قراردادلاہورسے یوم پاکستان کاسفر۔۔۔ تحریر:محمدصہیب فاروق

ہندواورمسلم فرقے نہیں بلکہ دوقومیں ہیں اس لئے ہندوستان میں پیداہونے والے مسائل فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی نوعیت کے ہیں ۔ہندوستان کے مسلمان آزادی چاہتے ہیں لیکن ایسی آزادی نہیں جس میں وہ ہندوئوں کے غلام بن کررہ جائیںیہاں مغربی جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ ہندوستان میں صرف ایک قوم نہیں بستی چونکہ یہاں ہندواکثریت میں ہیںاس لئے کسی بھی نوعیت کے آئینی تحفظ سے مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوسکتی ان مفادات کاتحفظ صرف اس طرح ہوسکتاہے کہ ہندوستان کوہندواورمسلم میں تقسیم کردیا جائے ۔ہندومسلم مسئلے کاصرف یہی حل ہے اگرمسلمانوں پراگرکوئی اورحل ٹھونساگیاتووہ اسے کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے ‘‘یہ وہ تاریخی الفاظ تھے جوقائداعظم محمدعلی جناح ؒنے 22مارچ 1940ء کومنٹوپارک )گریٹراقبال پارک ) لاہورمیں آل انڈیامسلم لیگ کے تین روزہ

اجلاس کے پہلے روزخطاب کے دوران فرمائے تھے اوراس کے بعدسرشاہ نوازخان ممدوٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا انہوں نے کہاکہ یورپی ممالک ایک مذہب ایک جیسی ثقافت اوربوووباش رکھتے ہیں اس کے باوجودایک دوسرے کے تسلط کو قبول کرنے کے لئے تیارنہیں ۔ہم رنگ ،نسل ،ثقافت ،مذہب ہرطرح کے امتیازہوتے ہوئے کسی کاغلبہ کیسے قبول کرلیں ؟انہوںنے مزیدکہاکہ ایک مقبول عام حکومت کوعمدہ اورمئوثر طورپرچلانے کے لئے اکثریت کو چاہئے کہ وہ اقلیتوں کومطمئن کرے اورہرممکن طریقے سے انکے اندراعتمادپیداکرنے کی کوشش کرے ۔جبکہ قرارداد پاکستان شیربنگال مولوی فضل حق نے پیش کی یوپی سے چوہدری خلیق الزمان ،پنجاب سے مولانا ظفرعلی خان ،سرحد سے سرداراورنگزیب خان ،سندھ سے سرعبداللہ ہارون ،صوبہ بہارسے خان بہادرنواب سید محمداسماعیل ،بلوچستان سے قاضی محمد عیسی نے نمائندگی کی ۔اگلے روز23مارچ 1940ء کومتفقہ طورپریہ تاریخی قراردادمنظورکرلی گئی بعدازاں اپریل 1941ء میں قراردادلاہورکومدارس میں منعقدہ مسلم لیگ کے اجلاس میں جماعت کے آئین میں شامل کرلیاگیاجہاں سے تحریک پاکستان منظم شکل میں شروع ہوئی7اپریل 1946ء کودلّی کے تین روزہ کنونشن میں پاکستان کے مطالبے کے لئے باقاعدہ طورپرعلاقوں کی نشاندہی کی گئی ۔لیکن اس تقسیم کے دوران حکومت برطانیہ اوربھارت کی ملی بھگت کے نتیجہ میں شمال مغرب میں واقع مسلم اکثریتی علاقہ کشمیرکاذکرنہ کیاگیا چنانچہ شب وروزکی محنت ومشقت کے بعدمسلمانوں نے قائداعظم محمدعلی جناح ؒکی قیادت میں کرہ ارضی پرپاکستان کے نام سے ایک آزادوخودمختاراسلامی ریاست حاصل کرلی ۔1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام سے لیکر29دسمبر1930ء کوشاعرمشرق علامہ محمداقبال ؒکے مسلمانوں کے لئے ایک

آزادخودمختارریاست کاتصورپیش کرنے اورمسلم لیگ کی جانب سے 23مارچ 1940ء کوقراردادلاہورکی منظوری وہ سلسلۃ الذہب جس کے صلہ میں برصغیرکے مظلوم ومقہورمسلمانوںکواپنے خوابوں کی تعبیرملی ۔1956 ء میں اس وقت کے وزیراعظم چوہدری محمدعلی نے گورنرجنرل سے آئین کی منظوری حاصل کرکے 23مارچ 1956ء کواسے نافذالعمل قراردے دیااوراسی مناسبت سے 23مارچ کوس ’’یوم جمہوریہ ‘‘کانام دیاگیا،بعدازاں 1958ء کے مارشل لاء میں اسے ’’یوم پاکستان ‘‘کانام دے دیاگیااوراس وقت سے آج تک یہ دن یوم پاکستان کے نام سے انتہائی تزک واحتشام سے منایاجاتاہے۔اورپورے ملک میں اس روزعام تعطیل ہوتی ہے ۔یوم پاکستان کی مناسبت سے ہرسال خصوصی تقریب میں مسلح افواج کے دستے پریڈکرتے ہیں اورپاکستان کی عسکری صلاحیت کا پھرپورطریقہ سے مظاہرہ کیاجاتاہے صدرپاکستان

اوروزیراعظم مہمان خصوصی ہوتے جبکہ دوسرے ممالک سے بھی چندقابل احترام مہمانوں کومدعوکیاجاتاہے ۔یوم پاکستان میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے لئے لازوال قربانیاںپیش کرنے والی شخصیات کو خراج تحسین پیش کیاجاتا ہے اوراس کے علاوہ عسکری قوت کی نمائش کے ذریعے پاکستان کے دشمن عناصرکویہ پیغام دیناہے کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی اورہتھیاروں سے لیس ہوکراپنے مضبوط دفاع کے لئے ہمہ وقت تیارہے اورملک عزیزکی سالمیت پرکسی قسم کاسمجھوتہ کرنے کوروانہیں رکھتا۔یوم پاکستان تجدید عہد کادن ہے قائد اعظم محمدعلی جناح ؒاورتحریک پاکستان کے ہرمجاہدنے قربانیوں کی جوتاریخ رقم کی اس کا شکریہ ہے کہ جس عظیم مقصد کے لئے یہ پاک سرزمین حاصل کی گئی اس کانفاذہو ،مسلمان آپس میں بھائی بھائی بن کررہیں آزادی کی پرسکون ومعطرفضائوں میںہم اپنے دین ومذہب کے

احکامات کی بجاآوری کویقینی بنائیں ۔اخلاقی اقداروروایات کی پاسدار ی کریں پاکستان پور ی دنیامیںبسنے والے سینکڑوں مسلمانوںکے لئے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے حرمین شریفین کے بعدعالم اسلام کی امیدوںکامحورہے ۔پاک فوج دنیاکی بہترین فوج ہے جوصرف پاکستان ہی نہیں بلکہ اقوام عالم کے ہرکلمہ گوکی محافظ اورامن کی ضامن ہے 14اگست 1947ء کوقائدا عظم ؒکی قیادت میں مسلمانان برصغیرنے اپناتن من دھن قربان کرکے جو وطن حاصل کیا تھا ہمیںبنظرغائرااس بات کا جائزہ لیناہوگاکہ آیاآج وہ پاکستان موجودہے یا نہیں ان شہداء کی روحیں آج بھی ہمیں چیخ چیخ کریہ کہہ رہی ہیں ۔۔ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے ۔۔اس ملک کورکھنا میرے بچوسنبھال کے۔۔۔دیکھوکہیں اجڑے نہ ہمارایہ باغیچہ۔۔اس کولہوسے اپنے شہیدوں نے ہے سینچا۔۔۔اس کوبچانا جان مصیبت میں ڈال کے۔