مہروں کی چال! کس کو ہو گی مات۔۔۔ تحریر:ملک شفقت اللہ

انسانی دماغ نے جس طرح ترقی کی اور دنیا گلوبل ویلج کہلائی وہیں یہاں مادیت اور مفادات کی جنگ نے ہر سو آگ لگا رکھی ہے۔دنیا بھر کے اسلامی اور اس کے دوست ممالک کو تباہ کرنے کیلئے نت نئی سازشیں رچائی جا رہی ہیں۔ دشمن بہت اچھے سے جانتا ہے کہ یہ لوگ جذباتی ہیں ، جذباتیت اور عقیدت والی نبض کو پکڑنے سے پھڑپھڑانے لگتے ہیں ۔جوپوری دنیا کیلئے نیک شگون نہیں ۔اگر کوئی یہ سوچے کہ اس ساری دنیا و کائنات پر صرف اسی کا حق ہے تو وہ یہ نہ بھولے کہ اس ساری کائنات کو بنانے والی اور اس نظام کو چلانے والی ذات بھی موجود ہے جسے تکبر پسند نہیں ۔ اس وقت یہودیوں کی صرف ایک ہی سوچ ہے اور وہ یہ کہ ساری دنیا پر انہی کا راج ہو، جو لوگ ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کریں وہ جئیں

اور جو انکار کریں انہیں ختم کر دیا جائے۔پوری دنیاکو اگر ہم شطرنج پر رکھیں تو ایک طرف یہودیوں کا بادشاہ ہے تو دوسری طرف کا بادشاہ اس کا مہرہ ہے۔سارے گھوڑے اور توپیں اسی کے ساتھ ہیں ، بس دکھنے میں ایک گیم ہے جس فسانے میں دنیا الجھی ہے اور گھوڑے ، توپیں اپنا کام دکھا رہے ہیں۔اس گیم کا ایک گھوڑا روس ہے ، دوسرا امریکہ ، تیسرا سعودی عرب ہے جس نے بادشا ہ سے گھوڑے کی جانب تنزلی پائی ہے اور وہاں کے حالات بھی دگر گوں ہیں۔ شاہ فیصل کے قتل سے لے کر آل سعود کو تخت عرب پر بٹھانے تک صیہونیت کا ہاتھ رہا ہے، آخر کب تلک کوئی ان کے سامنے جھکا رہے، اگر بات مفادات کی ہے تو اپنے بھی ان مفادات کی خاطر آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ جیسے محمد بن سلمان کے خلاف بغاوتیں جنم لے چکی ہیں اور وہ کھل کر صیہونیت کی انگلیوں پر ناچ رہے ہیں، حالانکہ محمد بن سلمان جانتے ہیں کہ اسرائیل مکہ کی سرحدوں تک کی سلطنت کا دعویدار ہے ۔ عراق کے حالات بھی الگ نہیں ، وہاں کے صدر کا انتخابی منشور تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد اہل تشیع کو عراق سے نکال کر واپس ایران بھیجیں گے ، حالانکہ یہ مطالبہ تو اسرائیل کا تھا کیونکہ اسے بیروت میں ایران بیٹھا بہت چبھ رہا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست نہیں لڑ سکتا، جس کی اپنی فوج اور تیل کے کنویں ہیں۔ برہم صالح جو منظور نظر ہے صیہونیت کا ، اہل تشیع کو نکالنے لگا تو وہاں مظاہرے شروع ہوگئے ۔یہ مظاہرے عراق کو آگ میں جلائے رکھنے کیلئے کافی ہیں اور یوں عراق مکمل طور پرایران کے ہاتھ میںجاتا رہے گا۔شام کی مدد کیلئے ترکی اپنی افواج بھیج چکا ہے ، لیکن حالات جوں کے توں خراب ہیں کیونکہ بشارالاسد کو شامی

عوام پسند نہیں کر تی کہ وہ صیہونیت کا مہرہ ہے۔بھا رت ، عرب امارات اور سعودیہ عرب صیہونیت کی بالادستی قائم کر کے اس میں اپنا حصہ چاہتے ہیں اور انہی کی مدد سے اپنے دشمنوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، پھر چاہے وہ مذہبی منافرت ہو یا مفادات کی۔ چین اور روس ان عالمی طاقتوں کو خوش کر کے خود کو امریکہ کی جگہ دیکھنا چاہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بھارتی سرکار انڈیا کو اکھنڈ ہندو بھارت بنانے کی کوششیں کر رہا ہے، چین کے ہانگ کانگ میں پرتشدد احتجاج ہو رہے ہیں ۔ یہ سارے فسادات امریکہ کی بالادستی چاہنے والوں کے ہیں، اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ کس کی بالادستی کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ پاکستان کو بھی ایک مکمل سازش کے تحت اپنے مہروں کے ذریعے پہلے داخلی سطح پر کھوکھلا

کیا گیا اور پھر اس کی سرحدوں پر حملہ کر دیا ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آتے ہی بہت سی ایسی چال بازیاں سامنے آئی ہیں جنہیں ہمیشہ سے عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھا جا تا رہا ہے۔ چاہے وہ ایم کیو ایم کا فساد ہو، بلوچ لبریشن آرمی کا بلوچستان پر حق کا نعرہ ہو، پی ٹی ایم کی شکل میںصیہونی لابی کے پیادے ہوں یا سیاسی و مذہبی لبادے میں ڈھکی امریکہ کی توپیں ہوںاس وقت ایک ہی ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں ، اور وہ یہ کہ پاکستان کو سہارا دینے والے اور اس کی حفاظت کرنے والے وزیرومشیروں کا خاتمہ ۔ جب ان بادشاہوں نے دیکھا کہ ان کے پیادے چاہے وہ بی ایل اے کی شکل میں تھے، ایم کیو ایم کی شکل میں یا پی ٹی ایم کی شکل میں پٹ چکے ہیں تو انہوں نے اس

جذباتیت اور عقیدت مندی والی نبض کو پکڑا جس سے مسلمان پھڑپھڑانے لگتا ہے۔ ایک تجربہ خادم رضوی کی صورت میں کیا، لیکن ابھی تو خادم رضوی میرے پسندیدہ مقررین میں شمار ہو چکے ہیں ، میں آغاز کی بات کر رہا ہوں۔جلائو گھیرائو اور مولانا سمیع الحق کی شہادت میں انہیں کامیابی ملی تو اب وہ بھرپور طریقے سے مولانا فضل الرحمٰن کو مہرہ بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔ مولانا کے جتنے بھی انٹرویو دیکھے ان میں یہ بات تو ظاہر ہو چکی ہے کہ نہ تو الیکشن میں دھاندلی والا ایجنڈا ہے ،نہ ناموس رسالت والااور نہ ہی یہودی والا، یہ ایجنڈا صرف اسلام آباد ہے اور شطرنج کے بادشاہوں کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ ان کی جماعت کے عہدیدار حافظ حمد اللہ کہتے ہیں کہ ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والا مارچ جہاں جہاں سے

نکلے گا ان علاقوں کے تھانوں کو بھی مدرسوں میں بدل دیں گے اور وہاں سے اذانوں کی صدائیں بلند ہوں گی، یہ بات من کو بھاتی ہے لیکن ان کی حکومت میں کتنا اسلام پر عمل پیرا ہوا جا رہا ہے؟گمان یہ بھی غالب ہے کہ یہ کوئی داخلی جنگ چھیڑنے کی تیاری کی جا رہی ہے کیونکہ خود فضل الرحمٰن کہہ چکے ہیں کہ ہر طرف آگ لگا دیں گے ۔فضل الرحمٰن آزادی مارچ کا نعرہ لگا رہے ہیں اور وہ بھی ستائیس اکتوبر کو کہ جب کشمیر پر دشمن نے قبضہ کیا تھا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا مگر اب اس پراپیگنڈا کو سنبھالنا پڑے گا۔مولانا پر میری یہ باتیں الزام نہیں سمجھی جائیں بلکہ ذرا اس طرف بھی توجہ دی جائے کہ مان لیتے ہیں آزادی مارچ اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے نام پر

مولانا نے پانچ ،پانچ سو روپے فنڈ لیا ہو ، مگر پھر بھی دو بلٹ پروف کنٹینر اور اتنے مدرسوں کے بچوں کیلئے خوراک، پانی وغیرہ کا انتظام کیسے کریں گے؟ اس کے اخراجات کون اٹھا رہا ہے؟ مولانا کے دھرنے کو یقینی طور پر فنڈنگ مخالف لابی ہی کر رہی ہے۔ مولانا جو کارڈ کھیل کر اسلام آباد کیلئے مشکلات پیدا کرنے اور دوبارہ اٹھنے والی معیشت کو زمین بوس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس صورتحال سے پاکستان اور پاکستانی عوام کا تو کوئی فائدہ نہیں لیکن دشمن ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ بھارتی اجیت دوول کا بیان مولانا فضل الرحمٰن کو سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ’’ پاکستان اب اپنی سرحدوں کے اندر ہی جنگ کرے گا‘‘۔