ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی جیت:کس ٹیم کو ٹیسٹ میں پہلی کامیابی کب ملی۔۔۔ تحریر: یوسف انور

افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے انڈیا کے شہر دہرہ دون میں آئرلینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر ٹیسٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی ہے۔اس میچ میں افغانستان کے بیٹسمین رحمت شاہ نے کلیدی کردار ادا کیا اور انھیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اس پہلی اور تاریخی جیت میں وہ پہلی اننگز میں سنچری نہ بنا سکے اور 98 رنز پر آؤٹ ہوگئے جبکہ دوسری اننگز میں بھی انھوں نے نصف سنچری سکور کی۔افغانستان کے سٹار بولر راشد خان نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ مجموعی طور پر سات وکٹیں حاصل کیں۔افغانستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی کامیابی اپنے دوسرے ہی میچ میں حاصل ہوئی لیکن انھیں اس کے لیے 277 دن انتظار کرنا پڑا کیونکہ انھیں ٹیسٹ کھیلنے کا زیادہ موقع حاصل نہیں ہوتا۔یہ آئر لینڈ کا بھی دوسرا میچ تھا۔ آئر لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن ان کی پوری ٹیم پہلے ہی دن

172 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جس کے جواب میں افغانستان نے 314 رنز بنائے اور 142 رنز کی سبقت حاصل کر لی۔ دوسری اننگز میں آئر لینڈ نے بالبرنی اور اوبرائن کی نصف سنچریوں کی بدولت 288 رنز بنائے اور جیت کے لیے 147 رنز کا ہدف دیا جسے آفغانستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر رحمت شاہ اور احسان اللہ کی نصف سنچریوں کی بدولت بہ آسانی حاصل کر لیا۔پاکستان اور انگلینڈ کے بعد افغانستان تیسری ٹیم ہے جس نے اپنے دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ٹیسٹ میچز کی تاریخ میں آسٹریلیا وہ واحد ٹیم ہے جس نے اپنے پہلے ہی میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کس ٹیم نے کب اور کس میچ میں پہلی کامیابی حاصل کی۔آسٹریلیا:آسٹریلیا وہ واحد ٹیم ہے جس نے اپنے پہلے ہی میچ میں کامیابی حاصل کی۔ یہ میچ 15 سے 19 مارچ سنہ 1877 میں ہوا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا میچ تھا اور آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں کھیلا گیا۔ اس میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر اپنی پہلی اننگز میں اوپنر بینر مین کی سنچری (165) کی بدولت 245 رنز بنائے۔ انگلینڈ کے بولرز اے شا اور جے ساؤتھرٹن نے تین تین وکٹیں لیں۔مڈونٹر کی تباہ کن بولنگ کے سبب انگلینڈ کی پہلی اننگز 196 رنز پر سمٹ گئی لیکن انگلینڈ نے دوسری اننگز میں آسٹریلیا کو صرف 104 رنز پر آوٹ کر دیا۔ اے شا نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ انگلینڈ کے سامنے جیت کے لیے 154 رنز کا ہدف تھا لیکن پوری ٹیم ٹی کے کینڈل کی تباہ کن بولنگ کے سبب 108 رنز پر سمٹ گئی اور آسٹریلیا نے 45 رنز سے یہ مقابلہ جیت لیا۔ کینڈل نے سات وکٹیں لیں۔انگلینڈ:انگلینڈ نے پہلے میچ کی ہزیمت کے بعد اپنے آپ کو سنبھال لیا اور میلبرن میں ہی کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں جیت حاصل کی۔ یہ میچ 31 مارچ سے چار اپریل کے درمیان کھیلا گیا۔

ایک بار پھر آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن وہ انگلینڈ کی تباہ کن بولنگ کے سامنے محض 122 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ ڈبلیو مڈونٹر نے سب سے زیادہ 31 رنز بنائے جبکہ اے ہل نے 30 رنز کے عوض چار وکٹیں لیں۔انگلینڈ نے جواب میں 261 رنز بنا کر اہم سبقت حاصل کر لی۔ انگلینڈ کے دو کھلاڑی 49 رنز پر آؤٹ ہوئے جبکہ اولیٹ نے سب سے زیادہ 52 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کی جانب سے کینڈل نے چار اور سپوفورتھ نے تین وکٹیں حاصل کیں۔آسٹریلیا نے بھی دوسری اننگز میں خود کو سنبھال لیا اور 259 رنز بنائے۔ جیمس اور ساؤتھرٹن نے چار چار وکٹیں لیں۔ انگلینڈ کے سامنے 121 رنز کا ہدف تھا جو اس نے اولیٹ کی نصف سنچری کی بدولت چھ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور چار وکٹ سے اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔یہ میچ بھی چوتھے دن ختم ہو گیا حالانکہ اس زمانے میں دنوں کی کوئی

قید نہیں تھی جو ٹیم جتنے دن چاہے کھیل سکتی تھی۔ اور اس وقت چار گیندوں کا ایک اوور ہوا کرتا تھا۔پاکستان:پاکستان کو 16 اکتوبر سنہ 1952 میں ٹیسٹ ٹیم کا درجہ حاصل ہوا۔ اس وقت ٹیسٹ چار دنوں کا ہونے لگا تھا۔ پاکستان دہلی میں ہونے والے میچ میں شکست سے دوچار ہوا لیکن اس نے اپنے دوسرے ہی میچ میں انڈیا کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ یونیورسٹی گراؤنڈ لکھنؤ میں انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم 106 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پنکج رائے نے سب سے زیادہ 30 رنز بنائے جبکہ فضل محمود نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں نذر محمد کی سنچری (124) کی بدولت 331 رنز بنائے اور 225 رنز کی اہم سبقت حاصل کر لی۔ انڈیا کی ٹیم ایک بار پھر فضل محمود کی تباہ کن بولنگ کے سامنے بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم 182 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان نے یہ

میچ ایک اننگز 43 رنز سے جیت لیا۔ فضل محمود نے 42 رنز کے عوض سات وکٹیں لیں۔ویسٹ انڈیزویسٹ انڈیز کو 23 جون سنہ 1928 میں ٹیسٹ ٹیم کا درجہ دیا گیا۔ ویسٹ انڈیز نے اپنا پہلا میچ انگلینڈ کے خلاف لارڈز کے میدان میں کھیلا لیکن ویسٹ انڈیز کو پہلی کامیابی چھٹے میچ میں ملی جب اس نے جارج ٹاؤن میں مہمان ٹیم کو شکست دی۔ ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور کلف فورڈ روش کی ڈبل سنچری (209) اور ہیڈلی کی سنچری کی بدولت ویسٹ انڈیز نے 471 رنز بنائے اور میزبان ٹیم کو محض 146 رنز پر آؤٹ کر دیا اور پہلی اننگز میں 326 رنز کی بڑی سبقت حاصل کر لی۔دوسری اننگز میں ہیڈلی نے ایک بار پھر سنچری بنائی اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 617 رنز کا بڑا ہدف دیا۔ انگلینڈ کی جانب سے ایک بار پھر ہنڈرن دیوار بن کر کھڑے نظر آئے۔ اس بار انھوں نے سنچری سکور کی لیکن

انگلینڈ کی ٹیم ہدف سے 289 رنز پیچھے رہ گئی اور ویسٹ انڈیز کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔ زمبابوے:زمبابوے کو 18 اکتوبر سنہ 1992 کو ٹیسٹ ٹیم کا درجہ دیا گیا۔ اس نے انڈیا کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا اور یہ میچ کسی فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔ زمبابوے کو اپنی پہلی کامیابی پاکستان کے خلاف ملی۔ یہ اس کا 11 واں میچ تھا۔ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور گرانٹ فلاور کی ڈبل سنچری اور اینڈی فلاور اور وھٹال کی سنچریوں کی بدولت انھوں نے اپنی پہلی اننگز چار وکٹوں کے نقصان پر 544 رنز بناکر ڈیکلیئر کر دی۔وسیم اکرم کو ایک جبکہ عاقب جاوید کو دو وکٹیں ملیں۔ جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 322 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی۔ عامر سہیل، اعجاز احمد اور انضمام الحق نے نصف سنچریاں بنائیں۔ پاکستان کو فالو آن کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی پوری ٹیم 158 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ انضمام نے پھر نصف سنچری

بنائی۔ ہیتھ سٹریک نے پہلی اننگز میں چھ جبکہ دوسری اننگز میں تین وکٹیں لیں۔جنوبی افریقہ:جنوبی افریقہ تیسری ٹیم تھی جسے ٹیسٹ درجہ ملا تھا۔ اس نے 12 مارچ 1889 کو اپنا پہلا ٹیسٹ کھلا لیکن اسے 17 سال بعد اپنے 12 ویں میچ میں کامیابی ملی۔ یہ میچ دو جنوری سنہ 1906 کو شروع ہوا اور تین دنوں میں ختم ہو گیا۔ انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن پوری ٹیم 184 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی۔ کرافورڈ نے سب سے زیادہ 40 رنز بنائے۔ جواب میں جنوبی افریقہ صرف 91 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور انگلینڈ کو اہم سبقت حاصل ہوئی۔ دوسری اننگز میں انگلینڈ نے 190 رنز بنائے اور ایک بار پھر کرافورڈ نے اہم کردار ادا کیا۔جنوبی افریقہ کو 284 رنز کا ہدف ملا جو اس نے جی سی وائٹ اور اے نورسے کی بہترین بیٹنگ کے سبب نو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور ایک وکٹ سے تاریخی فتح حاصل کی۔

سری لنکا:سری لنکا کو 17 فروری سنہ 1982 کو ٹیسٹ ٹیم کا درجہ دیا گیا۔ اسے اپنے 14 ویں میچ میں کامیابی ملی۔ یہ میچ انڈیا کے خلاف کولمبو میں کھیلا گیا۔ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے املا سلوا کی سنچری کی بدولت 385 رنز بنائے۔ انڈیا کی جانب سے چیتن شرما نے پانچ وکٹیں لیں۔جواب میں انڈیا کی ٹیم 244 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ سری لنکا نے دوسری اننگز تین وکٹ پر 206 رنز بناکر ڈیکلیئر کر دی اور انڈیا کو 348 رنز کا ہدف دیا لیکن انڈیا محض 198 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی اور سری لنکا نے یہ میچ 149 رنز سے جیت لیا۔انڈیا:انڈیا کو ٹیسٹ ٹیم کا درجہ سنہ 1932 میں ہی مل گیا تھا لیکن اسے اپنی پہلی جیت کے لیے 25 میچوں اور تقریباً 20 سال کا طویل انتظار کرنا پڑا۔ انڈیا نے اپنا پہلا میچ انگلینڈ کے خلاف ہی کھیلا تھا جس میں اسے شکست ہوئی لیکن پھر اسی کے خلاف پہلا میچ جیتا بھی۔ یہ

میچ سنہ 1952 میں فروری کے پہلے ہفتے میں ہوا۔ انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور 266 رنز بنائے۔ مانکڈ نے آٹھ وکٹیں لیں۔انڈیا نے جواب میں پنکج رائے اور پالی امریگر کی سنچریوں کی بدولت نو وکٹوں پر 457 رنز بنائے۔ اس کے جواب میں انگلینڈ اپنی دوسری اننگز میں صرف 183 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی۔ غلام احمد اور مانکڈ نے چار چار وکٹیں لیں۔ اور انڈیا نے ایک اننگز اور آٹھ رنز سے فتح حاصل کی۔بنگلہ دیش:بنگلہ دیش کو سنہ 2000 میں ٹیسٹ ٹیم کا درجہ ملا لیکن اسے پہلا میچ جیتنے میں 35 میچ لگ گئے۔ اس نے پہلا میچ زمبابوے کے خلاف جیتا۔ یہ میچ سنہ 2005 میں جنوری کے پہلے ہفتے میں کھیلا گیا اور بنگلہ دیش نے 226 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ پہلی اننگز میں بنگلہ دیش نے 488 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں نو وکٹوں پر 204 رنز بناکر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ زمبابوے اپنی پہلی اننگز میں 312 رنز بنا سکی جبکہ دوسری اننگز میں صرف 154 رنز ہی بنا سکی۔ انعام الحق نے دوسری اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کیں۔نیوزی لینڈ:نیوزی لینڈ کو اپنی پہلی جیت حاصل کرنے میں 45 ویں میچ تک انتظار کرنا پڑا۔ اسے سنہ 1930 میں ٹیسٹ ٹیم کا درجہ ملا تھا لیکن پہلی جیت سنہ 1956 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف حاصل ہوئی۔نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم 255 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی لیکن جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم 145 رنز ہی بنا سکی جس کے سبب اسے 110 رنز کی سبقت حاصل ہو گئی۔ نیوزی لینڈ اپنی دوسری اننگز میں نو وکٹوں پر 157 رنز بناکر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ اور ویسٹ انڈیز کو 268 رنز کا ہدف دیا لیکن ویسٹ انڈیز اسے حاصل کرنے میں ناکام رہی اور ان کی پوری ٹیم 77 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اس طرح نیوزی لینڈ کو 190 رنز سے فتح نصیب ہوئی۔