پاکستان میں طلاقوں کی بڑھتی شرح کی وجوہات ۔۔۔ تحریر: اظہراقبا ل مغل

شادی ایک اہم و مقدس فریضہ ہے ۔جو کہ پاکستان میں بہت دھوم دھام سے رچائی جاتی ہے ۔ایک شادی پر لاکھوں خرچ ہوتے ہیں۔بہت سارے مہمانوں کو دعوت دے کربلایا جاتا ہے بہت سارا اہتمام کیا جاتا ہے ۔لیکن افسوس کہ جب یہ شادی کا مقدس بندھن ٹوٹنے پر آتا ہے تو انسان سب کچھ بھلا کر ایک پَل میں یہ بندھن توڑ دیتاہے،بعض اوقات تو طلاق کی اچھی خاصی وجہ ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ طلاق کی بظاہر کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی۔آج کل پاکستان میں طلاقوں کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے،کہ ہر بندہ آجکل سوچنے پر مجبور ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں طلاقوں کی بڑھتی

وجہ کی بہت ساری وجوہات نظر آتی ہیں ۔پاکستان میں جو سب سے بڑ ی وجہ ہے طلاقوں کی ہمارا میڈیا ہے ۔ میڈیا کا اس میں بہت اہم رول ہے ہمارا میڈیا آج کل اس طرح کے پروگرامز اور ڈرامے پیش کرتا ہے۔جس میں ایک لڑکی کو دکھایا جاتا ہے کہ وہ ساس سے بھی بدتمیزی کر رہی ہے اپنے میاں کے سامنے بھی اونچی آواز میں بات کر رہی ہے اور اپنی نند سے بھی بھرپور مقابلہ کرتی ہے اس کے ایساکرنے کو مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ یہ عورت اپنے حق کیلئے لڑ رہی ہے نہ کہ ایک روائتی عورت کی طرح اپنے سسرال کا ظلم و ستم برداشت کرے ۔جو لڑکی اس طرح کا ڈرامہ دیکھے گی اس کے ذہن میں اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہونگے اور ایسا ہی ہوتا ہے جب وہی لڑکی بہو بنتی ہے تو جو اس نے ڈرامے میں دیکھا ہوتا ہے وہی رول ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے جس میںوہ بری طرح ناکام ہوتی ہے کیونکہ ایک ڈرامہ اور ایک حقیقت میں زمیں آسماں کا فرق ہے اس ڈرامے سکرپٹ پہلے ہی لکھا جا چکا تھا لیکن جو رول یہ ادا کر رہی ہے اس کا سکرپٹ ابھی لکھا جائے گا اس کے ایسے رویے سے بجائے حالات ٹھیک ہونے کے بگڑ جاتے ہیں او ر نوبت طلاق تک آجاتی ہے اسی طرح میڈیا پر آئے دن پر عورتوں کے حقوق پر بے شمار پروگرامز نشر ہوتے ہیں جن میں عورت کو مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہی روائتی باتیں کر کے ایک جوانی کی دہلیز م یں قدم رکھنے والی لڑکی کا اچھا خاصا دماغ کر دیا جاتا ہے جو کہ موجودہ دور میں طلاقوں کی بہت بڑی وجہ بن رہی ہیں ۔پاکستان میں بے جوڑ شادیاں بہت کثرت سے ہوتیں ہیں بہت ساری بچیوں کی غلط رسم رواج کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے جس سے طلاقوکی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا

ہے جیسے وٹہ سٹا کی شادی میں اگر ایک فریق اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو دوسرے فریق کا بسا بسایا گھر خود بخود ہی اجڑ جائے گا ۔اس طرح کی بہت ساری غلط روایات نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کو فروغ دیا ہے اسی طرح لڑکا اپنے پائوں پر ابھی کھڑا نہیں ہوتا بلک ل نکھٹو ہوتا ہے گھر والے اس لیئے اس کی شادی کر دیتے ہیں کہ اس کے سر پر ذمہ داری پڑے گی تو خود بخود ہی ٹھیک ہو جائے گا ،کام کاج کرنے لگے گا ،بہت سارے ماں باپ جھوٹ کا سہارا لے کر اپنے نکھٹو بیٹے کی شادی تو کر دیتے ہیں ،لیکن وہی نکھٹو جب شادی کے بعد کام نہیں کرتا معاملات بگڑ جاتے ہیں گھر میں لڑائی جھگڑا رہتا ہے

اور نوبت طلاق تک آجاتی ہے ۔آجکل طلاق کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک مرد دوسری عورتوں میں دلچسپی رکھتا ہے یا پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کر لیتا ہے یہ بات پہلی بیوی کو ناگوار گزرتی مرد کی دوسری شادی کو نہ پہلی بیوی قبول کرتی ہے نہ لڑکی کے گھر والے بلکہ زیادہ تر تو لڑکے کے گھر والے بھی اس بات کو سخت ناپسند کرتے ہیں جس کی وجہ سے پہلی بیوی خلع لے لیتی ہے یا ایک مرد دو بیویوں کے خرچے برداشت نہیں کر سکتا یا گھر والے اسے دونوں بیویوں میں سے ایک کو طلاق دینے پر مجبور کر دیتے ہیں۔انسان شادی اس لیئے کرتا ہے کہ اس کی نسل آگے بڑھے لیکن جب ایک عورت

میں سے بچے نہیں ہوتے تو مرد فوری طلاق دے دیتا ہے ۔موجودہ دور میں عدم برداشت طلاقوں کی شرح میں اضافی کا بہت بڑاسبب بن رہی ہے عدم برداشت مرد اور عورت دونوں میں پائے جاتے ہیں شادی کے بعد ایک مرد اور بجائے پیار محبت سے رہنے کے جب چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت نہیں کرتے حالانکہ ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے سے ہی کسی بھی رشتہ میں پختگی آتی ہے لیکن آجکل کی نوجوان نسل میں برداشت کی شدید کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے میاں بیوی میں اکثر جھگڑے بڑھ رہے ہیں ایک دوسرے کی بات برداشت نہیں ہوتی اور نوبت طلاق تک آجاتی ہے آجکل بہت ساری طلاقوں کی وجہ عدم

برداشت ہے یہ کچھ پہلو ہیں جن کی وجہ سے طلاقوں کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے اگر ان پہلوئوں پر نظر ثانی کی جائے اور معاشرے کی اصلاح کی جائے ہر انسان پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کی روک تھام کیلئے مثبت رول ادا کرے تو پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاقوں میں کمی کی امید کی جاسکتی ہے لیکن یہ سلسلہ اسی طرح رواں دواں رہا تو ٓنے والے وقتوں میں طلاقوں کی شرح میں مزید اضافہ کے امکان واضح نظر آرہے ہیں ۔طلاقوں کی شرح کو روکنے کیلئے مثبت اقدمات کرنے کی اشد ضرورت ہے ،تاکہ کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔