استاد بہت بڑی نعمت۔۔۔ تحریر:حافظ امیر حمزہ

ہم دنیاوی اعتبار سے کوئی بھی چیز دیکھتے ہیں ، دیکھنے کے بعد اس چیز کے بنانے والے (یعنی کارگر) کی طرف دھیان جاتا ہے جس سے بنانے والے کی قدرو منزلت کا اندازہ ہو جاتا ہے ، اسی طرح ہم اپنے معاشرے میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز اپنے ہی جیسے مرد و خواتین کو دیکھتے ہیں ایسے ہی ہنر مند افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ ترقی کی منازل کو طے کرتے ہوئے عروج پر پہنچ جاتے ہیں ۔ ان سب عہدوں اور ہنر مندوں کے پیچھے ایک بہت بڑی ہستی موجود ہے جسے استاد کہتے ہیں۔اساتذ ہ کرام کی عزت اور ادب و احترام کے بارے میں امیر المومنین شیر خدا سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قول ہے فرماتے ہیں ’’ جس سے میں نے ایک حرف بھی سیکھ لیا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا ، وہ میرا محسن ہے‘‘۔

رب ا لعزت نے اپنی پیاری لاریب کتاب قرآن مجید میں پیغمبر انسانیت ، معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے فرمایا ’’ اے ایمان والو!تم اپنی آواز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچا مت ہونے دو اور آپ ﷺ سے اونچی آواز میں بات نہ کرو، جیسے تم ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو، کہیںتمہارے عمل برباد نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر تک نہ ہو ‘‘۔ (الحجرات:2 )شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کے بارے میںتفہیمات میںلکھتے ہیںاپنے استاد کی آواز سے اپنی آواز اونچا کرنا صریحاً ناشائستگی ہے۔استاد محترم کے احترام کی ایک عظیم مثال دیکھئے ایک مرتبہ شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے استاد سید احمد شہیدرحمہ اللہ نے اپنے شیخ استاد محترم شاہ عبد العزیزرحمہ اللہ کے انتقال کی خبر کی تصدیق کے لیے اپنا ذاتی گھوڑا شاہ اسماعیل شہیدرحمہ اللہ کودے کر دہلی بھیجا کہ کیا واقعی ان کے استاد شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ انتقال کر گئے ہیں ، شاہ اسماعیل شہید سارے راستے گھوڑے کی باگیںتھامے ہوئے پیدل ہی چلتے رہے اور گھوڑے کی اس زین پر بیٹھنے کی ہمت نہ کی جس پر ان کے استاد بیٹھا کرتے تھے۔ انہی شاہ اسماعیل شہیدرحمہ اللہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے استاد محترم کی موجودگی میں تقریر نہ کرتے تھے بلکہ خاموش بیٹھے رہتے کہ میرے استاد بیٹھے ہیں ان کے ہوتے ہوئے میں کیا کہوں ۔امام حمادبن سلیمان رحمہ اللہ اپنے عہد کے بڑے محبوب اساتذہ میںسے تھے۔ان کے ایک شاگرامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہیں،ان کاگھر استاد کے گھر سے سات گلیوں کے فاصلے پرتھا ،لیکن شاگرد کاادب واحترام دیکھیے کہ اپنے استادمحترم کے گھر کی جانب کبھی پائوںکر کے نہ سوتے کہ کہیں استادمحترم کی توہین نہ

ہوجائے اسی طرح اگر بعض اوقات دوران درس و تدریس کبھی استاد محترم کا بیٹا آجاتا توامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ احترام میں کھڑے ہوجاتے۔ اساتذہ کرام،خواہ وہ دینی علوم سے آراستہ کرنے والے ہوںیامختلف علوم وفنون سے آشناکرنے والے ہوں،سبھی ادب واحترام کے لائق ہیں۔دینی اور عصری علوم دونوں کی انسان کوضروت رہتی ہے۔اس لیے ان علوم وفنون سے آشناکرنے والے اساتذہ کرام کاادب واحترام کرنابے حدضروی ہے۔اساتذہ کرام اپنے علم اور تجربے سے ایسے ایسے گر سکھا دیتے ہیںاور وہ کچھ پڑھا اورسمجھادیتے ہیں کہ اگرخودانسان وہ سفر طے کرنے لگے تو اس کی زندگی کاکافی حصہ بیت جائے۔ آج انسانیت جہاں کھڑی ہے وہ پہلے اساتذہ کی راہنمائی اور ان کے تجربات اور ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں پہنچی ہے۔اساتذہ

کرام سے ادب واحترام کی ایک جھلک حدیث نبوی ﷺسے بھی ملاحظہ فرمائیں۔ایک مرتبہ امام الانبیاءﷺکے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے،انتہائی صاف ستھرے لباس میں ملبوس ہوکر اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام ایک انسان کے روپ میں تھے ۔آپ کے سامنے ادب واحترام سے دوزانو ہو کر بیٹھ گئے اور آپﷺسے ایمان ،اسلام اور احسان کی بابت سوالات کرنا شروع کردیے ۔۔۔۔۔گویا کہ حضرت جبریل علیہ السلام ایک شاگرد کی حیثیت سے آپﷺ کے پاس آئے اور ہمیں سمجھا گئے کہ جس سے علم حاصل کیا جائے اس کے سامنے ادب واحترام سے بیٹھا جاتا ہے۔اساتذہ کرام کے احترام ومقام پر ایک عربی شاعربڑے اچھے اندازسے نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے:جب کوئی شخصیت تمہیں علمی فائدہ پہنچائے تو اس کے ہمیشہ

شکر گزاررہو ،دعا مانگو کہ اے اللہ فلاں شخصیت کو جزائے خیر دے کہ انھوں نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے اور فخر وحسدکو اپنے آپ سے بالکل نکال دو۔دراصل یہی احساس اساتذہ کے ادب واحترام پر ابھارتا ہے اور اگر علم بہت بڑی دولت ہے تواس علم سے آشنا کرانے والے اساتذہ کرام بھی بہت بڑی نعمت ہیں۔