قصے اللہ والوں کے ۔۔۔ تحریر: فتح اللہ نواز

اسلامی معاشرے میں جوں جوں اسلام کو پھیلانے والوں میں اضافہ ہوامسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلاگیا اسلام کی تبلیغ و اشاعت میںبعد ختم نبوت جتنا اہم اور منفرد کردار نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام،خلفائے راشدین ،تابعین، علماء کرام ،مشائخ اعظام اور ولیوں کا ہے وہ آج بھی اپنی نمایاں اور منفرد حیثیت میں قائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گا،اِن جید،باصفا علماء کرام اور کامل ولیوں میں ایک نام چند روز قبل دارِ فانی سے پردہ فرمانے والے مرد قلندر درجنوں بہترین دینی کتب کے مصنف داتا کی نگری لاہور میں مروجہ خلائق حضرت مولانا پیر منیر احمد یوسفی رح کا بھی روز روشن کی طرح سدالکھا اور پھکارا جاتا رہے گا ، آپ بابا جی (رح ) محبت ،امن وسکون اور بھائی چارے کا عملی نمونہ اور ناقابل فراموش

مجموع تھے آپ کے پاس مریدین کے ساتھ ساتھ دیگر بھی واقف نا واقف،خاص وعام غرض کے جو بھی آتا آپ باباجی (رح) محبتوں اور اصلاح کے ہی پھول نچھاور فرماتے جس کی زندہ مثال میں خود کمتر ودنیادار آپ کے سامنے ہوں نامیں بابا جی (رح) کے مریدین میں شامل ناہی بابا جی(رح) مجھ سے ظاہری طور پہ واقف تھے اور ناہی میری داڑھی شریف مگر مجھے جب بھی باباجی (رح) سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا بابا جی(رح) نے خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد ہمیشہ نیک کام کرنے اور دین اسلام کی تبلیغ کرنے کی ہدایت فرمائی بابا جی (رح)مجھے فرمایا کرتے کہ (پتر اپنا عقیدہ چھوڑنا نہیں کسے دے عقیدے نوں چھیڑنا نہیں ) حالانکہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کئی نامور علماء حضرات اور مشائخ مجھ جیسے داڑھی مونڈ سے کسی ناکسی طرح اظہار نفرت ہی کرتے ہیں تاہم آپ (رح) مسلکی تنقید و تفریق سے بالا تر ہوکر ہر ایک کلمہ گو کے لئے صرف اور صرف دین اسلام کی تبلیغ اور عشق مصطفی ﷺ کی شمع لوگوں کے دلوں میں روشن کرنے کی راہ پہ گامزن رہنے کی تاکید وتلقین فرماتے بابا جی (رح ) اِس پُرفطن دور میں ولی کامل تھے ایسے کامل ولی جو ہمہ وقت لوگوں میں عشق مصطفی ﷺ اور دین اِسلام کی اشاعت وتبلیغ فرمایا کرتے آپ (رح) کے پاس جو بھی آیا دینی وروحانی فیوجوبرکات سمیٹ کر ہی واپس گیا، آپ (رح ) کا معمول یہ تھا کہ آپ عمر رسیدہ ہونے کے باجود بھی انتہائی معمولی سکون پسند تھے اور چوبیس گھنٹوں میں بامشکل کوئی دو سے ڈھائی گھنٹے ہی سوتے تھے وگرنہ دنیاوی معاملات کو ترک فرماکر آپ ہمہ وقت دین اور درس وتدریس کے کاموں میں ہی خود کو مشغول رکھتے، آپ باباجی (رح) سے ہر مسلک کے افراد

اور علمائے کرام اظہارِ محبت کرتے جس کی سب سے بڑی وجہ آپ بابا جی (رح) کا پیغام ہی محبت تھا باباجی(رح) کے آخری سفرکی راہ پہ گامزن ہونے اور نمازِ جنازہ اداکرنے سے لیکر آج تک آپ سے وابستہ مریدن کی وسیع تعداد آپ کے صاحبزادگان،اندرونِ وبیرون ملک علمائے کرام غرض کہ ہر فرد جو بل واسطہ یا بلا واسطہ آپ بابا جی منیر احمد یوسفی (رح) کے ساتھ شرف ملاقات حاصل کرچکا یا آپ (رح )کی تصانیف کو پڑھ چکا یا نجی ٹی وی چینل کے مشہور مذہبی پروگرام صبح نور میں حضرت مولانا پیر منیر احمد یوسفی (رح)کو جلو گر ہوتا دیکھ کر آپ کے انتہائی دھیمے لب ولہجے اور محبت بھرے انداز ِگفتگو سے فیض یاب ہونے والا ہر شخص باباجی کی جدائی سے بوجھل دل کے ساتھ روتا اور غم میں مبتلا ہی تو

ہے ۔بابا جی(رح) کے نماز جنازہ میں لوگوں کا جمِ غفیر اِس بات کی عکاسی کے لئے کافی ہے کہ شہرِ لاہور میں آپ بابا جی (رح) کا جنازہ اِس پُر ہجوم شہر میں ہونے والے چند ایک تاریخی جنازوں میں شمار ہوا ہے ہر چھوٹے بڑے خاص وعام کی یہ کوشش رہی کہ وہ اِس ولی کامل کا ناصرف آخری دیدار کرے بلکہ جسد خاکی کو بھی کندہ دے آپ (رح) جیسی ہستیاں اور اللہ والے اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پہ خاص انعام واکرام ہوا کرتی ہیں حضرت مولانا پیر منیر احمد یوسفی (رح) نے اپنی زندگی کا مشن صرف اور صرف عشق مصطفی ﷺ کا پرچار اور دین اسلام کی تبلیغ واشاعت فرمانا ہی رکھا ،اللہ تعالی آپ بابا جی منیر احمد یوسفی(رح) کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ(رح) کے

صاحبزادگان،مریدین،وابستگان آپ بابا جی (رح) کا تمام حلقہ احباب ،علمائے کرام ،مشائخ اعظائم سب کو صبرِ جمیل عطافرمائے اور آپ باباجی(رح) کے مشن مجھے دین اسلام سے پیار ہے پہ ہم سب کو دل وجان سے کاربند ہوکر زیادہ سے زیادہ عشق مصطفی ﷺ کے فروغ اور دین اسلام کی تبلیغ کرنے کی توفیق ،طاقت اور اہمت عطافرمائے ۔آمین ثم آمین ۔خداکے آزاد بندوں کی نا یہ دنیا نا وہ دنیا۔۔یہاں جینے پہ پابندی وہاں مرنے پہ پابندی ۔