حج تربیت بھی عبادت بھی۔۔۔ تحریر: زید حارث

اللہ کے گھر کا حج ایسی عبادت ہے جو ایک انسان کی کو عبادت کے ساتھ ساتھ تربیت کے بھی کئی ایک مواقع فراہم کرتا ہے۔انسان کی جسمانی و روحانی تربیت کا ایک خوبصورت موقع ہے۔(8).حج ایک مسلمان کو اس بات کا درس دیتا ہے کہ دین کے لئے اپنا گھر چھوڑنا اور اللہ کی رضا کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہہ دینا،اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنے رشتہ داروں کی جدائی برداشت کرنا زندگی کا ایک امتحان ہے۔ کچھ لوگ یہ سب کچھ دنیا کی زینت کو حاصل کرنے یا بڑھانے کے لیے کرتے ہیں اور بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ایسی کوئی بھی قربانی صرف اللہ کی رضا کے لیے پیش کرتے ہیں۔ابراہیم علیہ السلام

کا اپنی بیوی اور چھوٹے سے بچے کو بے آب و گیاہ زمین میں چھوڑ دینا اور پھر اللہ کا حکم تسلیم کرتے ہوئے ان کی جدائی کو برداشت کرنا ایک ایسا عظیم عمل تھا کہ جس کے بعد بیت اللہ کی تعمیر ہوئی۔ اسی توکل و یقین کا اعلی نمونہ پیش کرنے کے بعد ہی قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے زمزم جیسے مبارک پانی کا اجراء ہو گیا۔یقینا بعض اوقات ایک شخص کی قربانی آنے والی کئی نسلوں کے لئے رستے بنا دیتی ہے۔اور یقینا قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ قربانی دینے والے کے اخلاص کی بنیاد پہ نتائج کو پھل لگتا ہے۔(9).عرفہ کے دن ہونے والا خطبہ حجۃ الوداع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسلمان کی عزت اور جان اور مال بہت زیادہ قیمتی ہے۔ ہمارا معاشرہ انسانی قتل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ زمینوں ل،فصلوں، رشتوں، ذاتی رنجشوں اور غیرت کے نام پہ ہونے والے قتل کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو اسلام اور بالخصوص حج کی تربیت کے منافی ہے۔ ہماری مجالس بہتان بازی سے آلودہ ہوتی ہیں ہماری زبانیں کسی مسلمان پہ کیچڑ اچھالنے سے بلکل پرہیز نہی کرتیں۔ہم۔کسی مسلمان کا گریبان پکڑنے اور اس پہ منہ پہ طمانچہ رسید کرنے اور اس کے ساتھ جھگڑنے میں بلکل تاخیر نہی کرتے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حج کے مبارک موقع پہ فرمایا تھا۔یقینا تمہارے خون تمہارے مال تمہاری عزتوں کی حرمت اس طرح ہے جیسا کہ مکہ شہر میں اس مہینے اور اس (عرفہ)کے دن کی حرمت ہے۔اور تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پہ حرام ہیں۔(10).انسان کا وطن اور اس کا گھر اور اس کے رشتہ دار اللہ کی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کی قدر کرنا ان کا حق ادا کرنا ان سے خیانت نہ کرنا یہ بھی دین کا ایک اہم

جزء اور انسانیت کا ایک اہم تقاضا ہے۔یقینا جب انسان سفر حج سے واپس اپنے گھر کو لوٹتا ہے تو مکہ کی محبت کے باوجود، مدینہ سے لگاؤ رکھنے کے باوجود?، مدینہ میں موت کی دعائیں اور تمنا رکھنے کے باوجود ہر حاجی اپنے وطن اور گھر کی طرف واپسی کا حریص بھی ہوتا ہے اور مشتاق بھی۔یہ وہ محبت ہے جو اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں رکھی ہے۔واپس پہنچ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئیکیونکہ اس کے گھر کا حج اسی کو نصیب ہوتا ہے جس کو وہ ذو الجلال والاکرام توفیق دیتا ہے، اور رشتہ داروں کو اکٹھا کر کے ایک دعوت کرنا بھی مسنون عمل ہے۔(ختم شد)