پرانی ڈگڈگی نئے مداری ۔۔۔ تحریر :انشال رائو

عربی مقولے”تعرف الاشیاء باضداددھا”(چیزوں کی حقیقی معرفت ان کی مخالفت اور متضاد اشیاء کے حوالے سے حاصل ہوتی ہے)کے مطابق اس حالت کا موازنہ کیجئے افغانستان کے ساتھ جو روز اول سے ہی پاکستان کا دشمن ہے اس لئے کہ اس نے ذہنناً اور قلباً پاکستان کے وجود کو ایک دن لئے بھی قبول نہ کیا کون نہیں جانتا کہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اقوم متحدہ میں پاکستان کی ممبر شپ کے خلاف احتجاج کیا جوازاً پاکستان میں پشتونوں کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام لگایا اور پشتون علاقوں کا اپنا ہونے کا دعویٰ کیا جو کہ سراسر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے جس کی نفی خود پشتونوں نے برٹش کے ماتحت ہونے والے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دے کر کیا اس میں 289000سے زائداور مخالفت میں فقط2874ووٹ پڑے پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کے

برعکس افغانستان نے بھارت کو گلے لگایا اور پاکستان کے اندر شورشیں بپا کرنا شروع کردیں جس کے لئے انہوں نے باچا خان اور صمد اچکزئی جیسے لوگوں کا کاندھا استعمال کیا اور ان کے ذریعے نام نہاد پشتونستان تحریک و لرو بر افغان کا نعرہ بلند کیا اس ضمن میں افغان حکومت نے متعدد بار پاکستان میں نہ صرف دہشت گردانہ کاروائیوں کی سرپرستی کی بلکہ دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں بھی دیں افغان آرمی جنرل محمد دائود خان نے شروع سے ہی پاکستان مخالف قوتوں کو سپورٹ کیا اور اس ضمن میں48,55,61کی بلوچ تحریکوں کی سرپرستی و امداد کی اس کے علاوہ 1960کے اوائل میں دائود خان نے پشتونستان کے نام پر پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی بھی کی اور اندرون خانہ دہشت گردی کی کاروائیوں کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات شدید نوعیت پر پہنچ گئے جوکہ 1963میں ایران کی ثالثی سے ایک بار پھر بحال ہوئے اور شاہ افغان ظاہر شاہ نے دائود خان کو ذمہ دار قرار دے کر وزیر اعظم کے عہدے سے معزول کردیاابھی پاکستان سقوط ڈھاکہ کے المیے سے باہر ہی نہیں نکلا تھا کہ اندرا گاندھی نے بیان داغا “کہ جلد ایک اور خوشخبری سنائی جائے گی”اور ساتھ ہی محمد دائود خان کنگ ظاہر شاہ کی غیر موجودگی میں اسے معزول کرکے افغانستان کے تخت پر قابض ہوگیا اور اپنی حکومت کا اعلان کردیا جوکہ پاکستان کے لیے انتہائی خطرے کی گھنٹی تھی خدشات کے مطابق افغانستان ایک بار پھر پاکستان دشمن قوتوں کی آماجگاہ بنا اور پاکستان میں ایک بار پھر شورشیں سر اٹھانے لگیں ایک طرف سندھ میں شدید قسم کی لسانی منافرت سامنے آئی تو دوسری طرف بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی اور دہشت گردانہ کاروائیاں شروع کردیں اس کے علاوہ

پشتون نیشنل ازم کے نام پر پشتونستان تحریک کے گڑے مردے میں جان ڈال دی گئی جسے ذوالفقار بھٹو نے آڑے ہاتھوں لیا نہ صرف جلد ہی اندرونی شورشوں پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگیا بلکہ بیرونی دشمن کو بھی ماتھا ٹیکنے پر مجبور کردیا دائود خان کے قتل کے بعد حفیظ اللہ امین نے باقاعدہ افغان فورسز کی بھارت کے ذریعے ٹریننگ کروانی شروع کردی اور جلد ہی منصوبہ بندی کے تحت سویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوگئیں جس کے بعد ایک طویل جنگ کا آغاز ہوگیا افغان جنگ کے بعد طالبان دور حکومت میں کچھ عرصے کے لئے پاکستان حکومت نے سکھ کا سانس لیا لیکن ستمبر2001کے واقعہ کو بنیاد بناکر عالمی قوتوں نے طالبان حکومت کو ختم کر دیا اور بائیں بازو کے افغان رہنمائوں کو اقتدار سونپ دیا۔ ان کے آتے ہی ایک بار پھر پاکستان کو شدید قسم کی دہشت گردی کا سامنا ہے خواہ وہ بلوچستان میں

علیحدگی کی تحریک ہو یا کراچی میں ٹارگٹ کلنگ یا دوبارہ زندہ ہونے والی پشتو ن نیشنل ازم کی تحریک PTMان سب کے تانے بانے افغانستان سے جوکہ پاکستان دشمن قوتوں کا گڑھ بنا ہوا ہےPTMدرحقیقت وہی پرانی ڈگڈگی ہے جن کو نئے مداریوںکی صورت میں ایک بار پھر پاکستان پر مسلط کردیا گیا ہے جن کا بظاہر نعرہ پشتونوں کے حقوق ہے لیکن پس پردہ وہی پرانا کھیل ہے اگر ایک لمحے کو اس بات کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو پاکستان میں ٹرانسپورٹ ،ہوٹلنگ، الیکٹرونکس و دیگر کاروبار پر پشتون بھائیوں کا غلبہ ہے اس کے علاوہ سول ملٹری اداروں میں پشتونوں کی خاطر خواہ نمائندگی ہے صرف یہی نہیں ہر دور میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں پشتونوں کی واضح پوزیشن رہی ہے جبکہ اس کے برعکس پشتونوں کی زبردستی کی ہمدرد افغان حکومت نے شروع سے ہی پشتونوں کو پسماندگی و محرومی کا شکار رکھا

ہے افغانستان کی آبادی میں پشتون واضح اکثریت میں ہیں لیکن خواہ تعلیمی میدان ہو یا ملازمتیں یا تجارت و کاروبار ہر جگہ پشتون افغانستان میں آٹے میں نمک کے برابر نظر آئیں گے لیکن افغان حکومت اور اس کی کٹھ پتلی PTM کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ پاکستان کو مورود الزام ٹھراتے نظر آتے ہیں اور اس کی آڑ میں پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے اور پروپیگنڈہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے مخصوص زبردستی کے محبان وطن سیاستدان و صحافی صاحبان ان ہی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں جوکہ ناصرف عوام دشمنی بلکہ پاکستان کی سالمیت پر بھی حملہ ہے۔مرزا غالب کے اس شعر کے مصداق کہ۔۔ تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم ـ۔۔۔یرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے۔۔۔اس مرحلے پر تو ان لوگوں سے توکچھ نہیں کہنا جو کسی حقیقی یا واقعی طور پر کسی بیرونی

ایجنڈے کے تحت اور ملک دشمن قوتوں کی شہ پرپاکستان کو توڑنے کے درپے ہوگئے سرِدست ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہم ان تمام لوگوں کو جو پاکستان کی بقا اور سالمیت کے دل سے خواہشمند ہوں خواہ وہ اندرون ملک ہو ں یا باہر، پشتون ہوں یا بلوچ ، مہاجر ہوں یا سندھی،پنجابی ہوں یا کوئی اوردعوت دیتا ہوں کہ پوری دیانت داری کے ساتھ امکانی حد تک غور کریں اور پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔