولائی دوہزار کو نوازشریف کو جب چودہ سال قید اور دوکروڑ روپے جرمانے اوراکیس سال تک انہیں سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے کی سزا سنائی اس سزاکو سنانے والے جج کانام رحمت حسین جعفری تھا نوازشریف پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے پرویز مشرف سمیت ایک سو اٹھانوے

مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، اس سزا میں بھی کوئی ایک لفظ کرپشن کا نہیں تھا یعنی وہ ہی اختیارات کی جنگ والا معاملہ اور میں نہ مانو کی سیاست۔اس سزا کے چلنے کے بعد سعودی اینٹلی جنس کے چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیزاور لبنان کے سیاستدان سعد الحریری نے پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد ایک دس سالہ معاہدے کا اعلان کیا۔ لہذا س وقت کے صدر رفیق تارڈ نے معافی نامے کی درخواست پر دستخط کیئے اور نوازشریف تقریباً چودہ مہینے جیل میں رہنے کے بعد اپنے خاندان کے افراد کو لیکر سعودی عرب روانہ ہوگئے ۔کئی سال کی جلاوطنی کے بعد اگست 2007میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ نوازشریف اور ان کے بھائی شہباز شریف اب پاکستان آنے کے لیے آزاد ہیں مگرریاست کے تگڑے ستونوں

نے انہیں ایک پل بھی چین سے نہ رہنے دیا،سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اگلے ہی مہینے میاں نوازشریف جلاوطنی کو خیر آباد کہہ کر اسلام آباد پہنچ گئے مگر انہیں طیارے سے نہ اترنے دیا گیااس کشمکش کے بعد ان کا طیارہ واپس جدہ چلا گیا،نوازشریف جان چکے تھے ان کا سیاسی حریف ان سے خوفزدہ ہے انہوں نے ہار نہ مانی اور دوبارہ ملکی سیاست میں اپنا کرداراداکرنے کے لیے پاکستان میں پہنچ گئے ۔کچھ عرصے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں انتخابات لڑنے کی اجازت بھی مل گئی،اسی طیارہ سازش کیس میں کہیں ان پر چور ہونے کا دھبہ نہ لگ سکا اور انہوں نے عدالتوں میں ثابت کیا کہ انہوں نے کہیں ناجائز زرائع سے دولت بنائی ہو۔ نوازشریف جس نے آنکھ ہی دولت کے انباروں پر کھولی تھی اس کی ڈکشنری میں دولت نام کی کوئی چیز نہ تھی،اب باری آجاتی ہے ایک ایسی حکومت کی جس کا اقتدار عوام نے انہیں تیسری بار بھی بھرپور ووٹوں کے ساتھ دیا یعنی مئی 2013 کے انتخابات میں نوازشریف کو عوام کی جانب سے بھرپور اور تاریخی پزیرائی ملی مگر پھر وہ ہی رکاوٹیں مگر اس بار انہیں ایک ایسے الزام کا سامنا تھا جس کا کوئی سرپیر آج تک ان پر ثابت نہ ہوسکاہے ان کی حکومت کے شروع ہوتے ہی ان پر پانامہ کیس کا ایک الزام لگا جس کو لیکر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور طاہرالقادری صاحب نے ملکر ان کے خلاف ایک تحریک چلائی اور ایک دن بھی سکھ کا نصیب نہ ہونے دیا، ان کو تیسری بار کی حکومت میں پانامہ کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے 28 جولائی 2017کو نااہل کردیا گیا مگر جس الزام پر انہیں نااہل کیا گیا تھا وہ الزام تو آج تک ان پر ثابت نہ ہوسکا اس ساری کہانی میں ایک لفظ بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ اپنے تینوں اداور میںنوازشریف نے اس ملک کے لیے اچھے فیصلے کیئے یا نہیں ،یقینی طورپر ان کا انداز شاہانہ تھا کیونکہ وہ خاندانی رئیس آدمی تھایقینی طوپر ان کے فیصلوںمیں کچھ باتیں سمجھ سے بالاتر ہو نگی۔ یقینی طورپروہ دوستوں کو نوازنے والا آدمی تھا مگر اس کے باجود عوام اس کے دور میں خوشحال تھی اس ملک کامزدوراور دیہاڑی دار خوش تھا۔ نوازشریف کی سیاست کے اس نشیب وفراز کے بعد ایسا ضرور لگتاہے کہ نوازشریف کہیںچوتھی بار پھر اس ملک کا وزیراعظم نہ بن جائے اور جو حال اس وقت عوام کا ہے اس میں یہ تو بات پکی ہے کہ عوام عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ میں اس وقت غریبوں کو بھوک سے مرتا ہوا دیکھ رہاہوں حالانکہ بقول موجودہ حکومت کہ “چور رتو نوازشریف ہے” عمران خان تو نہیں اس کے باوجود بھی نوازشریف ہی کیوں ؟ اس کا فیصلہ تو اب عوام نے ہی کرنا ہے ۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔