امریکہ اپنی ظالمانہ پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔۔۔ تحریر: مقصود انجم کمبوہ

مطلق العنانیت یا یک حزبی نظام کی تحریکیں دنیا میں پہلے ہی رہی ہیںاور اب بھی موجود ہیں،عدم رواداری ،مطلق العنانیت،تشدد اور قتل کے واقعات صرف نیشنل سوشلزم کے لیے مخصوص نہیں ہیں،بہرحال اس زمانے میں جو کچھ ہوا ،اس کی واقعتا کہیں مثال نہیں ملتی،وہ سب انتہائی پاگل پن اور غیر انسانی تھاکیونکہ اپنے سوا دیگر تمام نسلی گروپوں کو نیم بشر انسانی نسل سے کم تر شے سمجھ کر انہیں تمام انسانی حقوق سے محروم کردیا گیا تھااور ہر منظم انداز میں انتہائی سفاکی سے انہیں موت کے گھاٹ اتاردیا گیا،نازیوں کو اختیار مطلق حاصل تھا کہ وہ کسی جواز کے بغیرجسے چاہیںزندہ رہنے دیںاور جسے چاہیں ماردیں،انہیں کسی قاعدے قانون کی پرواہ نہیں تھی،ان کے مظالم کا نشانہ بننے والے مظلوم اور مقہور لوگوں کے لیے اپنا دفاع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی تھی،ان پر طرح طرح کے بے بنیاد الزامات

لگاکر انہیں غیر انسانی مخلوق،انسانی جُونک اور اسی قبیل کے بے بنیاد الزام لگاکر موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا تھا،نازیوں نے جن گروپوں اور نسل کے لوگوںکو دھرتی کا بوجھ قرار دیا تھاان میںیہودیوںاور خانہ بندوشوں کے علاوہ کئی اور گروپ بھی شامل تھے،اس پالیسی کے انتہائی ہولناک نتائج برآمد ہوئے کیونکہ مسلسل زہریلے پروپیگنڈے نے عام لوگوں کے ذہنوں کو بھی مسموم کردیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام لوگوں نے بھی نازیوں کے زیر عتاب لوگوں اور گروپوںکے خلاف امتیازی سلوک سے لے کر ہلاکت تک کے واقعات کو جائز اور معمول کی کارروائی سمجھنا شروع کردیا،اچھے اچھے سنجیدہ اور شریف آدمیوںنے بھی خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی اور چپ سادھ لی،ظلم کے ساتھ ساتھ ڈھٹائی اس حد تک بڑھ گئی کہ نازیوں نے اپنے زیرعتاب بے گناہ لوگوںکو ان کے ناکردہ گناہوں پر دی جانے والی سزائوں کی روداداخبارات میں شائع اور ریڈیو کے ذریعے نشر کرنا شروع کردی،انہیں جائز قرار دینے کے لیے یہ دلیل دی جاتی ،بے رحمانہ کارروائیوں کوفخریہ بیان کیا جاتاکہ انقلاب صوفے پر بیٹھ کر نہیں آیا کرتے،یہودیوں کا قافیہ تنگ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جانے لگا،یہودی نسل کے تمام معروف ججوں،سرکاری عہدیداروں کو نوکریوں سے فارغ کیا جانے لگا،وکیلوں،ڈاکٹروں اور تاجروں کو کاروبار کرنے سے روک دیا گیا،ملک کے شہروں کو دودرجوں میں بانٹ دیا گیا،کچھ لوگ جرمنی کے اور کچھ جرمن سلطنت کے شہری قرار دئیے گئے۔ایڈولف ہٹلرکے ہاتھوں شروع ہونے والی دہشت گردی آج عروج پر ہے،ہٹلرنے ابتداکی پھرمودی ،نیتن یاہواور ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہا کردی،ہر مذہب میں انتہا پسندوں کا جنم جاری ہے،نازی ازم آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے،اسلامی جہادی تنظیموں کاقیام بھی مغربی قوتوں کی شہ پر

ہوااور قتل و غارت گری کا سلسلہ بھی مغربی قوتوںکی ایماء پر جاری و ساری ہے،یہ نہ ختم ہونے والا عمل ہے،ہٹلر نے تو ایک مخصوص طبقے کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا جبکہ مغربی قوتوں نے مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے،نیوزی لینڈ میں ہونے والا دہشت گردی کا سانحہ کوئی معمولی بات نہیںہے،اس کی تفتیش و تحقیق کی جائے تو اس میں کوئی بڑی طاقت کے ملوث ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا،نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے شہید ہونے والے مسلمانوں کی دکھ کی رگ پر جو ہاتھ رکھا ہے وہ قابل تحسین عمل ہے جبکہ امریکہ نے کسی بڑے دکھ کا اظہار نہیں کیا،صلیبی جنگوں کا نعرہ لگانے والوں کو بھولنا نہیں چاہئیے کہ یہ جنگ امریکی و برطانوی سربراہوں کی شروع کی ہوئی ہے،جنہوں نے اس کی ابتدا کی ہے،سانحہ ستمبر بھی مغربی قوتوں کی شیطانی حرکت تھی،جس نے ہٹلر کو بھی

مات کرکے رکھ دیا ہے،افغانیوں،عراقیوں،شامیوں کے قاتلوں نے ایسا سلسلہ جاری کیا ہے کہ جو اب رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کے پیچھے شیطانی قوتوں کا ہاتھ ہے،دہشت گردی کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں،پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آچکی ہے،نیوزی لینڈ جیسے پرامن ملک میں اس گھنائونے واقعے سے پتا چلتا ہے کہ ،کوئی ہے شیظانی قوت ،جو ہٹلر کی تقلید میں اندھی ہوچکی ہے،امریکہ،برطانیہ، جرمن،فرانس،اٹلی ،سویڈن ،بھارت ،روس کے علاوہ کئی اورملکوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں،مسلمانوں پر انگلی اٹھانے والوں کوشرم آنی چاہیئے ورنہ پوری دنیا بدامنی کا شکار ہوکر رہ جائے گی،خاص طور پر امریکی پالیس سازوں کو اپنی پالیسیوں پر طاہرانہ نظر ڈالنی ہوگی اور اپنی قاتلانہ اور ظالمانہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی،ورنہ وہ دن دور نہیں جب اس

کے گھر میںبھی ایسی آگ لگ سکتی ہے کہ جو بجھنے کا نام نہیں لے گی،امریکہ کئی ریاستوں میں بٹ جائے گا،بھارت میں یہ عمل شروع ہوچکا ہے،نریندر مودی کی لگائی ہوئی آگ میں پورا بھارت جل کر راکھ ہوجائے گااور پھر کوئی بچانے والا نہیں ہوگا،عوامی قوتوں کو چاہیئے کہ وہ ایسے ظالموں،قاتلوں کا فوری حساب لیں،بھارت کے حکمران جانتے ہیں کہ ایٹم بموں سے لیس دونوں ممالک کہاں تک پہنچ سکتے ہیں،ذرا سی غفلت سے پورا خطہ جل کر راکھ ہوسکتا ہے،بھارت کو جرمن تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئیے اور اس کی پالیسیوں کی تقلید کرتے ہوئے پڑوسیوں کے حقوق اور مفادات کا پاس کرنا چاہیئے ،وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے،ہمیں جل کر مرنے سے بہتر ہے کہ دونوں ممالک کو ترقی یافتہ بن کر اپنے عوام کی ترجیحات اور مراعات کا خیال کریں،اسی میں ہی ہم سب کی فلاح اور بقاء ہے۔