ناموس رسالت پر جان کا نذرانہ ۔۔۔ تحریر: آصف اقبال انصاری

وہ ایک مرتبہ مسیلمہ کذاب کے پڑاؤ کے پاس سے گزرے۔ اس نے بلا کر پوچھا: ” محمد کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے” انہوں نے فرمایا: وہ تو اللہ کے سچے رسول ہیں۔اس جواب پر اس نے کہا : “بول کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں” انہوں نے کہا! تو، تو مردود ہے۔ یہ سن کر وہ ( مسیلمہ) آگ بگولہ ہوگیا اور اپنی تلوار سے ایک ہاتھ کاٹ دیا۔۔پھر اس نے وہی جملہ دوہرایا کہ” بول میں اللہ کا رسول ہوں ” تو جواباً وہی جملہ سننے کو ملا کہ ” تو ، تو مردود ہے۔پھر اس نے دوسرا ہاتھ کاٹ دیا۔یہ صحابی “حضرت حبیب بن زید” (رضی اللہ عنہ) تھے۔ یہ اس بہادر ماں کے بیٹے تھے جو غزوہ احد میں حضور اکرم صلی اللہ

علیہ وسلم کو بچانے کی خاطر کافروں سے لڑی تھیں۔حتی کہ ان کی بہادری وفاداری کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ آپ نے فرمایا:” میں نے جنگ احد میں ام عمارہ کوو اپنے دائیں، بائیں لڑتے دیکھا ” اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں ایک دعا فرمائی:” اے اللہ! ام عمارہ کو جنت میں میرے ساتھ کیجیے گا۔”باوجود دونوں ہاتھ کٹنے کے حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کی محبت رسول پر ثابت قدمی پر ذرہ بھی فرق نہ آیا اور مزید کہنے لگے:”نہیں تو ، تو جھوٹا ہے۔ نبی اکرم آخری نبی ہیں ، آپ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہوسکتا”یہ سن کر مسیلمہ آپے سے باہر ہوگیا اور ایک ایک کر کے ہر عضو کاٹتا گیا، آپ کی تڑپ بڑھتی رہی اور وہ استہزاء کرتا رہا ،یہاں تک کہ جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ لیکن جذبہ ایمانی پر معمولی آنچ بھی نہ آیا۔ جب ان کی شہادت کی خبر ان کی والدہ “ام عمارہ ” کو پہنچی ، تو ان کی شہادت پر رب تعالی کا شکر بجا لائیں۔حضرت حبیب بن زید انصاری صحابی تھے۔ قبیلہ بنو خزرج کے خاندان بنو نجار سے ان کا تعلق تھا۔والد کا نام زید بن عاصم رضی اللہ عنہ تھا۔یہ حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کے زمانہ طفولیت میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ سنہ 3 ہجری میں حضرت حبیب اپنے بھائی “عبداللہ بن زید” اور اپنی والدہ “ام عمارہ” کے ہمراہ جنگ احد میں شریک ہوئے۔۔بعد کے غزوات میں بھی نہایت دلیرانہ شرکت کی ،حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ بعد ازاں جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کردیا ، یوں تو مدعیین نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے میں ہی پیدا ہو گئے تھے۔ مگر کھلم کھلا اب تک اعلان نہیں کیا تھا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ہی عرب کے چالیس ہزار جنگ جو مرتد ہو گئے۔ جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق نے جہاد کیا۔انہی دنوں میں حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ مسیلمہ کذاب کے پڑاؤ کے پاس سے گزرے، اس نے گرفتار کر لیا اور نہایت مظلومانہ طریقے سے شہید کردیا۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)