مسئلہ کشمیر عالمی ضمیر کی آزمائش۔۔۔ تحریر: سلمان احمد قریشی

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی، پاکستان کی جانب سے اس پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے۔ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں سیاسی حلقوں نے بھی اس ثالثی کی آفر پر اطمینان کا اظہار کیا۔ حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا تھا تنازعہ میں بھارت اور پاکستان کے ساتھ کشمیری عوام تیسرا فریق ہیں، اس لئے امریکی پیش کش پر کشمیری عوام کا خوش ہونا فطری امر ہے۔ عالمی سیاست میں یہ اچھی خبر تھی، مگر بھارت نے اس مسئلہ کے حل میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کے امکان کو رد کر دیا، بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹویٹ کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی

کوئی درخواست نہیں کی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے۔ بھارت کی مستقل پوزیشن یہی رہی ہے پاکستان سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب پاکستان سرحد پار دہشتگردی ختم کرے۔بھارت کی جانب سے وضاحتی بیان آنے کے باوجود پاکستان میں امریکی صدر کی پیش کش کو بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔جبکہ بھارتی تجزیہ کار اسے پاکستان کیلئے چند گھنٹے کی خوشی، جوش و جذبہ قرار دیتے ہیں۔بھارتی سرکار کچھ بھی کہے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے بیان نے بھارتی سرکار کو حیران کر دیا۔ ثالثی کی پیش کش بلاشبہ حیران کن ہے امریکہ کا کشمیر کے بارے موقف ایک عرصہ سے یہ رہا ہے کہ کشمیر دو طرفہ مسئلہ ہے جو دونوں ممالک نے باہمی طور پر حل کرنا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ 72سال سے حل طلب ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا عمل کئی مرتبہ شروع ہوا،ہر دفعہ کسی نہ کسی واقعہ کی بنیاد پر یہ عمل منسوخ ہوا۔ کشمیر کا مسئلہ حل طلب تھا اور حل طلب ہے۔کشمیر خود غرضیوں کی بھینٹ چڑھ گیا، حالیہ الیکشن میں نریندر مودی نے پاکستان دشمنی پر بھارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی، اس طرز کی بھارتی سیاست کی قیمت کشمیری چکا رہے ہیں۔بھارت کے زیر تسلط خطے میں 12ملین آبادی ہے۔ 1989ء سے شروع ہونے والی آزادی کی تحریک کے نتیجہ میں 93ہزار سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔گزشتہ برس جولائی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں حالات مزید کشیدہ ہوئے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن رپورٹ میں شہری ہلاکتوں کے آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے، رپورٹ میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے احترام، انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا

مطالبہ بھی شامل ہے۔یہ رپورٹ مئی 2018ء سے اپریل 2019ء تک کا احاطہ کرتی ہے۔بھارت کی سول سوسائٹی بھی کشمیر میں گڑ بڑ کی ذمہ دار ی پاکستان پر عائد کرکے نئی دہلی کو بے قصور نہیں ٹھہراتی۔ شہری حقوق کی متعدد تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر میں تعینات فوج کی تعداد کو کم کر دیں۔ گزشتہ تین سالوں میں کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن ہوا،، جس میں ہزاروں بے گناہ کشمیری شہید ہوئے، شہری ہلاکتوں کے ساتھ بڑی تعداد میں بھارتی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔مسئلہ کشمیر ہی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات کشیدہ ہوئے جو خطہ کے امن کیلئے خطرہ ہے،توقع تھی الیکشن جیتنے کے بعد نریندر مودی مثبت اقدامات کریں گے، امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش کے وقت

بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر میں دس ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بھارتی سرکا ر کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں علیحدگی کی تحریک کے خلاف کاروائیوں کو موثر بنانا ہے۔ یاد رہے بھارتی سرکار نے کبھی جموں و کشمیر میں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد کے بارے مصدقہ اعداد و شمار جاری ہی نہیں کئے۔ ایک اندازے کے مطابق 5لاکھ سے زائد اہلکار جموں و کشمیر میں تعینات ہیں۔ مودی سرکار کے اس فیصلہ پر مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا موقف سامنے آیا کہ فوج تعینات کرنے سے کشمیریوں میں خوف پیدا ہو گا۔ کشمیر کے مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں لہذاسرکار اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسئلہ پر ثالثی کی پیش کش

پر چینی دفتر خارجہ کے ترجمان کا عالمی کوششوں کی حمایت کا اعلان سامنے آیا۔ ثالثی کی اس پیش کش سے قبل 2016ء میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ایران کے بھارت اور پاکستان دونوں سے بہترین تعلقات ہیں۔ دونوں چاہیں تو ہم ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔حال ہی میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی بھارت کے اپنے دورہ کے موقع پر کشمیر کے مسئلہ کے ایک کثیر الجہتی حل کی وکالت کی۔کشمیر پر بھارت نے ترک صدر کے بیان کو بھی مستر د کر دیا تھا۔ مسئلہ کشمیر کو صرف بھارت پاکستان کے مابین دو طرفہ طور پر حل کی بات کی تھی۔اقوام متحدہ اور دوست ممالک کے تنازعہ کشمیر کے کسی بھی ممکنہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں مگر بھارت علاقہ میں بالا دستی کا خواب لئے

امن کو مو قعہ دینے پر تیار نہیں۔ مودی سرکار کشمیر میں مزید سختیاں کرنے جا رہی ہے جبکہ عام بھارتی بھی جان چکا ہے کشمیر سیاسی مسئلہ ہے فوجی طاقت سے اسکا حل ممکن نہیں۔ کارگل جنگ کے 20سال گزرنے کے بعد کارگل میں ہلاک ہونے والے بھارتی کپتان مندیپ سنگھ کی بیٹی گر مہر نے سوشل میڈیا پر تصویر شئیر کی جس میں کہا گیا ”پاکستان نے نہیں میرے والد کو جنگ نے مارا تھا ”۔ اس نے کہا 2عشرے ہوئے وادی میں اب بھی بے چینی ہے پر تشدد کاروائیاں جاری ہیں۔ یہ تنازعہ تقسیم ہند کے وقت سے جاری ہے۔ ایل او سی نہ 1انچ ادھر ہوئی نہ 1انچ ادھر، تنازعے کو زندہ رکھنے کیلئے سرمایہ کاری جاری ہے۔ قارئین! مسئلہ کشمیر سے بھارت اور پاکستان کے علاوہ امریکہ، چین اور روس کے مفادات بھی

وابستہ ہیں،امریکہ جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کیلئے بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔روس بھی خطے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ علاقائی مفادات کے ساتھ بین الاقوامی طاقتیں مسئلہ کشمیر پر سیاست ہی کر رہی ہیں۔ خواہشات، بیانات، مذاکرات اور اعلانات سب کچھ ٹھیک مگر ضرورت ہے تو عملی اقدامات کی۔مسئلہ کشمیر آج بھی عالمی ضمیر پر بوجھ ہے۔ تنازعے کے حل کیلئے کسی کو تو آگے آنا ہو گا۔ اب وہ وقت دور نہیں جب عالمی طاقتیں کشمیر کے مسئلہ پر سخت موقف اختیار کرنیپر مجبور جائیں گی اور بھارت عالمی دباو سے باآسانی نکل نہیں پائے گا۔بہتری اسی میں ہے کہ بھارتی قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر میں فوج کی تعداد بڑھانے کی بجائے انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر توجہ دے، کیونکہ کشمیر کا فوجی حل ممکن نہیں۔