عافیہ کی رہائی قوم کے دل کی آواز۔۔۔ تحریر: شاہدمشتاق

سولہ سال سے پاکستان کی بے گناہ بیٹی افغانستان اور امریکہ کی جیلوں میں مسلسل ظلم و ستم کا مقابلہ کررہی ہے ۔ اقتدار میں آنے سے پہلے ہر حکمران نے قوم سے اس مجبور بیٹی کی رہائی کا وعدہ کیا لیکن کرسی ملتے ہی عافیہ صدیقی کا نام لینا بھی ان کے نزدیک گناہ بن گیا ۔پاکستان کی اس مجبور بیٹی کو آمرمشرف کے دور میں کراچی سے اغوا کرکے پہلے افغانستان اور پھر امریکہ منتقل کیا گیا ، ایک کمزور سی عورت پہ ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑنا امریکہ جیسے بزدل دشمن کو تو شائد ذیب دیتا ہو لیکن بطور مسلمان کیا ہمارے حکمرانوں پہ اس بیٹی کی رہائی کے لئے کوششیں کرنا لازم نہیں ؟ ۔ ن لیگ ، پی پی پی اور تحریک انصاف سب نے اقتدار میں آنے سے پہلے عافیہ صدیقی کو فرعون وقت کی قید سے رہائی دلانے کے وعدے کئے اور حلف اٹھاتے ہی آنکھیں پھیر لیں ۔ پچھلے چند ہفتوں سے افغان طالبان کی بدولت ایک

بار پھر امید بندھ چلی تھی کہ شائد اب عافیہ کو اپنے بچوں اور بوڑھی ماں کے ساتھ رہنا نصیب ہوجائے گا ۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے قریبی ساتھی اور عافیہ موومنٹ کے گلوبل کوآرڈینیٹر محمد ایوب خان ان چند گنے چنے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو پچھلے ڈیڑھ عشرے سے مسلسل عافیہ صدیقی کی رہائی کےلئے کوششیں کررہے ہیں، کچھ دن پہلے انہوں نے فون پہ بتایا کہ ” ہم پرامید ہیں کہ ہماری بہن بہت جلد یہاں اپنے ملک میں اپنوں کے بیچ موجود ہونگی ان شاءاللہ” ان کا کہنا تھا کہ ” رہائی کا فیصلہ ہوچکا ہے امریکہ میں موجود پاکستانی سفارت خانہ عافیہ کی فیملی سے رابطے میں ہے ، اب یہ بات نہیں کہ وہ رہا کی جارہی ہیں یا نہیں ؟ ، بلکہ اب تو بات یہ ہے کہ انہیں کب لایا جارہا ہے ، رہائی میں اب کوئی رکاوٹ نہیں اب صرف پاکستانی حکمرانوں کی سستی اور غفلت کے باعث وہ وہاں دن گزارنے پہ مجبور ہیں “۔ایک ماں سولہ سال سے اغیار کی جیلوں میں سڑ رہی ہے ،وہ حالت قید میں بیمار ہے کمزور ہے ، اس کے بچے اب جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھنے والے ہیں ، بوڑھی ماں رو رو کے تھک گئی ہے ، پرعزم بہن کا ہر فورم پہ چلا چلا کر گلا خشک ہوچکا ہے ، پاکستان کا ہر درد مند دل اس کے لئے اداس بھی ہے اور رب کائنات سے دعا گو بھی۔ہمیں اس سے مطلب نہیں کہ وہ طالبان کی مددسے رہا ہوتی ہیں یا پاکستانی حکومت کی کوششوں سے (جو ان کی رہائی میں معاون بنیں گے بے شک ان کا اجر اللہ کے ذمہ ہے) اب جبکہ امریکہ بھی انہیں رہا کرنے کے لئے آمادہ نظر اتا ہے تو جلد انہیں پاکستان لانا چاہئے ۔ تحریک انصاف کی حکومت غلط اقدامات اور غیر مناسب پالیسی کی وجہ سے بڑی تیزی سے عوامی حمائت کھو رہی ہے ، اپوزیشن جماعتیں اگرچہ متحد ہوتی نظر نہیں آرہیں ،تاہم وزیراعظم کا ایم کیو ایم جیسی جماعت کی تعریف کرنا اور انہیں رام کرنے جیسی کوششیں عمران خان کی بڑھتی ہوئی مشکلات کی طرف واضح اشارہ ہیں ۔ ایسے میں اگر موجودہ حکومت سنجیدگی

سے ڈاکٹر صاحبہ کی رہائی کے لئے کوئی قدم اٹھائے اور انہیں امریکی قید سے نجات دلا کر پاکستانی لے آنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو میں سمجھتا ہوں جہاں یہ نیکی آخرت کے لئے ایک بڑا ذخیرہ ہوگی وہیں ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں بھی بڑی مددگار ثابت ہوگی ۔ جناب وزیراعظم !خدارا پوری قوم کے دل کی آواز سنئیے ، ایک بوڑھی عورت کو اس کی بے گناہ بیٹی ، اور ایک ماں کو اس کے معصوم بچوں سے ملا دیجئے۔ آپ ایک ایٹمی قوت کے حامل ملک کے سربراہ ہیں ، آپ کے فیصلوں میں آپ کی خود اعتمادی جھلکتی ہے ، آپ ایک بار پورے خلوص کے ساتھ جدوجہد کرکے کسی بھی طرح پاکستان کی بیٹی کو گھر لے آئیں ، یہ قوم آپ کو ملک کا مقبول ترین لیڈر بنادے گی۔ حکمران ملک و قوم کا باپ ہوتا ہے اور بیٹیاں ہر باپ کا فخر ، جب تک آپ کی بیٹی پاکستان کی پہلی نیوروسرجن امریکہ کی قید میں ہے دنیا آپ کی طاقت اور غیرت کو تسلیم نہیں کرے گی، آپ ایک غیرت مند بہادر قوم کے سربراہ ہیں اور قوم آپ سے بھی پٹھانوں کی سی روائتی جرات اور غیرت کی امید رکھتی ہے ۔