ٹیکس ادا کرنا کیوں ضروری ہے ۔۔۔ تحریر: عائشہ طارق

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں سب سے کم شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکس کی تعریف یہ ہے کہ ٹیکس ان مالی واجبات کو کہتے ہیں جو حکومت کی طرف سے لوگوں پر لگائے جاتے ہیں، اور ان سے حاصل ہونے والی رقم مواصلات، صحت و تعلیم وغیرہ پر مشتمل مفادِ عامہ کے منصوبوں پر استعمال کی جاتی ہے۔گورنمنٹ ٹیکس ملک کے ہر شخص سے وصول کرکے اس کو ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں قومی خزانہ۔ جب تک عوام ٹیکس ادا کرتی رہے گی تب تک قومی خزانہ خالی نہیں ہوسکتا۔ مگر ہمارے ہاں عوام ٹیکس دینے کو گناہ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا قومی خزانہ خالی ہو

چکا ہے اور ہم قرضوں پر چل رہے ہیں اور دن بہ دن یہ قرضے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ قرضوں کے بڑھنے کا الزام ہم حکومت کو دیتے ہیں مگر اگر توجہ کی جائے تو اس کے اصل ذمے دار ہم لوگ خود ہیں۔ ہم لوگ ٹیکس ادا نہ کر کے اپنے ملک کو مقروض بنا رہے ہیں۔ ٹیکس قومی خزانے میں بھرنے کے بعد اس سے حکومت کے اداروں میں تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ پولیس، فوج، عدلیہ وغیرہ کے دفتر کی تعمیر ہوتی ہے اور ان کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ اسی لیے تو سرکاری ملازم عوام کے ملازم ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تنخواہ taxpayers money سے آتی ہے۔ اس کے علاؤہ اس ٹیکس سے سڑکیں، پل اور دوسرے ترقیاتی کام کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں سرکاری اداروں کی خراب اور ناقص حالت کی بڑی وجہ بھی ٹیکس کی عدم ادائیگی ہے۔ٹیکس حکومت اس لیے مانگتی ہے کہ وہ اجتماعی ترقیاتی منصوبے چلا سکے جو کہ صرف عوام کی جانب سے جمع شدہ ٹیکسوں سے ہی مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ ورنہ تو ملک کی معیشت کی جو صورتحال ہے وہ ہم سب روز سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں کہ ہم نے کئی ہزار ارب روپے تو غیر ملکی قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہیں۔ اگر ہمیں حکومت سے ترقیاتی کام کروانے ہیں تو وہ کام ہمیں اپنے وسائل سے ٹیکس وصول کر کے شروع کرانے ہو گئے ورنہ صورتحال پھر وہی ہو گی کہ حکمران غیر ملکی قرضوں پر عیاشی کرئے گے اور عوام دن بہ دن مقروض ہوتی جائے گی۔ اس ملک کو قرضوں کے سہارے چلنے کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی، اس لیے حکومت کو صرف وہی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے چاہئیں جو انتہائی ضروری ہو اور ان کو اپنے وسائل سے مکمل کرنے کی استعداد ہو۔ ٹیکس کی ایک تھوڑی

سی رقم ٹیکس انتظامیہ پر خرچ ہوتی ہے مگر اصل رقم ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے واپس عوام کے پاس پہنچ جاتی ہے۔میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ جب امریکا میں کوئی بھی ترقیاتی کام ہوتا ہے۔ اس جگہ پر بورڈ لگا دیا جاتا ہے کہ آپ کے ٹیکس کے خرچے سے آپ کے لئے یہ کام ہو رہا ہے اور یہ صرف بورڈ نہیں ہوتا حقیقت ہوتی ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں کوئی چھوٹا موٹا بورڈ بھی نہیں لگایا جاتا اور اگر لگایا بھی جاتا ہے تو اس پر کسی ایم این اے یا ایم پی اے کا نام لکھا ہوتا ہے کہ فلاں کی مہربانی سے عوام کا یہ ترقیاتی کام مکمل ہوا ہے۔پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں کی عوام سب سے زیادہ زکوٰۃ تو دیتی ہے مگر

سب سے کم ٹیکس ادا کرتی ہے۔ ہم اپنی زکوٰۃ اپنے حساب سے دیتے رہتے ہیں۔ ہم لوگ زکوٰۃ دیتے ہیں مگر سرکاری زکوٰۃ فنڈ میں جمع نہیں کراتے اور کٹوتی کے موقع پر بینکوں سے رقوم بھی نکلوا لیتے ہیں ۔ اس لیے کہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری زکوٰۃ کی رقم خورد برد کر لی جاتی ہے۔ عبدالستار ایدھی کہتے تھے کہ میرے لیے روپیہ پیسہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ فلاحی منصوبوں کو چلانے کے انتظامات ہیں۔ کچے مکانوں والے کسی گاوں میں شاندار مسجد تعمیر ہو جاتی ہے اور عمران خان جو کہ آج قوم سے ٹیکس کی اپیل کر رہے ہیں تو اس کی بات سنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ مگر جب اس نے اپنے ہسپتال کے لئے

پیسے مانگے تو پوری قوم نے نوٹ نچھاور کر دیئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اپنے فلاحی منصوبے مکمل کر کے عوام کے لیے پیش کر دیئے۔ مگر اب جب وہ حکومت میں ہیں تو ان کو پاکستانی عوام سے ٹیکس کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ہم رقم دینے والوں کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارا پیسہ ضائع نہیں جائے گا۔ کچھ اور نہ سہی تو ہمیں اللہ کی طرف سے ثواب مل جائے گا۔ مگر جب کہ حکومت کے بارے میں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا پیسہ ضائع ہو گا۔ اور ادھر تو ثواب کا بھی کوئی چکر نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں چور ٹیکس تو نہیں دیتے، مگر ثواب کے لیے صدقے زکوٰۃ میں اپنا

حصہ ضرور ڈالتے ہیں۔اگر ہم سچے دل سے چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے اور ہم غیر ملکی قرضوں سے بھی آزاد ہو جائے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے ادا کرنا ہو گا۔ ٹیکس کی رقم کم کروانے کے لئے دوسروں کی جیبوں کو نوٹوں سے بھرنے کی جائے۔ اس رقم کو ٹیکس کی ادائیگی میں استعمال کرے تو وہ ہمارے لیے بھی بہتر ہو گا اور آیندہ نسلوں کے لئے بھی۔ دن بہ دن مہنگائی بھی ساتویں آسمان پہ پہنچ رہی ہے اس کی وجہ بھی ٹیکس کی عدم ادائیگی ہے۔ اب اگر ہم سیدھے طریقے سے ٹیکس ادا نہیں کرے گے تو ہمارے حکمرانوں کو مہنگائی کی صورت میں انگلی ٹیڑھی کرنی پڑے گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے حصے کا ٹیکس ادا کر کے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصے ڈالے۔