ہمارا تعلیمی نظام ۔۔۔ تحریر: عائشہ طارق

دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ بجٹ تعلیم پر صرف کیا جاتا ہے۔ مگر پاکستان وہ ملک ہے جس میں بجٹ کا سب سے تھوڑا حصہ تعلیم پر صرف کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بنیادی اشیاء تعلیم سے محروم ہیں۔ ہمارے سرکاری اداروں کی حالت اس قدر ناقص ہوتی ہے کہ اس سے اس میں دی جانے والی تعلیم کا انداز بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ہمارا معیار تعلیم آج بھی انیسویں صدی والا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نصاب میں تبدیلی بھی ضروری ہوتی ہے مگر ہمارا ایجوکیشن سسٹم سوچتا ہے کہ اکیسویں صدی کے بچے بھی اپنے باپ دادا کے دور میں ہی رہے اور ان کے دماغ انیسویں صدی سے آگئے کا سوچ ہی نہ سکے۔ہمارے ہاں بچوں کو صرف ایک چیز سیکھائی جاتی ہے اور وہ ہے جو جیسا لکھا ہے اس کو ویسے

کی صورت میں یاد کرنا۔ نہ تو کوئی اس کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ یہ بات جو لکھی ہوئی ہے اس کی وجہ کیا ہے۔ اور نہ ہی کوئی سوال پوچھئے۔ اس کو کہتے ہیں rattaliztion. کیونکہ ہمارے ہاں سوال پوچھنے کو گناہ سمجھ جاتا ہے اور اس کو بدتمیزی تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارا سسٹم ہی یہ بن گیا ہے جو پڑھو اس کو پیپرز تک یاد رکھو۔ پیپرز دو اور پھر سب کچھ بھول جاو۔ اسی لیے ہمارے ہاں بچے چیزوں کو سمجھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ بھی صرف سر سے اترتے ہیں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ہمارے اخلاق کو ٹھیک نہیں کرسکتا۔ ہمیں اپنے پیروں پہ کھڑا ہونا نہیں سیکھا سکتا تو ایسے تعلیمی نظام کا ہم کیا کرے۔ ہمارے ہاں بچوں کو چیزیں practical کرانے کی بجائے theoretical کروائی جاتی ہے۔ ہماری base ہی ٹھیک نہیں رکھی جاتی ہے۔ ہمارے بچوں کو کسی بھی بات کا علم تک نہیں ہوتا۔ دوسرے ممالک میں بچوں کو شروع سے practically چیزوں کو کرنا سکھایا جاتا ہے۔ وہ ان کے بچے ہمارے بچوں سے زیادہ Sharpe اور active ہوتے ہیں ۔ اور ان کا نصاب بھی ہر سال وقت کی ضرورت کے مطابق تبدیل ہوتا ہے تاکہ بچے نئے دور کے نئے علوم سیکھ سکیں اور ان سے فائدہ حاصل سکیں۔ مگر ہمارے ہاں آج بھی وہی نصاب پڑھایا جارہا ہے جو ہمارے باپ دادا نے پڑھا تھا۔ہمارے سکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے سسٹم کو چلنے والے، ان کو سنبھالنے والے لوگ وہ ہیں جو خود اس سسٹم کو چلنے کا علم نہیں رکھتے۔ سکولوں اور کالجوں کی لیبارٹریوں میں استعمال ہونے والے آلات اور کیمیکل اتنے پرانے ہیں کہ اگر بچے بہت محنت کر کے کوئی کام کرتے بھی ہیں تو

اس کا نیتجہ کبھی ٹھیک نہیں آ سکتا۔ اس کی وجہ بچوں کی نااہلی نہیں ہوتی بلکہ آلات اور کیمیکل کی خرابی ہوتی ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس ضرورت کے آلات (instrument) موجود ہی نہیں ہے۔ مگر ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں لیبارٹری (lab) کا نگران ان کو مقرر کیا جاتا ہے جو شاید ہی انٹر بھی پاس ہو ان کو ان آلات کو استعمال کرنے کا طریقہ ہی نہیں پتہ ہوتا۔ ہمارے اداروں کو، ہمارے سسٹم کو چلنے والے وہ لوگ ہے جو خود بھی لا علم ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہے۔ہمارے ہاں ٹیکنیکل ایجوکیشن کو کوئی سسٹم نہیں ہے۔ ہمارے وہ بچے جو گریجویشن کر رہے ہوتے ہیں وہ اس قدر spone feeding کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ جب ان

کو خود سے کام کرنے یا کوئی research work کرنے کو دیا جاتا ہے تو ان کو یہ سب عذاب لگتا ہے۔ کیونکہ ہم لوگ کی base ہی اتنی کمزور رکھی گئی ہوتی ہے کہ ہمیں سہاروں کے بغیر کھڑے ہونا ہی نہیں آتا ہوتا۔ ہمارے طالبعلموں سے پوچھا جائے کہ وہ کورس کی کتابوں کے علاوہ ایک سال میں کتنی کتاب پڑھتے ہیں تو زیادہ تر کا جواب ہو گا کہ ایک بھی نہیں، اور کچھ کا کہنا یہ بھی ہوتا ہے کہ کورس کی ہی نہیں پڑھی جاتی۔ ہم اپنے کل کے لئے ایسا کھوکھل مستقبل تیار کر رہے ہیں۔ہمارے ملک میں تعلیمی اداروں میں نوکری حاصل کرنا سب سے آسان ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اپنی گریجویشن مکمل کرتے ہی ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں نوکری مل جائے۔ مگر نہ تو ان کے پاس پڑھنے

کا کوئی تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی پڑھنے کی بنیادی skills. اور ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ٹیچرز کی ٹریننگ کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ہمارے اداروں میں آج بھی وہ اساتذہ موجود ہیں جو ہمارے ماں باپ کے وقت میں بھی ان اداروں میں موجود تھے یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے آج بھی انیسویں صدی کے concept کو لے کر چل رہے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں کوئی جدیدیت آج تک نہیں آئی۔ سب سے زیادہ تباہی ہمارے ہاں کوچنگ سینیٹرز نے مچائی ہوئی ہے۔ ہر گلی محلے میں تین سے چار کوچنگ سینٹر ضرور موجود ہوتے ہیں۔ میں معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گی ہمارے اساتذہ سکول کالجوں میں تو بچوں کو سہی پڑھتے نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا سارا فکس ان کے کوچنگ سینٹرز پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا

سسٹم تباہی کی طرف جارہا ہے۔ تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے اس کوچنگ سینٹر کے نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ تو تب ہی ٹیچرز اپنی ڈیوٹی کو اچھے سے اور ایمان داری سے پورا کرے گے اور اپنی تنخواہ کو حلال کرنے پر فکس کرے گے۔ نہ کوچنگ سینٹرز بزنس پر۔اگر ہم واقعہ ہی میں وقت کے ساتھ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ کیونکہ تعلیم ہی انسان کو زندگی گزارنے کا شعور دیتی ہے۔ انسان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور اپنے معاشرے میں سر اٹھا کہ جینا سکھتی ہے۔ کسی بھی نظام یا سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لئے ہمیں تعلیمی نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ تعلیم کو ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے عام اور سست کرنا ہو گا۔ اگر ہمارا تعلیمی نظام بہتر ہوگا تو انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارے ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔