زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔۔۔ تحریر: وفا نقوی

آہ۔۔۔ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی۔۔ ۲۵ مئی۲۰۱۹ء؁ کی شب ہے تقریباً رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔سرسید نگر ایک منار مسجد نذد شوکت منزل دودھ پور علی گڑھ کا قبرستان ہے اور میرے سامنے ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی کی کفنائی ہوئی میت ہے۔سب لوگ مرحوم کا آخری دیدار کر رہے ہیں ’’بڑھتے رہئے،چلتے رہئے‘‘ کی صدائیں بلند ہیں ایک جمِ غفیر جس میں ہر مکتبِ فکر کے لگ موجود ہیں ایک مفکر،ایک شاعر،ایک ذاکراور ایک عاشقِ رسولؐ اور آلِ رسولؐ کی آخری رسومات میں شامل ہونے آرہے ہیں جس کو دیکھو ایک ہی بات کہتا ہے مرحوم نہایت خلیق،انتہائی مہمان نواز،مومن اور متقی انسان تھے۔میں یہ الفاظ میرے کان میں پڑ تو رہے ہیں لیکن میں خیالات کی دنیا میں خود کو محسوص کر رہا ہوں۔میرے ذہن

میں میرے ماضی کے پچھلے بیس سال گردش کر رہے ہیں۔مرحوم کی تلقین ہوچکی ہے قبر پر مٹی بھی ڈل گئی ہے لیکن میں ہوں کے مرحوم کے بارے میں سوچے جا رہا ہوں ابھی ایک دن پہلے ہی تو شب میں بعدِنمازِ مغربین ان سے فون پر کافی دیر بات ہوئی تھی۔یہ کیسے ہو گیا کہ ایک جیتا جاگتا انسان جس کی گفتگو سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ جلد ہی راہیِ ملکِ عدم ہونے والا ہے ہم کو داغِ مفارقت دے کر ہنستا مسکراتا دنیا چھوڑ کر جا رہا ہے۔ مجھے یہ تو یاد نہیں کہ ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی مرحوم سے میری کس سنہ میں باقاعدہ ملاقات ہوئی لیکن ذہن پر غور دیتا یوں تو اتنا یاد آتاہے کہ بچپن میں میرے والد صاحب ڈاکٹر ہلال حسین نقوی جہاں مجھے اپنے ساتھ محرم میںعلی گڑھ میں ہونے والی مجالسِ عزا میں لے جاتے تھے وہیں آئمۂ طاہرین کی ولادت کے موقع پریہاں ہونے والی محافل میں بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب میری عمر پانچ یا چھ سال رہی ہوگی۔میرے معصوم ذہن پر جس طرح مختلف ذاکرین ،سوز خواں حضرات ،نوحہ خواں حضرات اور شعرائے کرام اپنے کمالات و ہنر سے نقش ثبت کرتے اس کاردِ عمل یہ ہوتا کہ میں اپنے گھر پرکبھی ذاکر کی طرح تقریر کرنے کی کوشش کرتا تو کبھی نوحہ خوانی کرتا تو کبھی اشعارجو رباعی یا قطعہ کی صورت میں ہوتے یاد کرکے پیش خواں حضرات کی نقل کرتا۔ایسے ماحول میں مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی ایک شخصیت تھی میں جن سے واقف تو نہ تھا لیکن ان کے پڑھنے کا انداز مجھے بہت متاثر کرتا اور میں ہر محفل میں ان سے ضرور کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا یہ سلسلہ اس وقت اور مزید فروغ کو پہنچا جب میرے اندر اردو ادب پڑھنے کا جذبہ بیدار ہوا ار میں

ہائی اسکول کے بعد باقاعدہ شعر موزوں کرنے لگا۔یہ زمانہ انیس سو ننیانوے(1999) کا تھا۔میں زیادہ تر نوحے اورمنقبت کہنے کے لئے اپنے قلم کو جنبش دیتا کیونکہ بچپن سے ہی عزاداری امام حسینؑ کے صدقے میں طبیعت میں موزونی محسوس کرتا تھا۔میرے کہے نوحے علی گڑھ کی اکثر مجالس جس میں زہرہ باغ سول لائن علی گڑھ میں ہونے والی عزاداری وغیرہ میں مختلف انجمن کے نوحہ خوان حضرات پڑھتے جس سے مجھے لکھنے کا مزید جذبہ ملتا اور منقبت خوانی کے سلسلے حسینی مسجد زہرہ باغ سول لائنس علی گڑھ میں ہونے والی محافل نے مجھے بڑا حوصلہ عطا کیا اس حوصلے کے محرک جہاں ایک جانب ان محافل کے ناظم جناب ضیغم زیدی ہوتے وہیں ان محافل میںشامل ہونے والے شعراء میں ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ

پاروی کا اہم کردار ہوتا۔یہ زمانہ سنہ دو ہزار ایک(2001) یا دو ہزار دو (2002ء)کا تھا ۔میں ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی کو اچھی طرح جانتا بھی نہیں تھا لیکن والد صاحب سے ان کا گھر میں چرچہ ضرور سنا تھا۔مجھے ایک محفل کا ہلکا سا منظر یاد آرہا ہے جو حضرت علی اکبرؑ ابنِ حسینؑ کے سلسلے سے ان کے یومِ ولادت پر تھی اور یہ محفل طرحی تھی ۔جس کے منتظم نادر حسین نقوی صاحب تھے جنھوں نے ان طرحی محافل کا سلسلہ ایک عرصے تک قائم رکھا جس میں مقامی و بیرونی شعراء اپنا طرحی کلام پیش کرتے تھے خصوصاً امروہہ سے تعلق رکھنے والے شعراء اس میں ضرور شامل ہوتے جس میں سرِ دست جو نام یاد آرہے ہیں اس میں غمگینؔ امروہوی،نوشاؔ امروہوی اور بھونؔ امروہوی وغیرہ وغیرہ تھے۔ان کے علاوہ

علی گڑھ کے شعراء میں ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی پیش پیش ہوتے ۔ایسے ہی ایک محفل میں مَیں نے بھی اپنا طرحی کلام پیش کرنے کی جسارت کی۔میں چونکہ اردو ادب کا باقاعدہ طالبِ علم بن چکا تھا اس لئے مجھے ادب کی مختلف اصناف کی تھوڑی شد بد ہوگئی تھی میں نے منقبت کو قصیدے کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی جس میں تشبیب،گریز اور مدح کا سلسلہ نمایاں تھا،چونکہ بات پرانی ہے اس لئے مجھے اب یہ تو یاد نہیں رہا کہ میر اکلام کس طرح سنا گیا لیکن اتنا ضرور یاد رہ گیا کہ آخر میں جب ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی کو ناظم محفل نے دعوتِ کلام دی تو انھوں نے اپنا کلام شروع کرنے سے پہلے میرے لئے تعریفی کلمات کہے کیونکہ میں نے قصیدہ لکھا تھا اور ان کا خاصہ بھی یہی تھا کہ وہ

قصیدے کے شاعر تھے۔ان کے کلام کی یہ بڑی خصوصیت تھی کہ وہ کسی بھی مصرعے پر بڑی محنت کرتے تھے اور اس پر جو مصرع لگاتے تھے وہ شایقینِ ادب کو داد و تحسین دینے پر بے ساختہ آمادہ کرتا تھا۔ان کے یہاں قصیدے کے تمام لوازمات بہترین انداز میں کارفرمائی کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔تشبیب کہتے تھے تو لگتا تھا قصیدے کی تمہید کا حق ادا ہو رہا ہے،گریز کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ بات میں سے بات کس طرح نکلتی ہے اور شاعر کس طرح مدح کی طرف بڑھتا ہے اس کا ہنر ڈاکٹر فکرؔ صاحب کو بخوبی آتا ہے۔مدح لکھتے تھے ان کا تاریخیٰ شعور ان کی فکر کے آئینے میں پیوست ہوکر منعکس ہوکر ذوقِ سماعت میں بے پناہ نورانی کیفیتوں کا احساس منظم کرتا۔دعائیہ اشعار کی وادی میں ان کے یہاں دعا کا ایک

سلیقہ ہوتا جس میںشاعر کے یقینِ کامل کے ساتھ سماج و کائنات کے اصلاحی پہلوئوں کی طرف بھی اشارے ہوتے۔ غرض کہ ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی صاحب کا علی گڑھ میں طوطی بول رہا تھا۔اب یہ الگ بات ہے کہ مجھے ان کے بارے میں زیادہ علم نہ تھا جو بعد کو پتہ چلا کہ نہ صرف علی گڑھ بلکہ لکھنو جیسا ادبی مرکز بھی ان سے خاصہ متاثر ہے۔یہ سلسلہ رواں دواں رہا ۔جب کہیں سے علی گڑھ کی کسی محفل کا دعوت نامہ آتا یا کوئی طرحی مصرع ملتا تو میرا ذہن شعر کہنے پر آمادہ ہوتا اور میں پورا قصیدہ یامنقبت کہتا لیکن خیال ڈاکٹر فکرؔ صاحب کی طرف پرواز کرتا اور سوچتا کہ ان سے آج پھر حوصلہ افزائی کا تحفہ فراہم ہوگا۔مجھے ایک اور محفل کا منظر یاد آرہا ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہ سنہ دو ہزار چار(2004ء) کا

واقعہ ہے۔امیر نشاں دودھ پور علی گڑھ میں پروفیسر نسیم صاحب کے یہاں شعبان میں امام مہدیؑ کے سلسلے سے ہر سال طرحی محفل کا اہتمام ہوتا تھا میں بھی مدعو تھا میں نے بھی اپنا طرحی کلام پیش کیا جسے حاضرین محفل نے کافی پسند کیا ۔محفل کے اختتام پر نذر کا اہتمام کیا گیا تو ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔپاروی مجھ سے مخاطب ہوئے اور بولے یہ طرحی کلام پڑھنے کے بعد ضائع نہ کر دینا بلکہ انھیں جمع کرکے ایک کتاب کی شکل میں شائع کرنا ۔میں اس زمانے میں مجموعۂ کلام کی اہمیت سے اتنا واقف نہیں تھا جتنا آج ہوں لیکن ان کے اس تخاطب اور مشورے نے مجھے بڑا حوصلہ بخشا اور میں مزید شاعری کرنے پر آمادہ ہوا۔ فکرؔ صاحب سے محافل میں ملاقات کا سلسلہ جاری رہا لیکن ان کے ہنر کا ایک اور رخ

مجھے ایامِ عزا میں دیکھنے کو ملا ۔انھوں نے صفر المظفر کے دوران منعقد ہونے والے عشرۂ مجالس کوسید انور علی زیدی سابق رجسٹرار اے ایم یو علی گڑھ کے یہاں ایک مجلس میں اپنی خطابت کے جوہر دکھائے جہاں انھوں نے فضائل کے دریا بہا دئیے اور حدیثِ قدسی پر سیر حاصل گفتگو کی وہیں مصائب کا انداز اس طرح کا تھا کہ پتھر بھی گریہ کرنے لگے تمام مجلس زارو قطار رونے لگی۔یعنی وہ جہاں شاعری میں منفرد تھے وہیں ذاکری میں بھی اپنی مثال آپ ہی تھے۔اس کے بعد جب ان کی کتابوں کو دیکھا تو یہ بھی بخوبی اندازہ ہوا کہ ان کے قلم کی روانی کی کیا کرشمہ سازیاں ہیں۔یہ دو ہزار گیارہ(2011ء)کے آس پاس کا زمانہ تھا ۔اب مجھے تھوڑ ابہت ادبی اصناف یا ان کے اسلوب کا اندازہ ہو چکا تھا کہ کسی خاص صنف میں یا مثلاً اچھی نثر میں کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں۔میں نے مرحوم کی کتابوں کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جہاں وہ شعر گوئی میں انفرادیت رکھتے ہیں ،بہترین مقرر ہیں وہیں ان کی نثر بھی نہایت جاذب نظر اور دلکش ہے۔ان کی مشہور نثری کتابوں میں’’کلمے سے کربلا تک‘‘ اور’’ عقاید و فضائلِ اعمال‘‘ میرے خیال میں نہایت اہمیت کی باعث ہیں۔جہاں انھوں نے اپنی تقاریر کو کتاب کی صورت میں پیش کیا اور مقصدِ کربلا اور کربلا کے پس منظر کو اپنی صلاحیتوں کے چراغ کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی وہیں ’’عقائد و فضایل اعمال ‘‘ جیسی کتاب کی صورت میں شیعت کے عقیدے کو واضح کرنے کی کوشش کی اور اعمال کی اہمیت کا بیان بھی کیا۔جس سے ان کا اسلامی شعور اور موقف صاف طور پر عیاں نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر فکرؔ پاروی مرحوم سے میری قربت کا زمانہ سنہ دو ہزار تیرہ (2013ء)کے آس پاس کا ہے۔ہوا یہ کہ امروہہ سے

کسی محفل کے لئے میرے پاس بھی دعوت نامہ آیا اور مرحوم کے پاس بھی مجھے کہا کہ گیا کہ آپ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ امروہہ آجائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وقتِ مقررہ پر ہم دونوں ایک ساتھ تھے یا یوں کہا جائے کہ مجھے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سفر کا شرف حاصل ہورہا رتھا اور کسی انسان کی شخصیت کو پرکھنے کے لئے یہ آسان طریقہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ سفر اختیار کیا جائے۔ہم علی گڑھ کے نئے بس اسٹنیڈ کے لئے ہاپوڑ کے لئے سوار ہوئے اتفاق سے اس روز امروہہ جانے والی بس موجود نہ تھی۔بلکہ کسی سبب سے بس سروس میں کافی دقت تھی۔ہمیں جو بس ملی اس میں سوار ہوگئے لیکن اس بس کے عجیب رنگ اور اس پر عجیب عجیب گل کاریاں دیکھ کر مجھے کوفت سی ہونے لگی مجھے محسوس ہوا کہ ڈاکٹر صاحب بھی کچھ مطمئن نہیں اتفاق سے ایک دوسری بس میرٹھ تک کے لئے آگئی اور ہم اس میں سوار ہوگئے۔ہمیں ہاپوڑ سے امروہہ کے لئے ریل میں سفر کرنا تھا ۔علی گڑھ سے ہاپوڑ کے سفر تک ڈاکٹر صاحب سے شاعری پر گفتگو ہوتی رہی اس دوران انھوں نے شاعری کی مختلف خصوصیات اور شاعری کے مختلف عیوب پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جس سے مجھے کافی سیکھنے کا موقع ملا لیکن زیادہ تر گفتگو تقدیسی شاعری کے حوالے سے ہی رہی۔چونکہ میرا کلام اخبارات و رسائل وغیرہ میںشائع ہونے لگا تھا اور ڈاکٹر صاحب کی نگاہ سے گزرتا رہتا تھا اس لئے انھوں نے میری اس سفر کے دوران مزید تحسین کی اور میرا حوصلہ بڑھایاانھوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم ضرورحاصل کرو یعنی اردو میں پی ایچ ڈی کرو تاکہ زبان کی خدمت کر سکو۔ہاپوڑ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر ہمیں پتہ لگا کہ امروہہ جانے والی ٹرین آنے میں ابھی وقت ہے غرض وہیں تھوڑا

قیام کیا گیا اس دوران میں یہ سوچتا رہا کہ اتنابڑا شاعر و مفکر سفر کی دقتوں کو کیوں برداشت کر رہا ہے ۔یہ دقت اس وقت اور بڑھ گئی جب ٹرین آئی تو اس میں بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی اور سارا سفر کھڑے کھڑے طے کرنا پڑا،مجھے بعد میں اندازہ ہوا کہ مرحو م تعلقات نبھانے میں بڑے خلیق تھے وہ ذکر اہلبیتؑ کے لئے سفر کی دشواریوں کو بھی برداشت کرلینے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔اس ٹرین کے سفر کے دوران میں نے ان سے کہا ’’کہ محترم !!!کیا آپ غزل نہیں کہتے؟‘‘انھوں نے برجستہ جواب دیا:’’کیوں نہیں!!!غزل بھی قصیدے کی طرح ادب کی ایک بڑی صنف ہے‘‘میں نے نہایت انکساری سے عرض کیا کہ:’’ محترم میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو شعری نشستوں میں بھی شرکت کرنا چاہئے‘‘ یہ سن کر وہ تھوڑا خاموش ہوئے اور کہا کہ ’’علی گڑھ میں اب کوئی شعری نشست ہو تو بتانا‘‘ بات کرتے کرتے پتہ نہیں کب امروہہ آگیا اور محفل کے بعد ہم علی گڑھ آگئے۔کچھ دن بعد جامعہ اردو علی گڑھ میں ڈاکٹر مجیب شہزرؔ کی جانب سے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ۔میںنے مرحوم سے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس ادبی مشاعرے میں شریک ہوں تو انھوں نے اس گزارش کو قبول کر لیااور مشاعرے میں اپنا ایسا سکہ جمایا کہ اکثر علی گڑھ کے ادبی مشاعروں میں ان کی شرکت ناگزیر ہوگئی۔انھوں نے جہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ادبی مشاعروں میں اپنا کلام پیش کیا وہیں ذی سلام چینل پر ’’سلامِ محفل‘‘پروگرام میں بھی ان کی شرکت رہی۔آل انڈیا ریڈیو آگرہ پر بھی ان کا کلام نشر ہوا اور ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے علی گڑھ کی نمائش میں ایک عالیشان پروگرام میں آزر کیڈمی کی جانب سے انھیں ’’آزر ایوارڈ‘‘ سے بھی

نوازا گیا۔ سنہ دوہزار سترہ(2017ء)آتے آتے ان سے مراسم کا یہ تعلق تھا کہ اکثر فون پر ان سے کافی دیر تک علمی و ادبی گفتگو رہتی۔کبھی ان کے گھر جانا ہوتا اور میں کوئی کتاب دے کر ان سے گزارش کرتا کہ اس کتاب پر اپنے خیالات رقم بند کر دیں۔ وہ بڑی محبت کے ساتھ اس گزارش کو قبول کرتے پتہ لگا کہ ابھی زیادہ وقت بھی نہیں ہوا کہ ایک دو روز بعد ان کا فون آرہا ہے کہ میں نے کتاب پر مضمون لکھ دیا ہے۔اس سلسلے کا ان کاایک شاندار مضمون’’اودھ نامہ لکھنو‘‘ سے شائع ہوا جو انھوں نے پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم سابق صدر شعبۂ اردو اے ایم یو علی گڑھ کی مرثیہ شناسی کے حوالے سے تحریر کیا تھا۔یہی نہیں جب کبھی میرا کوئی مضمون ’اودھ نامہ‘یا کسی اور اخبار میں چھپتا تو ان کا ضرور فون آتا اور میری حوصلہ افزائی کرتے۔یہ سلسلہ یقیناً یوں ہی رواں دواں رہتا اگر وہ داعیِ اجل کو لبیک نہ کہتے لیکن:موت سے کس کو رستگاری ہے۔۔آج وہ کل ہماری باری ہے۔۔ ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی کو اس وقت مرحوم لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہورہی ہیں۔مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ میں ان کی حال ہی میں بائیس رجب کی نذر(عرفِ عام میں کونڈے)میں ان کے درِ دولت پر حاضری نہ دے سکا مرحوم نے فون پر بڑی محبت و اپنائیت سے کہا کہ تمہیں نذر میں آنا ہے اور میں ان کے یہاں نہ جا سکا۔مرحوم سے میری ان کے انتقال سے ایک دن پہلے بات تقریباً آدھا گھنٹہ بات ہوئی ۔زیادہ تر گفتگو کا مرکز مولانا اصغر اعجاز قائمی جلالپور اسسٹنٹٹ پروفیسر کا جشنِ امامِ حسنؑ کے سلسلے سے طرحی کلام کے لئے دیا ہوا مصرع’’مظہر خلقِ پیمبرؐہیں حسنؑ‘‘پر رہی اور مرحوم اس مصرع کی عروضی نقطۂ نظر سے بات

کرتے رہے جس سے بخوبی اندازہ ہوا کہ انھیں نہ صرف شاعری بلکہ عروض پر بھی دسترس حاصل ہے کیونکہ میں نے دیکھا کہ مذکورہ مصرعے پر طرحی کلام پیش کرتے ہوئے بڑے بڑے شعرا نے غچا کھایا اور بحر سے باہر نکل گئے۔مرحوم جہاں تقریر و تحریر اور شاعری میں ممتاز و منفرد تھے وہیں اخلاقی اعتبار سے بھی اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔ان کے یہاں نہایت خلوص و محبت دیکھی جاتی تھی وہ مہمان نوازی میں میں بھی کسی سے کم نہ تھے میں جب بھی ان کے یہاںکسی کام یا ملاقات کے سلسلے سے گیا تو بغیر ناشتہ پانی کے نہ آنے دیا،کبھی کبھی خود ہی کچن سے چائے اور بسکٹ وغیرہ لیکر آتے میں ان سے عرض کرتا کہ تکلف نہ کیجئے تو بڑے خلوص سے جواب دیتے اس میں کوئی تکلف نہیں ہے۔یہ سلسلہ ان کی علالت کے زمانے میں بھی باقی رہا۔سنہ دو ہزار اٹھارہ(2018ء) کی بات ہے کہ مرحوم کو کینسر ڈکلیئر(Cancer Declear)کیا گیا اور دہلی میں علاج چلاجب علی گڑھ لوٹ کر آئے تومیں اور ڈاکٹررضیؔ امروہوی ان سے ملنے کے لئے گئے دروازہ کھٹکھٹایا تو کسی خاتون نے آنے کا سبب پوچھا ہم نے کہاکہ اگر ڈاکٹر صاحب کو زحمت نہ ہو تو ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ان کی عیادت مقصد ہے۔یہ پیغام ان تک پہنچایا گیا وہ آرام کر رہے تھے اور ہمیں بعد میں پتہ لگا کہ ڈاکٹر نے انھیں لوگوںسے زیادہ ملنے جلنے یا بات کرنے کو بھی منع کیا تھا لیکن مرحوم کی مہمان نوازی کے جذبے نے زور مارا اور ہمیں ان سے ملاقات کی اجازت ملی۔دیکھا تو ان کے منہ پر سفید ماسک چڑھا ہواتھا۔یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ بات کس طرح کی جائے لیکن انھوں نے خود ہی ہماری خیریت دریافت کی اور پھر بات شاعری اور وہ بھی

تقدیسی شاعری پرچل نکلی کافی وقت گزر گیا ہم نے اجازت طلب کی لیکن پھر بھی دل میں یہ خلش باقی تھی کہ ان سے ملاقات کچھ اور دیر ہوتی تو بہتر تھا حالانکہ ان کی بیماری کو دیکھتے ہوئے ہم نے ان کا کافی وقت لیا تھا۔ مرحوم بخوبی جانتے تھے کہ انھیں کینسر جیسے موزی مرض نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے لیکن میں نے ان کے چہرے پر کبھی فکر کے نشانات نہ دیکھے اور وہ آخری وقت تک باحوصلہ رہے بلکہ وہ اپنی بیماری کا کسی سے ذکر ہی نہیں کرتے تھے ۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی شخصیت کا ایک بڑا پہلو تھا کہ انھوں نے ہمیشہ حوصلے سے کام لیااور زندگی کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے آخرت کی تیاری میں مصروف رہے۔انھیں اپنے رب اپنے مولا پر یقین تھا کہ وہ جو کچھ سرمایۂ علم و ادب آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ ان کے لئے توشۂ آخرت ثابت ہوگا۔ مجموعی طور پر ڈاکٹر تاجدار حسین زیدی فکرؔ پاروی اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے۔انھوں نے جہاں طب کو اپنے لئے ذریعۂ معاش قرار دیا وہیں شعر و سخن کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھا اردو زبان سے ان کو نہایت شغف تھا یہی وجہ ہے کہ ان کا فن محدود نہیں اور نثر و نظم دونوں میں ممتاز ہیں۔ان کی زندگی ذکرِ رسولؐ اور آلِ رسولؐ کے لئے وقف تھی۔تمام عمر کربلا اور شہدائے کربلا کا ذکر کرتے رہے ۔ہندوستان اور بیرونِ ہندوستان نہ جانے کہاں کہاں انھوں نے ایام عزا میں ذکرِ امام حسینؑ کیا لیکن کبھی کسی کے سامنے کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا کسی نے زادِ راہ دیا تو اس کو اپنے نجی مقاصد کے لئے استعمال نہ کرتے ہوئے تعلیمی راہوں کے لئے خرچ کیا۔ میں نے جو کچھ ان کے بارے میں لکھا بہت کم لکھا ہے ان کی شخصیت اس سے زیادہ کہیں وسعتوں کی حامل تھی۔آخر میں غالبؔ کے اس شعر کے ساتھ اپنی گفتگو کرتا ہوں کہ :ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے۔۔سفینہ چاہئے اس بحرِ بے کراں کے لئے۔۔ اﷲمرحوم کی قبر نور سے معمور کرے انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب ہوو اور جوارح معصومین میں اعلیٰ مقام حاصل ہو آمین۔