مذہب کے نام پر سیاست کب تک ۔۔۔ تحریر: اسماء طارق

میں نے یہ سوال جب لوگوں سے پوچھا تو جواب کچھ اس طرح سے آئے، کوئی کہنے لگا جب تک بھٹو زندہ ہے،تو کوئی کہنے لگا جب تا جان ہے، تو کسی نے کہا تا قیامت مگر ان سب میں ایک حضرت نے کہا کہ جب تک عوام ان سیاستدانوں کے ہاتھوں بےوقوف بنتی رہے گی۔جی ہاں یہی بات ہے کیوں کہ یہ سیاست دان جانتے ہیں کہ مذہب ہمارا کمزور نکتہ ہے اس پر وار کرنے والے تو ہم چھوڑیں گے نہیں ۔ اسی لئے تو جب کسی کو اپنا کوئی مقصد پورا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تو وہ بیچ میں مذہب کو لے آتا ہے اور ہمیں مذہب کے نام پر جھنجھوڑنا شروع کر دیتا ہے ۔ن لیگ کی بات کر لیجیے نواز شریف کو سزا ہوئی کرپشن کی وجہ سے، وہ اپنی بےگناہی ثابت نہیں کر پائے تو اس میں ہمارا عوام کا کیا قصور ہے لیکن نہیں جی

نیچے سے لے کر اوپر تک ساری ن لیگ محترمہ مریم کی قیادت میں یہ باور کرانے کی کوشش میں رہی کہ یہ نواز شریف کی گرفتاری نہیں ہے یہ دراصل پاکستان اور اسلام کے خلاف سازش ہے ۔ سبحان اللہ جی ایک بندہ ایک ملک پر تین دفعہ حکومت کرتا ہے خوب طاقت استعمال کی گئی مگر کرنے کے وہ کام نہیں کیے گئے جس کی اس عوام اور ملک کو ضرورت تھی ۔ نہ کوئی کالج یونیورسٹی بنائی اور نہ کوئی ہسپتال، اچھا ہے نہ نا یہ قوم پڑھے گی نہ شعور آئے اور نہ ان کے خلاف کھڑی ہوگئی ۔ ہسپتال بنے گے نہیں باقی رہی سہی عوام بیماریوں سے لڑتے لڑتے مر جائے گی اور وہ ملک پر جس طرح چاہیں راج کریں۔ جس سوچ اور نظریہ کی مریم صاحبہ بات کرتی ہیں وہ یہ نظریہ اور سوچ ہے جو میں نے آپ کو اوپر بتایا ہے راج نظریہ ۔پھر اب جب مولانا فضل الرحمان کو اپنی دال کہیں بھی گلتی ہوئی دکھائی نہ دی تو وہ تحریک ناموس رسالت کو اندر لے آئے کہ اس پر آنچ نہیں آنے دیں گے ، بندہ پوچھے مولانا جی گل کتھوں شروع ہوئی سی اور تسی کتھے لے آئے ہو خدا دا خوف کرو یہ تو وہی بات ہوئی سوال گندم جواب چنا ۔ چاہے آپ کو کرسی اور بات آپ مذہب بچانے کی کرتے ہیں، مذہب کو کچھ نہیں ہو رہا اور یہ عوام ہونے دے گی پر آپ لوگ اب بس کر دو اپنی سیاست کےلیے مذہب کو استعمال کرنا، اس سیاست کا مقصد ہم بھی جانتے ہیں اور آپ بھی جانتے ہو ۔اس طرح سے اب عوام کو سڑکوں پر لا کر ملک کو مزید تباہی بربادی کے حوالے نہ کریں آگے ہی آپ سب کے بے شمار احسان ہمارے کندھوں پر کسی پہاڑ کی صورت میں موجود ہیں جنکی بدولت ہمارے وہ بچے بھی لاکھوں کے مقروض ہیں جو ابھی اس دینا میں آئے بھی نہیں ۔ اپنے فائدے کےلیے

عوام کو استعمال کرنا بند کر دیں، سارا کچھ کریں آپ سیاست دان اور بعد میں نقصان اٹھائے یہ عوام، آپ جیلوں میں جائیں کرپشن کی وجہ سے اور پھر بھی مرغ مسلم نوش فرمائیں اور ہم سڑکوں پر دھکے کھائیں دو وقت کی روٹی کی خاطر اور وہ پھر بھی نہ ملے ۔ آپ کے بچے پلے بڑھیں امریکہ اور لندن میں اور ہمارے بچے رلتے رہیں یہاں سڑکوں پر نوکریوں کی حاظر جو ملتی پھر بھی نہیں ۔ آپ تو کروائیں گے لندن سے علاج ہم مریں یا جئیں آپ کو اس سے کیا۔ جب آپ سیاست دانوں کو عوام کی کوئی پروا ہی نہیں تو پھر کس لیے ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم آپ کی ایک آواز پر لبیک کہہ کر سڑکوں پر نکل کر توڑ پھوڑ کریں عوام اتنی بھی بےوقوف نہیں ۔یہ جو کرائے کے چند لوگ آپ سیاست دان ہر جگہ لے کر جاتے

ہیں انہیں عوام مت کہیں وہ تو شاید پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہیں آپ کے نعرے لگانے پر ۔بلاول بھائی آپ بھٹو لے لیں ہم سے اور سندھ کو پانی دے دیں مہربانی ہوگی، جیئے بھٹو عوام بےشک مرے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ حکومت کو بعد میں گرایئے گا پہلے سندھ پر توجہ دیں نہ تعلیم کا کوئی حال ہے نہ پانی نہ بجلی سائیں کا راج ہے ۔اب یہ جو عمران خان نے مہنگائی کی بجلی گرائی ہے ان کے بقول یہ بھی ان پہلے سیاست دانوں کی مہربانی ہے مگر انہیں اور ان کی ٹیم کو یہ بھی باور ہونا چاہیے کہ عوام نے انہیں اس لیے منتخب کیا تھا کہ وہ پہلے آقاؤں سے تنگ آ چکے تھے مگر یاد رکھیں کہ یہ عوام ہے اور اسے اپنا فیصلہ بدلنے میں دیر نہیں لگتی ۔عوام جی آپ بھی کوئی ہوش کے ناخن لیا کرو، حکمرانوں نے تب تک ہوش

نہیں کرنی جب تک آپ کو ہوش نہیں آنی ۔ آپ کو بھی اپنا آپ بدلنا ہوگا وگرنہ پھر ایسے ہی ہم ایک دوسرے کو روتے رہیں گے اور ہونا کچھ بھی نہیں ۔ جہاں عوام کو ان جعل ساز سیاست دانوں کے چنگل سے نکلنا ہے اور ان کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینا ہے ۔ بات تو اب وہی سنی اور مانی جائے گی جو سچی اور تحقیق پر مبنی ہوگی دوسری جانب اپنے آپ کو بھی سدھارنا ہے ۔ ہم بہت سی باتیں میں بحیثیت قوم ہی غلط ہیں ہم اپنے دماغ کو کھولتے نہیں ہیں کہ اسے تھوڑی ہوا لگے اور ہم کوئی درست کام کریں ۔اگست کا مہینہ ہے آزادی ہے، عید ہے بہت سی خوشیاں ایک ساتھ ہیں مگر کرنے کے کچھ کام یاد رکھیں درخت لگائیں، صفائی کا خیال کریں، اپنے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کا بھی خیال رکھیں سلوک سے رہیں اور ٹیکس بھی ضرور دیں ۔ پلے سے باندھ لیا نہ اب ان پر عمل بھی کرنا ہے اور خود کو بدلنا ہے تب ہی ہم ان کے چنگل سے نکل سکتے ہیں وگرنہ رونے کے سوا کوئی چار نہ ہوگا۔