پاکستان ، انقلاب اندر انقلاب ۔۔۔ تحریر: انشال رائو

انقلاب یا Revolution اچانک بڑی تبدیلی کے معنوں میں مستعمل ہے۔ اگرچہ یہ آج کل حکومت میں اچانک بڑی تبدیلی کے معنوں میں مستعمل نہیں ہے مگر اس اصطلاح کو ماہر فلکیات کوپر نیکس نے اجرام فلکی کی گردش کیلئے استعمال کیا تھا۔اس کے بعد آہستہ آہستہ کسی بھی سماجی ، ثقافتی ، سیاسی ، پیداواری ، علمی تبدیلی کو بھی انقلاب سے تعبیر کئے جانے لگا۔ انقلاب کیلئے انگریزی میں ریولوشن کے علاوہ کودے تا (Coupd,etat)بھی استعمال ہوتا ہے۔ان دونوں میں فرق ہے کہ ریولوشن عام لوگ برپا کرتے ہیں اور ’’کودے تا ‘‘ حکومت کے ارکان یا فوج کی طرف سے آتا ہے۔ پاکستان گزشتہ ستر سالوں سے بدترین آمریت کی لپیٹ میں ہے جو نہ صرف پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہے بلکہ عوام کے حقوق کا

استحصال بھی ہوتا آرہا ہے۔ اگر عہد قدیم پر نگاہ ڈالیں تو Existentialism کی رو سے بادشاہ ہی عوام کے سیاہ و سپید کا مالک تھا۔ قانون انصاف ہر چیز اس کے تابع ہوا کرتی تھی۔ اسی کی منشاء پر پورا نظام چلتا تھا۔ اوپری سطح پر بادشاہ جبکہ اس کے نیچے چند مخصوص طاقتور امرا و جاگیر دار ہوا کرتے تھے۔ وہ بھی اپنی چھوٹی سی جاگیر کے مالک ہوتے تھے ۔ الغرض انسان آزاد پیدا ہو کر بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ فرانس کے انقلاب کے بعد دنیا میں انقلاب در انقلاب آتے گئے اور اس کی جگہ جمہوریت نے لے لی ۔ دنیا ترقیوں کی بلندیوں کو چھونے لگی ۔ جنگ عظیم دوم کے بعد اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا اور مختلف قوانین کا بنائے گئے۔ آج دنیا کے تقریباََ زیادہ ممالک میں جمہوریت ہے ۔ جن ممالک کا ذکر کرکے پاکستان میں جمہوریت کے درس دئیے جاتے ہیں ایک لمحے کو ان ممالک میں جمہوری اقداروں کا مشاہدہ کریں ۔ وہاں کو ئی الیکٹیبلز نہیں ، وہاں نظریات مضبوط ہیں شخصیات نہیں ۔کوئی بھی پارٹی کسی شخص کی جاگیر نہیں ، اسی لئے زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں دو پارٹی سسٹم ہے ۔ کسی بھی شخص کو سیاست کا شوق ہواپنا منصوبہ یا وہ ایسی عوام کے سامنے رکھتا ہے۔ عوام کی سمجھ آئے تو ووٹ دے دیتے ہیں ، نہ آئے تو کسی دوسرے کو چننا پسند کرتے ہیں۔اگر کسی پر کوئی الزام آجائے تو اولاََ از خود احتسا ب کیلئے پیش ہوجاتا ہے، وگرنہ عوام زبردستی گھسیٹ لیتی ہے۔ یہ بھی وہاں کی عوام کے شعور کا خاصہ ہے ۔ امریکہ کی مثال ہی لے لیں ، کل باراک اوبامہ صدر تھا مگر آج اس کا نام تاریخ کا حصہ تو ضرور ہے مگر پارٹی یا کسی اور چیز پر اس کی گرفت نہیں ۔ کبھی نہیں سنیں گے کہ امریکہ ، برطانیہ یا کوئی

بھی ترقی یافتہ ملک ہو کبھی کسی شخص کے نعرے نہیں سنیں گے۔ جیسے ہمارے ہاں نواز شریف ، زرداری ، بھٹو ، اچکزئی یا دیگر سیاستدانوں کے لگتے ہیں ۔ حالانکہ وہاں بھی امراء بڑے بڑے زیرک سیاستدان ، تاجر اور سرمایہ دار موجود ہیں مگر انہیں بت نہیں بنایا گیا ۔ کسی شخصیت کے نعرے لگانے کی بجائے اسی کی پالیسیوں پر بحث کی جاتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں نہ تو کوئی پارٹی کا قائد ہمیشہ زندہ ہے نہ ہی نسل در نسل منتقلی کے قاعدے کے تحت اولاد در اولاد سیاست، وزارت ، حکومت یا پارٹی منتقل ہوتی ہے۔ اس کے بر عکس اگر مشاہدہ کریں تو ہم آج بھی عہد قدیم میں جی رہے ہیں۔ ہر حلقہ ایک یا دو گھرانوں کی ملکیت چلا آرہا ہے ، مختلف جماعتوں کی باگ ڈور بادشاہت کے قانون کے تحت ایک ہی خاندان کے زیر

کنٹرول چلی آ رہی ہے ۔زمانہ قدیم میں بادشاہ یا امراء جسے چاہتے تھے نواز دیتے تھے ، جسے چاہتے زیر عتاب لاتے ، فرامین اس وقت بھی جاری ہوتے تھے ، قوانین تب بھی موجود تھے مگر طاقتور امراء و بادشاہ کی منشاء وہی قانون ہوتے تھے۔ بعینہ ایسا ہی حال پاکستان کا چلا آرہا ہے ۔ ہمارے چند طاقتور خاندان جسے چاہیں نواز دیں جسے چاہیں زیر عتاب لے آئیں۔ فرامین و قوانین کو اسی قدیمی طرز پر استعمال کرتے ہیں، بالکل اپنی مرضی و منشاء کے مطابق ۔ زمانہ قدیم میں بھی عوام کی معاشی حالت چند لوگوں کے رحم و کرم پر ہوا کرتی تھی اور فلاحی ، سماجی ، ثقافتی ، تعلیمی صورتحال بھی ابتر ہوا کرتی تھی بالکل ویسے ہی ستر سال سے پاکستانیوں کا چند خاندانوں کے ہاتھوں نسل در نسل استحصال ہوتا آرہا ہے۔ دستور دنیا چلا

آرہا ہے کہ ہر بار استحصالی نظام کے خلاف انقلابات آتے رہے ہیں ، پاکستان گزشتہ دہائی سے انقلاب اندر انقلاب کی لپیٹ میں ہے۔ ماضی میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لینے کا نام انقلاب تھا ، لیکن آج کل کامیاب کو دیتا یا انقلاب کیلئے ابلاغ عامہ ، سوشل میڈٰا ، اجتماعات وغیرہ کے ذریعے جذبات پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔ عمران خان نے گزشتہ دہائی سے اس کا بھرپور استعمال کیا ہے ۔ اور تعلیمی ، ثقافتی ، سماجی ، معاشی ، پیداواری میدان میں شعور کو بیدار کیا ہے اور عوام خصوصاََ ینگ جنریشن اس سے بہت متاثر ہوئی ہے اور انقلاب در انقلاب کی سی صورتحال ہے اب لوگ اپنے ساتھ نا انصافیوں اور حقوق کیلئے آواز بلند کرنے لگے ہیں ۔ ایک بڑا طبقہ موجودہ روایتی سیاست اور سیاستدانوں سے بھی بیزار نظر آتے ہیں جس کا
اظہار الیکشن میں ملنے والی عمران خان کو پذیرائی کے ذریعے سے کیا اور اب کپتان کرپشن کی بیخ کنی ، میرٹ کا نفاذ ، چوروں ڈاکوئوں کے صفائی سے لے کر ملک کو ایک پرسکون ماحول و نظام دینے کیلئے کوشاں ہے ۔ جس میں بہت سی مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔ جس کے خلاف کپتان ڈٹا ہوا ہے اور امید ہے کہ پاکستان میں کودے تا رونما ہونے والا ہے۔